Al-Risala · November 2024

موت کا سفر

Al-Risala, November 2024, pp. 29–33

By Maulana Wahiduddin Khan

انڈیا کے ٹاٹا گروپ کا بزنس ایمپائر 150 سے زیادہ ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ 9 اکتوبر 2024 کو انڈیا کے تقریبا سبھی نیوز پورٹلس نے ایک بریکنگ نیوز یہ دی تھی کہ معروف بزنس مین اور ٹاٹا گروپ کے سابق چیئر مین رتن ٹاٹا کا 86 سال کی عمر میں ممبئی کے بریچ کینڈ ی ہاسپٹل میں انتقال ہو گیا۔ نیوز ایجنسی رائٹرز کی ویب سائٹ پر درج ذیل ہیڈلائن کے ساتھ یہ خبر دی گئی تھی:

Ratan Tata put India's Tata Group on the global map Oct 9 (Reuters) - Ratan Tata, the former Tata Group chairman who put a staid and sprawling Indian conglomerate on the global stage with a string of high-profile acquisitions, has died, the Tata Group said in a statement late on Wednesday. He was 86. Tata, who ran the conglomerate for more than 20 years as chairman, had been undergoing intensive care in a Mumbai hospital, two sources with direct knowledge of his medical situation told Reuters earlier on Wednesday. (9 Oct 2024)

سوشل میڈیا پر ان کی آخری عمر کی کئی ویڈیو موجود ہیں، جن میں وہ پہلے سے بہت زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ انسانی زندگی پر غور کیجئے تو ہر عورت اور ہر مرد کی یہی کہانی ہے بچپن، جوانی، بڑھاپا اور آخر میں موت۔ مسٹر ٹاٹا کی موت کی خبر گو یا ہر عورت اور ہر مرد کے لیے اس کے اپنی موت کی خبر ہے۔ ہر انسان پر یہ لمحہ یقینی طور پر آتا ہے جب کہ موت کا فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے انسان، تم کو اس دنیا میں صرف 86 سال جینا تھا، یہ مدت پوری ہو چکی ۔ اب تم کو ایک اور دنیا میں جانا ہے، جہاں تم ہمیشہ رہو گے۔ ابھی تمہاری زندگی کا صرف ٹیسٹ پیریڈ ختم ہوا ہے، اور اب زندگی کا دوسرا اصل دور شروع ہو رہا ہے۔ ہر انسان کو یہ معلوم ہے کہ موت سے پہلے کے دور حیات میں اس کو اپنی کامیابی کے لیے کیا کرنا ہے۔ مگر یہ بات کوئی شخص نہیں جانتا کہ موت کے بعد کے دور حیات کے لیے بھی اس کو تیاری کرنی چاہیے جو وہاں کی ابدی زندگی میں اس کے کام آئے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی وہ مسئلہ ہے جس سے ہر انسان بے خبر ہے۔ وہ دنیا کی ناکامی سے بچنے کے لیے تو سب کچھ کرتا ہے، لیکن ابدی ناکامی سے بچنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرتا۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

شرح مشکوٰۃ المصابیح (حدیث نمبر 162-158)

