Al-Risala · November 2024

20 جون 1986

Al-Risala, November 2024, pp. 38–47

By Maulana Wahiduddin Khan

جناب نسیم علی خاں صاحب سے آج دفتر میں ملاقات ہوئی۔ وہ بمبئی میں رہتے ہیں۔ ان سے میں نے بتایا کہ بمبئی کے ایک صاحب کا خط تقریباً چھ ماہ پہلے آیا تھا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ انگریزی الرسالہ زبان و بیان کی خوبیوں سے یکسر محروم ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے انگریزی الرسالہ کی خریداری بھی بند کردی۔

ان کو میں نے لکھا کہ آپ مثال کے ذریعہ اپنی بات کو واضح فرمائیں۔ یعنی انگریزی الرسالہ کا کوئی مطبوعہ پیرا گراف لے کر نشان دہی کریں کہ اس میں زبان کی یا بیان کی کون سی خرابی ہے۔ مگر ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اس دوران میں یاد دہانی کے کئی خطوط لکھے گئے، مگر ابھی تک جواب سے محرومی ہے۔ نسیم علی خاں صاحب نے بتایا کہ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں اور اس خط و کتابت سے بھی قصہ یہ ہے کہ آپ کا خط ملنے کے بعد انہوں نے انگریزی الرسالہ کا ایک پرچہ آر ایس ایس کے بمبئی یونٹ کے سکریٹری کو دیا اور کہا کہ اس کو پڑھ کر اس پر بھر پور تنقید کریں۔ ایس کے سکریٹری نے پرچے کو پڑھا اور اس کے بعد اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا: ”الرسالہ کی لینگویج فرسٹ کلاس ہے۔ اس کے آرٹیکل بھی بہت اچھے ہیں۔ اس میں کوئی کمی نظر نہیں آئی جس پر میں کریٹیسائز کروں“۔

مذکورہ سکریٹری (آر ایس ایس) بہت اچھے اور مانے ہوئے انگریزی داں ہیں۔ اس تبصرے کے بعد اب ان کے پاس کہنے کی کوئی بات ہی نہیں رہی۔

میں نے نسیم علی خاں صاحب سے کہا کہ ان کو میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ اب آپ کا چپ ہونا سراسر بزدلی ہے۔ آپ کو بہادری والا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ تحریری طور پر مذکورہ سکریٹری کا واقعہ لکھیں اور کھلے لفظوں میں اعتراف کریں کہ مجھ سے غلطی ہوئی۔ پھر میں نے نسیم علی خاں صاحب سے کہا کہ بہادری (الحماسہ) انسان کی سب سے بڑی صفت جس آدمی کے اندر بہادری ہوگی ، اس کے اندر بقیہ صفتیں اپنے آپ ہوں گی اور جس شخص کے اندر بہادری نہیں ہوگی ، اس کے بعد وہ تمام اعلیٰ اوصاف سے بھی محروم ہوگا۔ 22 جون 1986 ابوظبی (یو اے ای) سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام ہے: المنار۔ اس کی اشاعت جنوری 1986 (ربیع الآخر 1406ھ) میں صفحہ 23 پر ایک مضمون ہے۔ اس مضمون میں اس کے عرب مضمون نگار نے لکھا ہے: اَلمُسْلِمُونَ الَّذِيْنَ يُجِيْدُونَ القَوْلَ وَلاَ يُحْسِنُوْنَ العَمَلَ أَكْثَرُ ضَرَرًا عَلَى الإِسْلَامِ مِنْ أَعْدَائِهِ (جو مسلمان اچھی باتیں کرتے ہیں ، مگر ان کا عمل اچھا نہیں ہے، وہ اسلام کے لیے اس سے بھی زیادہ مضر ہیں جتنا کہ اس کے دشمن)۔

مضمون نگار نے اپنے مضمون میں درج ذیل حدیث نقل کی ہے: اِنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّ اِذَا عَمِلَ أَحَدُکُمُ عَمَلاً أَنْ يُتْقِنَهُ (مسند ابی یعلیٰ، حدیث نمبر 4386)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس کو پسند فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب ایک کام کرے تو وہ اس کو بہترین طور پر کرے۔

