Al-Risala · November 2024

آئیڈیل وزڈم ، پریکٹیکل وزڈم

Al-Risala, November 2024, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر میں تھے۔ آپ کو یہ خبر ملی کہ راستے میں دوسری طرف سے مکہ کے خالد بن الولید آپ سے مقابلہ کرنے کے ارادے سے ایک مسلح دستہ لے کر آ رہے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو ہم لوگوں کو کسی اور راستے سے لے جائے جس پر ان سے ٹکراؤ نہ ہو (مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ بِنَا عَلَىٰ طَرِيقِ غَيْرِ طَرِيقِهِمُ الَّتِي هُمْ بِهَا؟ نے کہا کہ میں ۔ چنانچہ آپ نے اس وقت اپنے سفر کا راستہ بدل دیا ( سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 309 ) ۔ اس کی وجہ سے آپ کے ساتھیوں اور خالد کے ساتھیوں میں مڈبھیڑ نہیں ہوئی ، اور آپ وہاں پہنچ گئے جہاں آپ کو جانا تھا۔

اس طریقہ کو ایک لفظ میں پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کہہ سکتے ہیں ۔ زندگی کے واقعات کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیشہ ایسا کیا کہ آپ نے آئیڈیل وزڈم کو چھوڑا ، اور پریکٹیکل وزڈم کو اختیار کیا۔ آپ کو اپنے مشن میں جو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ، اس کا سبب یقینی طور پر یہی پریکٹیکل تجربہ بتاتا ہے کہ آئیڈیل وزڈم نتیجہ کے اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ کے برعکس، پریکٹیکل وزڈم غیر ضروری نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچادیتی ہے۔

Printed page