159 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہدایت کی طرف بلایا، اس کو بھی اتناہی اجر ملے گا جتنا ان لوگوں کو جنھوں نے اس کی پیروی کی ۔ اور اس سے ان لوگوں کے ثواب میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔ اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا، اس پر بھی اتناہی گناہ ہوگا جتنا کہ ان لوگوں پر جنھوں نے اس کی پیروی کی ۔ اور اس سے ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2674) تشریح: آدمی اگر خود کوئی نقطہ نظر اختیار کرے تو ایسی حالت میں اس کی ذمہ داری صرف اس کی ذات تک محدود رہتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنے نقطہ نظر کا اعلان عام کر کے اس کو دوسروں تک پہنچائے تو اس کی ذمہ داری بہت زیادہ وسیع ہو جاتی ہے۔ اگر وہ ایک صحیح نقطہ نظر کی اشاعت کر رہا ہے تو اس کے ذریعہ جن لوگوں کی اصلاح ہوگی ان سب کا ثواب اس کو بھی پہنچتا رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر وہ غلط نقطہ نظر کی اشاعت کرے تو اس کے ذریعہ جتنے لوگ گمراہ ہوں گے ان سب کی گمراہی بھی اس کے خانے میں لکھی جاتی رہے گی۔ آدمی کو ذاتی زندگی میں بھی محتاط ہونا چاہیے۔ لیکن اگر وہ دوسروں کو رہنمائی دینے کے لیے کھڑا ہو تو اس کو مزید اضافے کے ساتھ محتاط ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اب اس کی ذمہ داری ہزاروں گنا حد تک زیادہ ہو چکی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور پھر وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ شروع ہوا۔ پس خوش خبری ہے اجنبیوں کے لیے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145)

تشریح : قدیم عرب کے لوگ اپنے اکابر کے دین پر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے سامنے دین خدا کو پیش کیا تو ان کو دین اکابر کے مقابلے میں دین خدا اجنبی معلوم حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، بعد کے زمانے میں خود امت کے اندر بھی یہی صورت پیش آنے والی ہے۔

بگاڑ کے زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا اور رسول والا دین گم ہو جاتا ہے اور دین کی دوسری دوسری شکلیں رائج ہو جاتی ہیں۔ مثلاً قومی دین، برکت والا دین، رسم و رواج والا دین، آبائی فخر والا دین، لوگ دین کی انھیں خود ساختہ شکلوں سے مانوس ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب ان کے سامنے خالص خدائی دین پیش کیا جاتا ہے تو یہ دین خدا دوبارہ ان کو اسی طرح اجنبی معلوم ہوتا ہے جس طرح وہ قدیم زمانے کے لوگوں کو اجنبی دکھائی دیتا تھا۔ چنانچہ وہ خدا اور رسول والے دین کو اجنبی سمجھ کر اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

اس دورِ اجنبیت میں جو لوگ خالص دین خدا کو پہچانیں اور اس کا ساتھ دیں وہ بہت خوش قسمت کیوں کہ انھوں نے اس وقت معرفت کی سطح پر دین کو دریافت کیا جب کہ دوسرے لوگ صرف رواج کی سطح پر دین کو پائے ہوئے تھے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ کی طرف اس طرح سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 1876 ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر 147)

تشریح : شاید یہ خدا کا منصوبہ ہے کہ دین کی قدریں جب دوسری جگہ مٹ رہی ہوں اس وقت بھی وہ مدینہ (وسیع تر معنوں میں حجاز) میں موجود رہیں۔ حجاز کو اللہ نے ابدی طور پر مرکز اسلام کی حیثیت دے بعد کے زمانے میں جب کہ زمین کے دوسرے حصوں میں غیر اسلامی تہذیب کا غلبہ ہو جائے گا اس وقت بھی حجاز میں کسی نہ کسی درجہ میں اسلام کی مرکزیت باقی رہے گی۔ ایسا غالباً اس لیے ہوگا کہ حجاز میں اسلام کی دوسب سے بڑی عبادت گاہیں واقع ہیں، یعنی کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی۔

ربیعہ الجرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والا آیا۔ سے کہا گیا۔ آپ کی آنکھیں سوتی رہیں، اور آپ کے کان سنتے رہیں اور دل سمجھتا رہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر میری آنکھیں سوگئیں۔ اور میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے (اس کو) سمجھا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھ سے یہ (مثال) بیان کی گئی: ایک مالک نے گھر بنایا۔ اس نے وہاں ایک خوان تیار کیا اور بلانے والے کو بھیجا تو جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کی، وہ گھر میں داخل ہوا اور خوان سے کھایا اور مالک اس سے خوش ہوا۔ مگر جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نہ کی، وہ نہ گھر میں داخل ہوا، نہ اس نے خوان سے کھایا، چنانچہ مالک اس سے ناراض ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ مالک سے مراد اللہ ہے، اور بلانے والے سے مراد محمد ہیں۔ اور گھر سے مراد اسلام ہے۔ سے مراد جنت ہے۔ (سنن الدارمی، حدیث نمبر 11)

