بے اطمینانی کا سبب
Al-Risala, November 2024, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹاٹا انڈسٹری کے چیئرمین مسٹر رتن ٹاٹا (پیدائش 1937ء) نے لمبی کوشش کے بعد 2008 میں ایک نئی چھوٹی کار بنائی ہے۔ اس کار کا نام نانو (Nano) ہے۔ اس کی قیمت صرف ایک لاکھ اس کو دنیا کی سب سے سستی کار (cheapest car on earth) کہا جاتا ہے۔ نئی دہلی (پرگتی میدان) میں اس کار کی نمائش کی گئی تو اس کو دیکھنے کے لیے بہت بڑی بھیڑ مگر عجیب بات ہے کہ مسٹر رتن ٹاٹا نے بظاہر بے شمار نئے لوگوں کے لیے سستی کار کی شکل میں ایک پر مسرت تحفہ دیا، لیکن خود رتن ٹاٹا کو روحانی خوشی حاصل نہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (11 جنوری 2008) کی رپورٹ کے مطابق، انھوں نے کہا— میں اپنے آپ کو اپنی زندگی کے بہت زیادہ تنہائی کے دور میں پاتا ہوں:
I am in a very lonely phase of my life. (p. 1)
یہ کوئی انفرادی مثال نہیں۔ یہی اُن تمام لوگوں کی کہانی ہے جو اپنی ساری توانائی مادی چیزوں کے حصول میں لگا دیتے ہیں۔ جو اس طرح رہتے ہیں گویا کہ زندگی کا مقصد مادی ترقی کے سوا اور کچھ ایسے لوگ جب اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچتے ہیں، تو اُن کو محسوس ہوتا ہے کہ بظاہر مادی کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اُن کو اندرونی خوشی حاصل نہیں۔ وہ اسی طرح جیتے ہیں، یہاں تک کہ مایوسی (despair) کی حالت میں مرجاتے ہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی روح کے لیے سب سے زیادہ ربانی غذا کی ضرورت ہے۔ صرف مادی غذا انسان کی فطرت کو ایڈریس نہیں کرتی۔ بظاہر خوش خوراک کے باوجود اس کی داخلی شخصیت، روحانی فاقہ (spiritual starvation) میں مبتلا رہتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَا بِذِکْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ یعنی، سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (الرسالہ دسمبر 2008، صفحہ 36)