جب اللہ کی پسند یہ ہے کہ آدمی اپنے کام میں اپنی اعلیٰ ترین صلاحیت استعمال کرے اور وہ اس کو بہتر سے بہتر انجام دے تو اللہ اس کو کیسے پسند کر سکتا ہے کہ آدمی کے قول و فعل میں مطابقت نہ ہو۔ کہنے کے لیے اچھی اچھی باتیں کہے، مگر جب کرنا ہو تو نہ کرے۔

عمل میں قول کی مطابقت پہلا درجہ ہے اور عمل میں خوبی اس کے آگے کا درجہ۔ جب اللہ کو یہ گوارا نہیں کہ آدمی اچھا عمل کرنے میں کوتاہی کرے تو اللہ کو یہ کیسے گوارا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے قول اور اپنے عمل میں مطابقت نہ کرے۔

سوال: مولانا، ہماری دینی جماعتوں نے تعمیر کردار، تطہیر افکار اور تطهیر سیاست کا کام ایک ساتھ شروع کیا ہوا ہے اور ان تین کاموں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ آپ کے خیال میں یہ جماعتیں اس کام میں کس حد تک کامیاب ہوئیں؟

جواب: میرا خیال ہے کہ تعمیر افراد کا کام ان جماعتوں سے نہیں ہوسکا۔ دیکھئے، جب آپ کوئی تحریک اٹھاتے ہیں تو دیکھنا یہ بھی ہوتا ہے کہ main thrust کس چیز پر ہے۔ اگر مین تھرسٹ اپنی ذات پر ہے تو احتساب ذات کا جذبہ ابھرے گا اور اگر مین تھرسٹ خارج پر ہے تو احتساب نظام کا جذبہ جہاں احتساب نظام کا جذبہ ابھرے گا، وہاں اصلاح ذات کا کام نہیں ہوسکتا۔ ان جماعتوں کا مین تھرسٹ نظام پر تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اصلاح ذات اصل کنسرن کی حیثیت سے عملاً حذف ہوگیا۔ اصل بات یہ ہے کہ آدمی جس قسم کی تعبیر دین سے متاثر ہوگا وہ ہر مسئلہ کو اسی رنگ میں دیکھے سیاست دین کا ایک جزءء ہے، مگر وہ مرکزی جز نہیں لیکن اگر آپ اس کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر مرکزی جگہ رکھ دیں اور دین کی ایسی تشریح کریں کہ سیاسی انقلاب ہی اسلامی تحریک کا آخری مقصود نظر آنے لگے تو یقینی طور پر آپ کے سوچنے کا انداز بدل جائے گا۔ جماعت اسلامی کے ساتھ یہی کچھ اب جو لوگ اس کی پیروی کر رہے ہیں ان کا انجام بھی وہی ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ نے انسان کے دو دل نہیں بنائے۔ مطلب یہ کہ انسان بیک وقت دو چیزوں پر فوکس نہیں کر سکتا۔ ایک طالب علم یا تو ڈاکٹر بن سکتا ہے یا دادا گیری کر سکتا ہے۔ احتساب نظام بھی ہوا اور احتساب خویش بھی۔ یہ ہو نہیں سکتا۔ انسانی فطرت کے خلاف ہے اور انسانی فطرت سے ٹکراؤ مول لے کر آپ کام نہیں کر سکتے۔ سوال: لیکن مولانا، جن جماعتوں نے تعمیر افراد اور احتساب ذات کے کام پر ہی توجہ رکھی اور احتساب نظام سے کامل علیحدگی اختیار کرلی، ان کے اثرات بھی معاشرے پر محدود ہی ہیں۔ جیسا کہ تبلیغی جماعت نے فرد کی تعمیر کو اپنا مقصود قرار دیا ہے اور امور سیاست سے بالکل کٹ گئی ہے؟

جواب: دراصل یہ تحریک جس کا آپ نے ذکر کیا خوش عقیدگی کی بنیاد پر اٹھی ہے۔ اس کا لٹریچر فضائل تک محدود ہے۔ اب خوش عقیدگی ایک چیز ہے اور فکری تبدیلی دوسری چیز۔ یہ خوش عقیدگی نہیں تو کیا ہے کہ مسواک کرو تو جنت مل جائے گی۔ اس طرح کے انداز کار سے فکری تبدیلی نہیں آتی اور نہ معاشرے پر دیر پا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

قرآن وسنت کے مطالعے سے دین کا جو مطلب میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ دین کے تقاضے دو قسم ایک تقاضا دین کی اصل اور روح ہے، وہ ہے اللہ کی معرفت اور اس سے خشیت اور محبت کا اس کے اوپر اعتماد، اس کی عبادت اور معاملات زندگی میں اس کی تابعداری۔ دوسرا تقاضا وہ ہے جو مادی دنیا اور دین کے تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔ دین کو فکری اور عملی طور پر سر بلند رکھنے کے لیے مختلف صورتیں پیش آتی ہیں اور موقع کے اعتبار سے ہر جگہ مومن کو ان سے نپٹنا پڑتا ہے۔ (بن عبد یزید) سے کشتی لڑنی پڑتی ہے، کہیں حسان بن ثابت کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ بذریعہ اشعار مخالفین کا جواب دیا جائے کہیں عقل کو مطمئن کرنے کے لیے وقتی اسلوب میں حجت ابراہیمی پیش کرنی ہوتی ہے، کہیں بدر و حنین کے معرکے درپیش ہوتے ہیں، کہیں غیر مسلموں سے معاہدہ کرنا پڑتا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ جہاں تک پہلے تقاضے کا تعلق ہے وہ دین کی اصل ہے اور دائمی طور پر دین کے مطلوب کی حیثیت مگر دوسری چیز کی یہ حیثیت نہیں۔ وہ دین کا اضافی جزء ہے، نہ کہ حقیقی۔ جس وقت اس طرح کے تقاضے بروئے کار آ چکے ہوں، اس وقت یہ اضافی جزء بھی حقیقی جزء کی طرح مطلوب قرار پاتا ہے۔ حالات نے اس کی ضرورت پیدا نہ کی ہو اس وقت مومن کے اوپر اس طرح کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ تبلیغ دین کا کام ایک ایک فرد میں حقیقت دین کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ بات میں تبلیغ کی اصل یعنی دعوت کے اعتبار سے کہہ رہا ہوں، نہ کہ اس کے مخصوص طریق کار کے اعتبار سے۔ طریق کار خواہ وہ کسی جماعت یا تحریک کا ہو، ہمیشہ اضافی ہوتا ہے۔ لیکن تبلیغ کی ساری اہمیت کو تسلیم کرنے کے بعد بھی دین کے لیے کچھ اور کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ اس دوسرے میدان میں امت کے دوسرے موزوں افراد کو جد وجہد کرنی چاہیے اور خود تبلیغ کرنے والوں کو اخلاص کی شرط کے ساتھ ان کی کوشش کو تسلیم کرنا چاہئے اور انفرادی طور پر اس میں حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ مغربی افکار کے حملہ کو

روکا جائے اور عملی طور پر دین کی مدافعت کی جائے۔ پھر یہ کہ جدید دنیا میں مسلمانوں کو عزت اور سربلندی کا مقام دلانے کی تدبیریں کی جائیں، جدید ضرورتوں کے مطابق اسلامی قانون کی تدوین کی جائے، موجودہ حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کا ایک نیا نظام مرتب کیا جائے، جمہوریت اور سیکولرزم سے وقتی طور پر پیدا شدہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے، جدید ذہن کے لحاظ سے اسلام کا دعوتی لٹریچر تیار کیا جائے۔ کام کوئی ایک شخص یا گروہ اکیلا سر انجام نہیں دے سکتا۔ یہ ممکن ہے کہ ہر ایک دوسرے کو تسلیم کرے اور ایک دوسرے سے مشورہ کرے اور کم از کم انفرادی سطح پر ایک دوسرے سے تعاون کرے۔ اس قسم کا تبلیغی کام جو موجودہ دور میں تبلیغی جماعت کر رہی ہے، کافی نہیں۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ خوش عقیدگی ہی کو تبلیغ کا مقصد قرار نہ دیا جائے، اس لیے کہ اس سے فکری تبدیلی کی راہ ہموار نہیں ہوسکتی۔ سوال: بعض اصحابِ فکر کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بعد دعوتی، علمی اور سیاسی کام کسی ایک شخصیت میں نہ جمع ہوا ہے اور نہ ہوسکتا ہے اور یہ کہ صحابہ کرام نے تقسیم کار کے اصول ہی کو اختیار کیا۔ بھی تقسیم کار کا اصول اختیار کر کے دینی کام میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔ یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اس معاملہ میں انبیائے کرام کی تقلید نہیں کی جاسکتی کہ ان کے خیال میں ان کی ذات میں یہ سارے کام جمع ہو گئے کیا تقسیم کار کی اس تعبیر سے آپ اتفاق کرتے ہیں؟

جواب: تقسیم کار کے اصول سے مجھے اصولی طور پر اتفاق ہے، لیکن تقسیم کار کس چیز میں، اس میں نہیں کہ تم دعوت کا کام کرو، تم انقلاب کا کام کرو، تم جا کر ان کو گولی مارنے کا کام کرو اور میں پڑھاتا یہ تقسیم کار نہیں، مقصد کو فوت کرنے کے ہم معنی ہے۔ بلکہ مرحلہ اول میں جس چیز کی ضرورت ہے اس میں تقسیم کا اصول اختیار کیا جائے۔ جیسے فکری انقلاب لانا ہے تو فکری کام میں تقسیم کار ہوگی۔ لوگ تحقیق کا کام کریں، کچھ اخبار نکالیں، کچھ لائبریریاں قائم کریں، وغیرہ وغیرہ۔ سوال: آپ کا خیال ہے کہ مرحلہ اول میں جو کام درکار ہیں ان میں تدریج کار ہے، ان میں تقسیم کار نہیں؟

جواب: جی ہاں، تدریج کار ہے۔ انبیائے کرام نے بھی اس طرح کی تقسیم کار کے مطابق کام نہیں کیا، بلکہ تدریج کار کے مطابق کام کیا ہے۔ یہ واقعہ کے خلاف ہے کہ انبیائے کرام نے بیک وقت تمام کام کیے ۔ اس کا ثبوت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ملتا ہے۔ مکہ میں صرف نظریہ کی

تبلیغ کی ۔ شراب اور زنا کو چھوڑنے کا حکم تک نہ اترا ۔ کعبہ میں بت نصب تھے ، ان کو چھیڑنے کا حکم نہ اسی طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ رسول اللہ نے کم از کم تیرہ سال تک اپنے آپ کو مرحلہ اول تک محدود رکھا ۔ بعد ازاں بتدریج احکام اترنے لگے ۔ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تدریج کار کے مطابق کام کیا ، تقسیم کار کے مطابق نہیں۔ سوال : ہمارے ہاں اقتدار کے بغیر اطاعت فی المعروف کی بنیاد پر بعض جماعتیں قائم کی گئی ہیں ۔ جن کا اپنے پیروکاروں سے یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ معروف میں امیر کی اطاعت ان کے لیے لازم ہے ، جس طرح اسلامی حکومت کے امیر کی اطاعت اس کی رعایا پر لازم ہوتی ہے ۔ آپ کے خیال میں کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے؟