تشریح: انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن سوسال کے اندر ہی یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنی مرضی کے خلاف اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے زمین پر پیدا ہونے والا انسان دو چیزوں کا تجربہ کرتا ہے۔ پہلے زندگی کا تجربہ، اور اس کے بعد موت کا تجربہ۔ اس قانون فطرت سے کسی کو استثنا حاصل نہیں۔ اگر انسان سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر سوچے تو وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ انسان کو پیدا کرکے اس زمین پر آباد کرنا بطور انعام نہیں ہے، بلکہ وہ بطور امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے۔ یہ آزادی اس لیے ہے تا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ کون شخص با اصول زندگی گزارتا ہے اور کون شخص بے اصول زندگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں اسی معاملے کو بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ نے کامل ہدایت کا اب جو لوگ اس ہدایت کی روشنی میں اپنی آزادی کا درست استعمال کریں گے ان کے لیے کامیابی ہے، اور جو لوگ اس کی پیروی نہ کریں وہ ابدی ناکامی کا شکار ہوکر رہ جائیں گے۔

ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تخت پر تکیہ لگائے ہوئے ہو۔ اس کے سامنے میرے احکام میں سے کوئی حکم آئے جس کا میں نے حکم دیا ہے یا جس سے میں نے منع کیا ہے۔ پھر وہ کہے کہ میں نہیں جانتا، جو کچھ ہم نے اللہ کی کتاب میں پایا اس کی ہم نے پیروی کی۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 23876، سنن ترمذی، حدیث نمبر 2663، سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4605، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 13) شرح: قرآن کی حیثیت بنیادی اصول کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بنیادی ربانی اصول کی طرف لوگوں کو بلایا اور اس کو قائم فرمایا۔ اس طرح آپ کی زندگی قرآن کی عملی تشریح بن گئی۔ وجہ ہے کہ خود قرآن کو سمجھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو جاننا لازمی طور پر ضروری ہے۔ دین میں صرف قرآن کی حیثیت حجت (authoritative source) کی ہے، یا حدیث رسول بھی دین میں یکساں درجے میں حجت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک خالص قانونی مسئلہ ہے۔ اعتبار سے جس چیز کی اہمیت ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اسلام کی روح زندہ ہو۔ دین پر عمل کرنے کی تڑپ اس کے اندر پیدا ہوگئی ہو۔ اللہ سے محبت اور اللہ کا خوف اس کے دل میں بھر پور طور پر جاگزیں ہو گیا ہو۔ جن لوگوں کے اندر اسلام کی یہ اسپرٹ پیدا ہو جائے، وہ کسی قانونی فتوے کے بغیر پوری طرح اسلام کو اختیار کر لیں گے، اور جن لوگوں کے اندر اسلام کی روح بیدار نہ ہوئی ہو، ان کے لیے کوئی بھی قانونی فتویٰ عملی بیداری کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ ایک شخص قرآن کو دین میں حجت مانتا ہو، لیکن اس کے اندر دین کی اسپرٹ موجود نہ ہو تو وہ خود قرآن کے احکام پر بھی عمل نہیں کرے قرآن کے بارے میں وہ بڑی بڑی بحثیں کرے گا، لیکن اس کی حقیقی زندگی قرآن کی تعلیمات سے حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل مسئلہ حدیث کی حجیت کو منطقی طور پر ثابت کرنا نہیں ہے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ حدیث کی دینی اہمیت اور افادیت کو آدمی کے دل میں اس طرح اتار دیا جائے کہ وہ اس سے انحراف کا تحمل نہ کر سکے۔

Printed page