Al-Risala · November 2024

ڈائری 1986

Al-Risala, November 2024, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ عیسائیت کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر گناہگار ہے۔ انسان کا پیدائشی گناہ گار ہونا اور خدا کے بیٹے کا مصلوب ہو کر اس کا کفارہ بننا، یہی وہ خاص عقیدہ ہے جس پر موجودہ عیسائیت کھڑی ہوئی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار برس سے وہ اسی کی تبلیغ کرتی رہی ہے۔ مگر اس عقیدہ کی کوئی اصل آسمانی تعلیمات میں موجود نہیں۔ حتیٰ کہ خود بائبل (پرانا عہد نامہ، نیا عہد نامہ) میں بھی نہیں۔ موجودہ محرف بائبل بھی اس عقیدہ سے خالی ہے۔

کیتھولک چرچ کے ایک جرمن عالم ریورنڈ ہربرٹ ہاگ نے ایک کتاب لکھی ہے:

Rev Herbert Haag: Is Original Sin in Scripture, New York, 1969 اس کتاب میں انھوں نے لکھا ہے کہ عیسائی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ابتدائی زمانہ کے عیسائیوں میں تیسری صدی عیسوی تک اس عقیدہ کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ انسان پیدائشی گناہ گار ابتدائی تین صدیوں کے بعد یہ عقیدہ عیسائیت میں داخل ہوا۔ شروع شروع میں جب بعض عیسائیوں نے یہ نظریہ پیش کیا تو 2 سو سال تک یہ حال رہا کہ عیسائی علما اس کو ماننے سے انکار کرتے آخر کار سینٹ آگسٹین (304-430ء) نے یونانی منطق کے زور پر، نہ کہ حضرت مسیح کی تعلیمات کے زور پر، اس عقیدہ کو ایک بنیادی مسیحی عقیدہ کے طور پر مسیحیت میں داخل کر دیا۔ عقیدہ کا خلاصہ یہ تھا کہ آدم نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا کر جو گناہ کیا تھا وہ گناہ انہیں پر ختم نہیں ہوا بلکہ پوری نسل انسانی نے اس کا وبال وراثت میں پایا ہے۔ اور اب انسان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ مسیح کے کفارہ کے ذریعہ نجات حاصل کرے۔

مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ النجم کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں:

”انبیاء علیہم السلام آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی رہنمائی ہوتی

اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے ایسے ہی تمام انبیاء کی تشریف آوری کے بعد آفتاب محمدی مطلع عرب سے طلوع ہوا۔ تمثیل کے ذریعہ استدلال کتنا غلط ہوتا ہے، اس کی ایک مثال مذکورہ بالا اقتباس ہے۔ کی رو سے ستارے کبھی غائب نہیں ہوتے، بلکہ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ اسی طرح آفتاب سب سے بڑا اور درخشاں نہیں ہے۔ اس سے بہت زیادہ بڑے اور درخشاں ستارے آسمان میں موجود ہیں۔ ہمیشہ واقعات و حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ تمثیلات کی بنیاد پر۔ کسی نے صحیح کہا ہے: “Analogy is the weakest form of argument.”

Printed page