جواب : مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک جماعت سازی یا امیر مقرر کرنا سہولت کار کے لیے یہ فریضہ دین نہیں۔ جن جماعتوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ اس کو فریضہ دین قرار دیتی ہیں۔ اسلامی مملکت کے امیر کی اطاعت سے باہر نکلنا ممکن نہیں ہوتا اور اس سے بغاوت جائز نہیں ہوتی ۔ کے فہم حدیث کا تو یہ عالم ہے کہ جو حدیث اسلامی مملکت کے امیر کے لیے ہے وہ اس کو اپنی ذات پر چسپاں کر لیتے ہیں ۔ حالانکہ "الجماعت" اور چیز ہے اور ان کی جماعت اور چیز۔

سوال : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقامت دین اسی طرح فرض ہے جس طرح کہ نماز ، زکوۃ وغیرہ؟ جواب : اقامتِ دین کا جو مطلب ہمارے ہاں بعض جماعتیں پیش کرتی ہیں ، وہ ان کا خود ساختہ وہ اقامتِ دین سے اقامتِ نظام مراد لیتی ہیں ۔ یہ اقامت دین کی غلط تعبیر ہے۔ اقامتِ دین سے مراد سارے شرعی نظام کو لوگوں کے اوپر نافذ کرنا نہیں ۔ بلکہ دین کے اس بنیادی حصے کو پوری طرح اختیار کرنا ہے جو ہر شخص سے ہر حال میں مطلوب ہے اور جس کو اپنی زندگی میں پوری طرح شامل کر لینے کے بعد کوئی شخص خدا کی نظر میں مسلمان بنتا ہے ۔ قرآن کی جس آیت سے یہ لوگ استدلال کرتے ہیں وہاں "اقیمو الدین" سے مراد اساساتِ دین ہے ، یعنی توحید اور آخرت ، وغیرہ ۔ تمام علما نے اس کی یہی تفسیر کی ہے اور اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔

سوال : مولانا ، بعض علما کا خیال ہے کہ ایک مسلمان کے لیے دین کا کام کرنے کی دو ہی یا تو وہ پہلے سے موجود کسی جماعت میں شامل ہو جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اپنی جماعت

قائم کرلے، تیسرا کوئی راستہ نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب: میں اس خیال سے متفق نہیں۔ کسی جماعت میں شمولیت کے بغیر بھی دین کا کام ہو سکتا قرآن وحدیث میں اس امر کی کوئی پابندی نہیں۔ یہ فرائض دین میں شامل نہیں۔ یہ ان لوگوں کا خود ساختہ دینی فرض ہے۔ اپنی خودساختہ تعبیروں کے لیے یہ خدا کے سامنے خود ہی جوابدہ ہوں گے۔ سوال: آپ جماعت اسلامی ہند میں طویل عرصہ تک شامل رہے ہیں۔ کیا جماعت اسلامی ہند اب بھی انہی بنیادوں پر کام کر رہی ہے، جن بنیادوں پر تقسیم ہند سے قبل کر رہی تھی؟ جواب: یہ ایک المناک کہانی ہے۔ جماعت اسلامی ہند فکری اور اعتقادی طور پر تو وہی ہے جو کہ پاکستان کی جماعت اسلامی ہے، لیکن اس کے لیے حالات کار مختلف ہیں۔ جب میں جماعت اسلامی ہند میں تھا تو اس وقت قومی اور ملکی مسائل کو پروگرام میں شامل کرنا گناہ کے درجے میں تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ بین الاقوامی جماعت ہیں، ان کا نظریہ بین الاقوامی ہے اور یہ کہ ملی مسائل حقیقت میں کچھ نہیں لیکن آج ان کی پوری تحریک ملی مسائل کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ جب تک آپ یہ اعلان نہ کریں کہ آپ نے اپنے سابقہ نظریہ کو خیر باد کہہ دیا ہے اس وقت تک ملی کے مسائل کے لیے تحریک چلانا آپ کے لیے مفید نہیں۔ یہ کیا کہ یہ بھی صحیح اور وہ بھی صحیح۔ لٹریچر میں لکھا ہوا ہے کہ تعلیم گاہیں قتل گاہیں ہیں۔ آج جماعت اسلامی کے لوگ اسکولوں میں پڑھ بھی رہے ہیں، ملازمتیں بھی کر اس طرح ان لوگوں نے دوہرا معیار اختیار کر رکھا ہے۔ اور ڈبل سٹینڈرڈ اختیار کر کے آدمی کہیں کا نہیں رہتا۔ جماعت اسلامی ہند کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے۔

