Al-Risala · January 2024

پاکستان کی تقدیر بے نظیر بے نظیر

Al-Risala, January 2024, pp. 38–41

By Maulana Wahiduddin Khan

(ٹائمز آف انڈیا، 20 اپریل 1986)۔ بے نظیر بھٹو اور ان کی پارٹی کا نظریہ واضح طور پر غیر مذہبی ہے۔ آج بے نظیر بھٹو کو پاکستان میں اتنی مقبولیت حاصل ہے کہ جماعت اسلامی جیسی دینی جماعتیں الیکشن کے میدان میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، یہاں تک کہ جنرل ضیاء الحق بھی نہیں۔ اسی طرح سیاست کے علاوہ دوسرے میدانوں میں بھی غیر دینی عناصر، خواہ وہ مثبت ہو یا منفی، کا غلبہ ثابت کرتا ہے کہ واقعہ وہ نہیں ہے، جیسا کہ وہاں کے کچھ دینی رہنما دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ہے کہ جس چیز کے نتیجہ میں پاکستان وجود میں آیا ہے، وہ اسلام کے نام پر غیر حکیمانہ سیاست چلانے کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ ایسی سیاست کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو ہوا۔

ایک نوجوان ملنے کے لیے آئے ، جن کا نام پتہ یہ ہے :

Aftab Book Depot, Sabzi Bagh, Patna-4 انہوں نے بتایا کہ میری زندگی اس سے پہلے بہت زیادہ غلط تھی۔ لوگ مجھ سے نفرت کرتے اس کے بعد مجھے آپ کی کتاب ’’ انسان اپنے آپ کو پہچان‘‘ ملی۔ اس کو پڑھ کر میری زندگی بالکل بدل گئی۔ اس کے بعد میں نے آپ کی ساری کتابیں پڑھ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ پیغمبر انقلاب‘‘ میں آپ نے جو منتخب حدیثیں لکھی ہیں ان کو میں نے پڑھا ۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں بالکل نئی حدیثیں پڑھ رہا ہوں، ایسی حدیثیں جن کو میں نے کبھی پڑھا نہیں تھا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی کہانی ابھی تک ان کہی کہانی (untold story) بنی ہوئی 21 اپریل 1986ء کو بھوپال میں میری ایک تقریر تھی، جس میں کثرت سے ہندو صاحبان اس موقع پر میں نے کہا کہ 1962ء کی ہند - چین جنگ کے بعد حکومت کی طرف سے بہت سے بیانات اور دستاویزیں شائع ہوئے۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج کے ریٹائرڈ لفٹننٹ جنرل مسٹر برج موہن کول (وفات 1972ء) نے اعلان کیا کہ ہند - چین کی کہانی کا اصل باب ابھی غیر بیان شدہ پڑا ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ۔ ان کہی کہانی : “The Untold Story, Allied Publishers, 1967”

میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں بھی آج آپ کو اسلام کی Untold Story سنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد میں نے وہ حدیثیں سنائیں جن کا تعلق توحید، اخلاق، عدل، مساوات انسانی اور دوسرے امورِ خیر سے ہے۔ ہندو مسلم دونوں بہت متاثر ہوئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی صدر مسٹر سارنگ نے تقریر کے بعد کھڑے ہو کر کہا کہ یہ تو وہ اسلام ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو اختیار کر لینا چاہیے ۔ ایک صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ اسلام کے تعارف پر اسی انداز پر ایک کتاب تیار کی جائے اور اس کا نام Untold Story ہو۔

امریکہ کے لیے لیبیا کے معمر قذافی کی دہشت پسندی‘‘ پریشانی کا سبب بنی ہوئی تھی۔ کے صدر ریگن نے اس کے خلاف بار بار وارننگ دی اور پھر اپریل 1986 میں طرابلس پر حملہ کر اس حملہ میں معمر قذافی کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہوائی بمباری سے کافی نقصان ہوا۔ معمر قذافی بچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس کے فوراََ بعد معمر قذافی ساری دنیا کے اخبارات میں صفحہ اول پر چھپ رہے تھے۔ کے اندر اور ملک کے باہر ان کی امیج کافی بڑھ گئی۔ امریکہ اپنے مقصد میں نا کام رہا اور معمر قذافی اپنے مقصد میں کامیاب۔ امریکہ کے سابق صدر جی کارٹر (پیدائش 1942ء) نے لیبیا پر امریکی بمباری کو ایک غلطی (mistake) قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ:

“Col. Gaddafi was an outcaste. Now he is a hero.”

(Times of India, 20 April 1986)

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی کے خلاف عملی اقدام ایک بے حد نازک اس کو حد درجہ سوچے سمجھے فیصلے کے تحت ہونا چاہیے۔ اگر ناقص اندازہ کی بنیاد پر اقدام کیا گیا تو وہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوگا۔ یعنی اس کا نتیجہ اس کے برعکس نکلے گا جو اقدام کرنے والے نے بطور خود اپنے ذہن میں فرض کر لیا تھا۔ خواہ اقدام کرنے والا امریکہ جیسا طاقتور ملک ہی کیوں نہ ہو اور جس کے خلاف اقدام کیا گیا ہے وہ لیبیا جیسا کمزور ملک۔ 25 اپریل 1986 پاکستان کے ایک اخبار میں ایک کتاب’’ قادیانیوں سے خطاب‘‘ کا اشتہار نظر سے گزرا۔ اس اشتہار کے الفاظ یہ ہیں:

انسدادِ قادیانیت آرڈیننس کے بعد قادیانی اب پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دیے جا چکے ہیں تو اب پاکستانی مسلمانوں پر یہ فرض پہلے سے بھی زیادہ شدت سے عائد ہوتا ہے کہ قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ اور قادیانی دجل کا پردہ چاک کریں۔ فرض کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کتاب تیار کی گئی ہے۔ اس کو فی الفور منگوا کر اپنے حلقہ

کے قادیانیوں میں تقسیم کر کے ایک اہم دینی فریضہ پورا کریں ‘‘۔ (ہفت روزہ المنبر، فیصل آباد، 15 مارچ 1986)

مسلمان موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کا نام لیتے ہیں ، مگر ان کے اکابر تک اس سے بے خبر ہیں کہ اسلامی دعوت حقیقتاً کیا ہے۔ وہ ’’ اسلامی دعوت ‘‘ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ’’غیر مسلموں کے دجل یعنی سازش کا پردہ چاک ‘‘ کیا جائے۔ حالانکہ اس قسم کے معاملہ کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہے یہ لفظی کشتی ہے، نہ کہ اسلامی دعوت۔

اسلامی دعوت سراسر ایک خیر خواہی کا عمل ہے۔ اس کا سر چشمہ داعی کا یہ درد ہے کہ وہ ایک بھٹکے ہوئے انسان کو راہ راست پر لے آئے۔ یہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے محبت کا عمل ہے، نہ کہ نفرت اور تحقیر کا عمل۔ لوگ دعوت اور مناظرہ بازی میں فرق نہیں کرتے، اس لیے وہ ایسے الفاظ بولتے ہیں، جس کا ایک نمونہ اوپر کے اقتباس میں نظر آتا ہے۔

Printed page