19 اپریل 1986
Al-Risala, January 2024, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب جماعت اسلامی کے پرانے رکن ہیں۔ وہ جماعت کی مجلس نمائندگان کے ممبر وہ مجلس نمائندگان کے اجتماع کے تحت دہلی آئے تھے۔ اس درمیان وہ مجھ سے بھی ملنے کے لیے آئے۔ ان سے گفتگو کے دوران ہندوستان کے ایک معروف عالم دین کا ذکر آیا۔ نے مذکورہ عالم دین کی بعض باتوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندر قیادت کی مطلق صلاحیت نہیں۔ وہ زمانہ کو نہیں پہچانتے اور جس آدمی کے اندر زمانہ کی پہچان نہ ہو تو وہ کبھی قائد نہیں بن سکتا۔
میں نے پوچھا کہ زمانہ کی پہچان سے آپ کی کیا مراد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل یوپی
میں اور دوسرے مقامات پر بابری مسجد (اجودھیا) کا مسئلہ چھڑا ہوا ہے۔ تمام مسلمان اس مسئلہ پر سخت مشتعل ہیں۔ مگر مذکورہ عالم دین کا حال یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں کچھ بولتے نہیں۔ اجتماعات میں ان سے بابری مسجد کے بارے میں سوال کیا گیا مگر وہ خاموش رہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت جو شخص بابری مسجد کا مسئلہ لے کر اٹھے گا وہ مسلمانوں کا قائد بن جائے گا۔ میں نے سوچا کہ زمانہ کی پہچان کے بارے میں لوگوں کا نظریہ کتنا ناقص ہے۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ قائد کو زمانہ کی پہچان ہونی چاہیے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بابری مسجد جیسے مسائل کو لے کر دھواں دار تقریریں کرنے لگے۔
زمانہ کو پہچاننے سے مراد یہ ہے کہ ان قوتوں کو پہچانا جائے جنہوں نے زمانہ میں فیصلہ کن حیثیت حاصل کی ہے۔ جذباتی ابال اور چیز ہے اور زمانی حقیقتیں بالکل دوسری چیز۔ قائد کے لیے بلاشبہ ضروری ہے کہ وہ زمانی حقیقتوں کو جانے، اس کے بغیر وہ اپنی قوم کی صحیح رہنمائی نہیں کر سکتا۔ 1986 اپریل 20 ہندوستان کے موجودہ حکمراں نہایت پرجوش طور پر ہندوستان کو کمپیوٹرایج میں داخل کر رہے شاید ان کا خیال ہے کہ صرف اس کام سے ان کا ملک کمپیوٹرایج میں داخل ہو جائے گا کہ مغربی ملکوں سے کمپیوٹر منگائے جائیں اور ان کو ملک کے ہر بڑے دفتر میں نصب کر دیا جائے۔ مغالطہ کے سوا کچھ نہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (19 اپریل 1986) میں مسٹر ایس ایس گل نے اس ذہنیت پر تبصرہ کرتے ہوئے نہایت صحیح طور پر لکھا ہے: