Al-Risala · November 2024

دین میں آسانی

Al-Risala, November 2024, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن (2:185) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا (يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ )۔ دوسری جگہ (22:78) فرمایا کہ اللہ نے تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی (وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ)۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ (سنن النسائی، حدیث نمبر 5034)۔ یعنی یہ دین آسان ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا بہتر دین وہ ہے جو آسان ہو: إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 15936)۔ آپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ آسانی پیدا کرو، لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو (يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 69۔ اسی لیے فقہ میں شریعت کے بارے میں یہ اصولی مسئلہ وضع کیا گیا ہے کہ مشقت آسانی لاتی اس اصول پر تمام فقہا کا اتفاق ہے۔ مثلاً حنفی عالم ابن نجیم (وفات 970ھ) نے اصول فقہ پر اپنی کتاب الاشباہ والنظائر میں ایک بحث کا عنوان یہ رکھا ہے القَاعِدَةُ الرَّابِعَةُ: الْمَشَقَّةُ تَجْلِبُ التَّيْسِيرَ (چوتھا قاعدہ: مشقت آسانی لاتی ہے)۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین بذات خود کوئی سہولتوں اور آسانیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ دین کے راستہ میں جب حالات کے تحت کوئی مشقت کی صورت پیدا ہو جائے تو وہاں لوگوں کو مشقت میں نہیں دھکیلا جائے گا، بلکہ ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی اسی اصول کے تحت بیماری میں وضو کے بجائے تیمم ہے۔ سخت بارش میں مسجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ سفر میں روزہ چھوڑ دینا ہے، وغیرہ۔

یہی اصول اجتماعی زندگی کے لیے بھی ہے۔ یعنی دین میں آسانی کا یہ اصول صرف فرد کے لیے نہیں ہے، وہ جماعت اور قوم کے لیے بھی ہے۔ جس طرح انفرادی معاملات میں مشکل پیش آنے کی صورت میں فرد کے لیے شریعت کا حکم نرم کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جماعت کے لیے بھی سخت حالات میں شریعت اپنے تقاضے کو نرم کر دیتی ہے۔

مثلاً شریعت کا کوئی عمل جس کو اجتماعی صورت میں علی الاعلان کرنا مطلوب ہو۔ لیکن اگر حالات

ایسے ہوں کہ ہائی پروفائل (high profile) میں کام کرنے سے نقصان کا اندیشہ ہو وہاں لو پروفائل (low profile) کو اختیار کرنے کا حکم ہے۔

دینی مقصد کے لیے اقدام کرنا بجائے خود ثواب کا ایک عمل ہے۔ مگر جہاں ایسی صورتِ حال پیدا ہو جائے کہ اقدام کرنا موت کی طرف چھلانگ لگانے کے ہم معنی ہو وہاں شریعت کا حکم بدل جائے اب اقدام کے بجائے اعراض اہل اسلام کے لیے شریعت کا مطلوب عمل بن جائے گا۔ اسی طرح ایک معاشرہ ہے جہاں سیاسی اصلاح کی ضرورت ہے۔ لیکن حالات بتاتے ہیں کہ اگر سیاسی تبدیلی کو نشانہ بنا کر تحریک چلائی جائے تو ہلاکت کی صورت پیش آجائے گی تو ایسے معاشرہ میں لوگوں کو ہلاکت میں ڈالنے کے بجائے خود حکم کو بدل دیا جائے گا۔ اب وہاں یہ مطلوب ہو جائے گا کہ سیاسی انقلاب کے محاذ سے ہٹ کر انفرادی اصلاح کے میدان میں پرامن کوششیں کی جائیں۔ اسی طرح ایک موقع جہاں اعلان واظہار ایک شرعی مطلوب نظر آتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر لاؤڈ اسپیکر کی پرشور تقریر کا طریقہ اختیار کیا جائے تو سماج میں اس کا منفی ردعمل ہوگا اور اہل اسلام کے لیے شدید تر حالات پیدا ہو جائیں گے۔ تو ایسی حالت میں شور والا عمل ساقط ہو جائے گا، اور شریعت کا تقاضا ہو جائے گا کہ خاموش تدبیر کا انداز اختیار کر کے اپنا مقصد حاصل کیا جائے۔ فقہا نے بطور اصول ان الفاظ میں بیان کیا ہے: دَرْءُ الْمَفَاسِدِ أَوْلَى مِنْ جَلْبِ الْمَصَالِح (الموافقات للشاطبی ، جلد 5، صفحہ 300)۔ یعنی نقصانات کو روکنا فائدہ حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ اس قسم کی باتوں کی طرف ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں رہنمائی کی گئی ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے (لا ینبغی لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَہٗ) ۔ صحابہ نے پوچھا: کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرتا ہے۔ نے کہا: کسی ایسے مشکل کام میں وہ پڑ جائے جس سے نمٹنے کی اس میں طاقت نہ ہو (يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2254۔

عُسْر سے بچنا اور یُسْر کا طریقہ اختیار کرنا یہ ہے کہ بوقتِ عمل یہ دیکھا جائے کہ موجودہ حالات میں کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں ہے۔ اور پھر ممکن دائرہ میں اپنی قوتوں کو صرف کیا جائے، نہ کہ ناممکن دائرہ میں سر ٹکرا کر مزید اپنے نقصان میں اضافہ کر لیا جائے۔

Printed page