Al-Risala · January 2024

26 اپریل 1986

Al-Risala, January 2024, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا کبیر الدین فاران ( ہماچل پر دیش ) سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ذہین آدمی ہیں۔ دوران انہوں نے کہا کہ میرے اندر تنقیدی مزاج ہے۔ مجھے کسی رائے سے اختلاف ہوتا ہے تو میں فوراً اس کا اظہار کر دیتا ہوں۔

میں نے کہا کہ یہ مزاج بذات خود صحیح مزاج ہے۔ مگر مسلمان عام طور پر ’’ اختلاف رائے ‘‘ اور ’’ اختلاف امر ‘‘ میں فرق نہیں کرتے۔ اختلاف رائے یعنی سوچ کا فرق اور اختلاف امر یعنی عملی میرے نزدیک اختلاف رائے ایک جائز عمل ہے، مگر اختلاف امر بالکل نا جائز ہے۔ اختلاف رائے اور اختلاف امر میں فرق کی مثالیں اصحاب رسول کے یہاں بھی موجود ہیں۔ عثمان کے زمانے میں صحابی رسول ابو ذر رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے۔ وہاں ان کو معلوم ہوا کہ خلیفہ ثالث عثمان رضی اللہ عنہ نے یہاں چار رکعتیں پڑھی ہیں۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے سخت الفاظ میں اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا ہوں۔ نے صرف دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر ابو بکر و عمر کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت نماز پڑھی۔ بعد ابو ذر رضی اللہ عنہ اٹھے اور چار رکعت نماز ادا کی۔ لوگوں نے کہا: آپ نے امیر المومنین پر

چار رکعت کے لیے اعتراض کیا اور خود وہی کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا: اِلْخِلَافُ أَشَدُّ (مسند احمد، حدیث نمبر 21460)۔ یعنی عملی مخالفت اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اسی قسم کا واقعہ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی ہے۔ انھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے منی میں چار رکعت پڑھنے پر بہت ہی سخت الفاظ میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور پھر خود چار رکعت پڑھی۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا: اختلاف کرنا برا ہے (اِلْخِلَافُ شَرٌّ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1962۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں رائے کے معاملہ میں اختلاف ہو جائے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ امر اور نظم (system) سے اختلاف کرنا بھی ان کے لیے اسی کمزوری کی وجہ سے مسلمانوں سے کوئی متحدہ کام نہیں ہو پاتا۔ حدیث اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةً (المقاصد الحسنہ للسخاوی، حدیث نمبر 39) کا مطلب بھی یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ اس حدیث میں اختلافی رائے کے اظہار کو رحمت کہا گیا ہے، نہ کہ عملی اختلاف و انتشار کو۔ افراد کو ہر کام میں اجتماعی نظم کا پابند رہنا چاہیے۔ رائے کو مثبت طریقے سے ظاہر کرنے کے معاملہ میں ان پر کوئی پابندی نہیں۔ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ کسی بھی شخص سے رائے کے معاملہ میں اختلاف کر سکتے ہیں خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ 27 اپریل 1986 مولانا حکیم بشیر حسن انصاری (محبوب نگر) مرکز میں تشریف لائے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک لطیفہ بیان کیا۔

کہا جاتا ہے کہ ایک نواب صاحب تھے، جن کا نام عبید تھا۔ ایک روز نواب عبید اپنی شان وشوکت کے ساتھ نکلے۔ ان کے جلوس میں ان کے خادم بھی زرق برق گھوڑوں پر سوار ہو کر چل رہے تھے۔ خادموں کا حلیہ بتا رہا تھا کہ نواب نے اپنے خادموں پر بڑی عنایات کی ہیں۔ غریب شخص نے اس منظر کو دیکھا تو اپنے اور ان خادموں کے فرق کو دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا۔ وہ خدا سے کہہ اٹھا:

Printed page