Al-Risala · November 2024

بیانیہ انداز

Al-Risala, November 2024, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم اہل علم کی تحریروں میں عام طور پر بیانیہ اسلوب کا رواج ہے۔ بیانیہ اسلوب یہ ہے کہ آدمی ایسی بات کہے جو اس کے اپنے ذہن کی بات ہو، لیکن اس کے ذہن کے باہر اس کا کوئی واقعاتی مصداق موجود نہ ہو۔ یعنی دلیل اور شواہد کو بتائے بغیر کوئی بات کہنا۔ مثلاً یہ کہنا کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں ہر جگہ محصور حالت (under siege) میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اس صورت حال پر میں نے غور کیا تو مجھے سمجھ میں آیا کہ یہ قدیم شاعرانہ اسلوب کا تسلسل قدیم زمانے میں ساری دنیا میں شاعرانہ اسلوب کا رواج تھا۔ میں جب سائنسی طریقہ رائج ہوا تو اس اسلوب کا خاتمہ ہو گیا۔ اس بنا پر آج کی دنیا میں شعر (poetry) کے بجائے نثر (prose) کی اہمیت ہو گئی۔ اس حقیقت کو پہلی بار میں اس وقت سمجھا جب کہ میں نے مندرجہ ذیل کتاب پڑھی جو کہ 1965 میں شائع ہوئی:

Printed page