قارئین الرسالہ
Al-Risala, November 2024, pp. 48–49
By Maulana Wahiduddin Khan
(الرسالہ مشن کا مقصد لوگوں کو خدا سے قریب کرنا، اور ان میں اعلیٰ سوچ پیدا کرنا ہے۔ الرسالہ مشن کی کتابوں کے مطالعہ سے لوگوں کی زندگی میں کس قسم تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں، اس کی مثالیں روزانہ سامنے آتی رہتی ہیں۔ جو لوگ الرسالہ کا برابر مطالعہ کرتے ہیں ان میں معرفتِ خداوندی ،سنجیدگی اور حقیقت پسندی پیدا ہوتی ہے۔ ذیل میں الرسالہ مشن کے قدیم وجدید قارئین کے کچھ تاثرات نقل کیے جا رہے ہیں تاکہ الرسالہ کے موجودہ قارئین کو ان سے اپنے تزکیہ، معرفت اور دعوت کے لیے مزید تحریک مل سکے— ایڈیٹر)
نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں اکتوبر 1984 ایک جلسہ ہوا۔ اس میں اسلامی مرکز کی مطبوعات کا اسٹال لگایا گیا تھا۔ اس موقع پر ایک رجسٹر بھی رکھا گیا تھا، جس میں بہت سے لوگوں نے اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ ان میں سے ایک تبصرہ یہ ہے:
The 'Introduction to Islam Series' publications have been found useful, but it was observed that these are printed in English and Urdu languages only. With the viewpoint of the propagation of Islamic teachings all the useful handbooks or booklets should also be released in the rest of the modern Indian languages. On the whole, the rest of the publications displayed here are excellent and bearing the upto date information about Islam. Thanks for the endeavour in this regard. Chander Mohan, D-917, Netaji Nagar, New Delhi 23 (February 1985) شری منگل سین اپنے خط (مورخہ 4 اپریل 1985) میں لکھتے ہیں: آپ کا ماہنامہ الرسالہ باقاعدگی سے دستیاب ہو رہا ہے۔ اور جب یہ پہنچتا ہے تو سارے کام چھوڑ کر اس پر جھپٹ پڑنے کو جی چاہتا ہے۔ کسی سے بات چیت ہو رہی ہو تو فوراً ختم کر کے اس کو پڑھنا شروع کر کے تسکین ملتی ہے۔ نے آپ کے قلم میں وہ روانی عطا کی ہوئی ہے کہ جس سے ہمارے پاٹھکوں کو بہت آنند آتا ہے۔ یہ تحریر کسی خدا شناس کی تحریر معلوم پڑتی ہے۔
ایک صاحب بمبئی سے لکھتے ہیں : الرسالہ میں ایک منفر دبات یہ ہے کہ اسے کسی بھی شخص کو خواہ وہ کسی بھی شعبہ کا ہو اور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو دینے میں ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ۔ یہ بات کسی اور کتاب میں نہیں ہے ۔ ہمیں کوئی بھی پرچہ دینے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے اور بہت سی جگہ نہ دینے پر گزارا کرنا پڑتا ہے ۔ الرسالہ خدا کا خوف ، حضور سے شدید محبت اور ایمان مضبوط کرتا ہے ۔ ذریعہ غصہ ، تکبر، گھمنڈ کم ہوتا ہے اور آخرت کا ڈر اور اسلام کو پھیلانے کا احساس بڑھتا ہے ۔ پروفیسر صاحب الرسالہ ( انگریزی ) پر نظر ڈالتے ہوئے خود بخود کہہ اٹھے ، بے شک بے شک ۔ کے دور میں کم خرچ ، کم وقت اور زیادہ مناسب طریقہ پر ہم غیر مسلموں میں اسلام کو ، ” انگریزی “ الرسالہ کے ذریعے ہی پیش کر سکتے ہیں ۔
محبوب نگر سے ایک صاحب کا خط ( 12 اپریل 1985 ) موصول ہوا ہے ۔ اس خط کا ایک حصہ یہ ہے : میں حیدر آباد بذریعہ ٹرین جانے کی تیاری میں تھا کہ الرسالہ اپریل 1985 آ پہنچا ۔ سوچا کہ ڈھائی گھنٹے کے سفر کا ساتھی مل گیا ۔ ٹرین چلتی رہی ۔ میں الرسالہ میں محو تھا ۔ یہاں تک کہ آخری مضمون شروع ہوا ۔ رقت طاری ہوتی گئی ، آنسو رواں ہو گئے ۔ گردو پیش کی کچھ خبر نہ رہی ، یہ بھی یاد نہیں رہا کہ میں سفر میں ہوں میرے اطراف کم از کم چار چھ مسافر تو مجھے دیکھ رہے ہوں گے ۔ ختم ہوا تو پاس میں بیٹھے ایک غیر مسلم معمر ہم سفر نے پوچھا کیا بات ہے بھائی ، کوئی ٹریجڈی بھری کہانی پڑھ رہے تھے کیا ۔ میں نے کہا نہیں یہ مذہبی پر چہ ہے ۔ پھر میں نے ان کے کہنے پر مضمون کے بارے میں مختصر بتاتے ہوئے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے جس سے وہ کافی متاثر ہو کر کہنے لگے جو تحریک ایثار اور قربانی پر چلتی ہے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے “۔ ایک صاحب بنگلور سے ( 28 اکتوبر 1985 کے خط میں ) لکھتے ہیں : میں کئی سال سے الرسالہ کا اس سے مجھے بہت فائدہ پہنچا ۔ اس سے پہلے میں حق کی پگڈنڈی پر چل رہا تھا ، اب میں حق کی شاہراہ پر چلتے ہوئے مومن کی کیفیت اپنے اندر محسوس کرتا ہوں ۔ مولانا کا انداز بیان میرے احساس میں ایسا اترتا ہے جیسے انھوں نے میرے دل کی باتوں ہی کی تصدیق کی ہے ۔ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ مولانا صاحب سے مجھے بہت تقویت ملی ہے ۔ ( فروری 1986 )