Al-Risala · November 2024

اعتصام باللہ ہدایت کا ذریعہ

Al-Risala, November 2024, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک قاری الرسالہ نے سوال کیا ہے کہ قرآن کی ایک آیت ہے: ﴿وَ‌مَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلٰى صِرَاطٍ مُسْتَقِيْمٍ﴾ (3:101)۔ اس آیت کے مطابق اعتصام باللہ سے صراط مستقیم کی ہدایت حاصل ہوتی ہے۔ اس کی شکل کیا ہے۔ (مولانا فیاض الدین عمری، گلبرگہ، کرناٹک) قرآن کی مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہے "جو شخص اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو وہ پہنچ گیا سیدھی راہ خدا سے تعلق کی بنا پر ہدایت ملنے کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں فطرت کے شواہد بیان کیے گئے یہ شواہد اللہ رب العالمین کی معرفت تک پہنچانے والے ہیں۔ مثلاً سورہ آل عمران کی آیات اس طرح کی آیتیں فطرت کی زبان میں خالق کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔ چنانچہ جب فطرت کی یہ نشانیاں دریافت ہوئیں، تو ایک علم وجود میں آیا، جس کو نظریاتی سائنس (theoretical science) کہا جاتا ہے۔ یہ سائنس خالق کی دریافت کا ذریعہ ہے۔ زمانے میں ایک کتاب لکھی گئی، جس کو کیرالا کے ایک کرسچن مشنری نے چھاپا تھا، اس کتاب کا ٹائٹل یہ تھا:

Printed page