Al-Risala · November 2024

Missionary Ethics

Al-Risala, November 2024, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

تفصیلی پروگرام کے مطابق اس کانفرنس میں مجھے ڈاکٹر راجندر ورما کے پیپر کا respondent بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر ورما آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ اور آج کل دہلی میں رہتے ہیں۔ کل ان کا ٹیلی فون میں نے کہا کہ میرا ٹکٹ تو آ گیا ہے، مگر میرا ارادہ بنگلور جانے کا نہیں ہے۔ ڈاکٹر ورما نے کہا کہ آپ کو ضرور چلنا چاہیے۔ اس کے بعد آج صبح 10 بجے وہ خود ہمارے دفتر (نظام الدین) میں آئے۔ اس سلسلہ میں بڑا عجیب واقعہ ہوا۔ کل جب ڈاکٹر ورما کا ٹیلی فون آیا تو میں بالکل نہیں جانتا تھا کہ ڈاکٹر ورما کون ہیں۔ مگر ٹیلی فون کی مختصر گفتگو کے بعد میرا ذہن اچانک ایک شخص کی طرف چلا گیا جن سے میں سات مہینے پہلے ملا تھا۔

نیو یارک جاتے ہوئے ممبئی ایئر پورٹ پر ایک صاحب سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ 14 نومبر 1985 کا واقعہ ہے۔ یہ ملاقات بس ایئر پورٹ پر چلتے ہوئے ایک دومنٹ کی تھی۔ چہرے کا ایک عکس میرے ذہن میں تھا۔ ٹیلی فون کی گفتگو کے بعد اچانک میرے دل نے کہا کہ یہ

وہی شخص ہیں جن سے بمبئی ایئر پورٹ پر تھوڑی دیر کے لیے ملاقات ہوئی تھی۔ وجدانی طور پر میں نے ٹیلی فون کی آواز میں اور ایئر پورٹ پر دیکھے ہوئے چہرہ میں ایک مشابہت محسوس کی۔ آج صبح دس بجے جب وہ میرے دفتر میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ ٹیلی فون پر بولنے والی آواز عین انہیں صاحب کی تھی جن کو میں نے سات ماہ پہلے بمبئی ایئر پورٹ پر دیکھا تھا۔ اللہ نے دماغ کو بھی کیسا عجیب کمپیوٹر بنایا ہے۔

Printed page