سوال: جماعت اسلامی پاکستان گزشتہ پینتالیس سال سے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر آپ کے خیال میں اب تک اس کو کتنی کامیابی حاصل ہوئی؟

جواب: جماعت اسلامی پاکستان، اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جو جدوجہد کر رہی ہے، میں اس کو اصولاً صحیح سمجھتا ہوں۔ پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور آزادی کے بعد اصولی طور پر وہاں کی آبادی کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اپنے یہاں جس طریق زندگی اور جس نظام معاشرت کو چاہے رائج ایسی حالت میں پاکستان کی امت مسلمہ کا یہ فرض ہو گیا ہے کہ وہ اپنے درمیان اسلامی نظام امارت قائم کرے۔ اس کے تحت زندگی کے تمام شعبوں کو اسلامی احکام اور قوانین کے مطابق منظم

کرے لیکن جماعت کے اس جدوجہد کے پیچھے جو فلسفہ ہے، وہ صحیح نہیں۔ مجھے امید نہیں کہ ان کی یہ جدوجہد کامیاب ہوگی۔ اور اگر کامیاب ہو بھی گئی تو کردار کی کمزوری بہت جلد اس کو ناکامی میں بدل دے پاکستان میں جماعت اسلامی کی حکومت کا وہی حشر ہوگا جو کیرلا میں کبھی کمیونسٹ وزارت کا ہوا پاکستان میں جماعت اسلامی کے طریق کار سے مجھے یہ اختلاف ہے کہ اس نے تدریج کار کا خیال یہ تدریج کے اصول کے خلاف ہے کہ پہلے مرحلے میں ہی حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش یہ الٹا اہرام تعمیر کرنے کے مترادف ہے جو نہ کبھی بنا ہے اور نہ بن سکتا ہے؟ سوال: مولانا، آئے روز ہندوستان سے فرقہ وارانہ فسادات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ وہاں ان فسادات کا حقیقی سبب کیا ہے؟ اور یہ کہ وہاں کے مسلمانوں کے لیے نجات کی راہ کیا ہے؟ جواب: ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد دس بارہ کروڑ ہے۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں کہ اتنی بڑی تعداد کو ظلم اور فساد کے ذریعے مٹا دیا گیا ہو۔ اس کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے فساد مسلمانوں کی زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہیں۔ کیونکہ یہ ایک ایسی دنیا ہے کہ جہاں دبنے کے بعد زیادہ ابھرنے کا اصول رائج ہے۔ ایسے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ قانون قدرت ان کی راہ میں رکاوٹ تاریخ بتاتی ہے کہ تہذیبوں کو وجود میں لانے والی ہمیشہ وہ قومیں تھیں، جو شکست اور محرومی سے دوچار کی گئیں۔ مثال کے طور پر مغرب کی مسیحی قوتیں صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد جدید صنعتی تہذیب کی خالق بنیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو محرومی اور شکست میں مبتلا کر کے ان کے خاتمے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں جو قانونِ قدرت کے مطابق ان کے اندازوں کے سراسر خلاف، بلکہ برعکس صورت میں ظاہر ہونے والا ہے۔

سوال: سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے اب نجات کی راہ کیا ہے؟

جواب: ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ فسادات اگر بند ہوں گے تو صرف اس وقت ہوں گے جب مسلمان اپنے حصے کا فساد بند کر دیں گے۔ حصے کا سبب ختم کر کے دوسروں کو آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے حصے کا سبب ختم کر دیں۔ فرقہ وارانہ فسادات صرف یک طرفہ کارروائی سے ختم ہوسکتے ہیں اور یہ یک طرفہ کارروائی بہر حال مسلمانوں کو کرنا ہوگی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں یک طرفہ طور پر راضی ہو کر قریش کی فساد انگیز یوں کا

سلسلہ ختم کروادیا۔ اسی طرح ہمیں بھی یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو پابند بنانا ہے۔ اگر ہم دوسرے فریق کی طرف سے بندش کی کارروائی کا انتظار کریں گے تو ایسا انتظار کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ سوال: مسلمان فسادات کو ختم کرنے کے لیے کیا کریں؟

جواب: مسلمان فساد کو ختم کرنے کے لیے یہ کریں کہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ فسادات کا مشترک سبب یہ ہے کہ مسلمان اس راز کو نہیں جانتے کہ زندگی میں کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اب جس چیز کو نظر انداز کرنا چاہیے اس پر مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں اور اس کا لازمی نتیجہ فساد ہے۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا سبب کیا ہے؟ کیوں کراچی میں فساد برپا ہوتا ہے؟ میں شیعہ سنی تصادم ہوتا ہے؟ کیوں پنجابی سندھی ٹکراؤ ہوتا ہے؟ اس لیے کہ ہر ماحول میں کچھ چیزیں ایسی پائی جاتی ہیں جن سے الجھنے کے بجائے ان کو نظر انداز کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ان سے الجھنا ان کو اور بڑھانے کے ہم معنی ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اسی لیے قرآن میں صبر اور اعراض کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔

نظر انداز کر دینے والی باتوں کو نظر انداز نہ کرنا وہ غلطی ہے جس میں ہندوستان کے مسلمان بھی مبتلا ہیں اور پاکستان کے مسلمان بھی۔ اس کی قیمت دونوں جگہ کے مسلمان شدید ترین صورت میں ادا کر رہے ہندوستان کے مسلمان فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور پاکستان کے مسلمان غیر مستحکم سیاسی نظام کی صورت میں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے فسادات کا واحد حل مسلمان اس ”اعراض“ کو استعمال کریں گے تو ایک دن میں تمام فسادات بند ہو جائیں اگر مسلمان اس طریقہ پر راضی نہ ہوں گے تو موجودہ تدبیروں سے آئندہ پچاس سال تک بھی فسادات بند نہ ہوں گے، جس طرح گزشتہ پچاس سال میں اس قسم کی تدبیروں کے باوجود فسادات بند نہیں ہوئے۔ پھر یہ کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات پر جب کوئی مسلمان بات کرتا ہے تو وہ ہمیشہ ایک ہی چیز کی کوشش کرتا ہے کہ خالص قانونی اور منطقی جائزہ لے کر یہ دیکھتا ہے کہ کون سا فریق حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ یہ طریقہ سراسر غلط ہے، کیونکہ بعض امور وہ ہوتے ہیں، جن میں حق اور ناحق کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا عملی حل کیا ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر جب مسلمانوں اور قریش

کے درمیان صلح کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا تو آپ نے اس کا مضمون املا کراتے ہوئے کاتب سے کہا: لکھو یہ وہ ہے جس پر اللہ کے رسول نے صلح کیا (هٰذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ) ۔ نمائندے نے کہا: ہرگز نہیں، اگر ہم آپ کو رسول مانتے تو جھگڑا کیا تھا۔ صرف محمد بن عبد اللہ لکھو۔ نے فوراً کاتب سے کہا: محمد بن عبد اللہ لکھ دو۔ اگر آپ اس کو حق اور ناحق کا معاملہ بناتے تو کبھی اس معاملے کو ماننے پر رضا مند نہ ہوتے، خواہ سارے مسلمان وہیں کٹ کر مرجاتے ۔ مگر آپ نے عملی پہلو کیونکہ اس وقت عملاً اس کے سوا کوئی حل نہ تھا۔ اس لیے آپ محمد رسول اللہ کا لفظ چھوڑ کر صرف محمد بن عبداللہ لکھنے پر راضی ہو گئے ۔

Printed page