بندہ شدن از بندگان عبید بیاموز
Al-Risala, January 2024, pp. 43–16
By Maulana Wahiduddin Khan
(بندہ ہونے کو عبید کے بندوں سے سیکھو)۔ یعنی تم خدا کا بندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہو اور جب خدا کی طرف سے معمولی تکلیف پہنچی تو شکایت کرنے لگے۔ عبید کے بندے اس سے بڑی تکلیف اٹھا رہے ہیں، پھر بھی وہ شکایت کے بجائے اسی کو پکار رہے ہیں۔ وہ اسی کی طرف اپنی توجہ لگائے ہوئے ہیں۔ یہ اگرچہ ایک لطیفہ ہے، مگر اس میں منصوبہ تخلیق کا ایک بڑا سبق چھپا ہوا ہے۔ 28 اپریل 1986 ٹائمس آف انڈیا (28 اپریل 1986) صفحہ 8 پر ایک خبر حسب ذیل سرخی کے ساتھ چھپی ہے: "USSR had alerted Libya against the raid."
یہ خبر جس کی ڈیٹ لائن قاہرہ کی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن نے لیبیا پر اپنے حملہ (15 اپریل 1986) سے ایک گھنٹہ پہلے سوویت یونین کو باخبر کر دیا تھا۔ سوویت یونین نے فوراً اس کی اطلاع کرنل قذافی کو کر دی۔ یہی پیشگی اطلاع تھی جس کی بنا پر امریکہ کا حملہ ناکام ہو گیا۔ خبر میں امریکی حملہ کو "Biggest American Mistake" کہا گیا ہے۔ پا کر کرنل قذافی نے فوراً دو اقدامات کیے ۔ انہوں نے اپنے جنگی جہازوں کو پڑوسی ملک سوڈان میں اور خود اپنی رہائش گاہ عزیز یہ کیمپ سے منتقل ہو کر دوسری جگہ چلے گئے۔ اس طرح کرنل قذافی خود بھی حملہ سے محفوظ رہے اور ان کے روسی ساخت کے جنگی جہاز بھی۔ یہ انکشاف مسٹر صلاح منتصر نے کیا ہے جو اکتوبر میگزین (قاہرہ) کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ خبر اگر صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو اس کی ترقیوں نے ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی
(over confidence) میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی ہمیشہ آدمی کے لیے الٹی پڑتی ہے۔ خواہ وہ امریکہ جیسی سپر پاور کیوں نہ ہو۔
موجودہ زمانہ میں مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو صرف ایک ہی بات بتائی ہے۔ اور وہ ہے— اپنے مسائل کے لیے دوسروں سے لڑنا۔ جو مسئلہ اپنی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہو اس کو دوسروں کے شاہ بانو بیگم کا کیس (1985ء) کے سلسلے میں تمام مسلم لیڈروں نے متحدہ طور پر سپریم کورٹ اور حکومت کے خلاف پر شور مہم چلائی۔ یہ میرے نزدیک قوم کے ساتھ غداری ہے۔ کیونکہ اس سے مذکورہ ذہن مزید پختہ ہو جاتا ہے۔
اس کو ایک تقابلی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) میں ہمارے مکان کے سامنے ایک ہندو بیوہ عورت ہے۔ وہ گھروں کے دھلے ہوئے کپڑے پریس کرتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کام سے وہ روزانہ 60-70 روپے کما لیتی ہے۔ یعنی تقریباً دو ہزار روپے مہینہ۔ اس کے مقابلہ میں شاہ بانو بیگم کو لیجیے۔ وہ سات برس تک مقدمہ لڑتی رہی۔ اس کے بعد عدالت نے اس کو 180 روپے ماہوار دیے جانے کا فیصلہ کیا۔ اب غور کیجیے کہ دونوں میں سے کون زیادہ فائدہ میں ہے۔ شاہ بانو بیگم کے اندر اگر تعمیری مزاج ہوتا تو وہ کسی مفید کام میں مشغول ہو کر زیادہ نفع حاصل کر سکتی تھی۔ مگر اس کو اس کے معاشرے نے صرف لڑائی جھگڑے کا ذہن دیا تھا۔ چنانچہ وہ شوہر سے علیحدگی کے بعد اس سے مسلسل لڑتی رہی اور بالآخر اس کے حصے میں نقصان کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 125 نہیں ہے۔ جس کے خلاف ہمارے تمام اکابر جہاد کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔ بلکہ لڑائی بھڑائی کا وہ ذہن ہے جس کے سب سے زیادہ ذمہ دار خود ہمارے یہی لیڈر ہیں۔ مسلم لیڈروں کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر تعمیری مزاج پیدا کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ البتہ حکومت کے خلاف مہم چلانے کا کوئی شوشہ انہیں ہاتھ آ جائے تو اس پر خوب جوش دکھاتے ہیں۔ ان کی یہی سیاست ہے جس نے مسلمانوں کے اندر اس سرے سے اُس سرے تک تخریبی مزاج (destructive behaviour) پیدا کر دیا ہے۔ مسلمان اس قابل ہی
نہیں رہے ہیں کہ وہ مثبت انداز میں سوچیں اور تعمیری انداز میں کچھ کریں۔ ہندوستان میں 20 ہزار اخبارات نکلتے ہیں، جن کی مجموعی اشاعت (circulation) 50 ملین ہے۔ یہ تعداد 1952ء کے مقابلہ میں چوگنی زیادہ ہے۔
خالص قانونی اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہے کہ ہندوستان کے اخبارات بھی اتنا ہی آزاد ہیں جتنا کہ امریکہ یا جاپان یا مغربی یورپ کے اخبارات۔ مگر عملاً یہ بات درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کا اخبار نویس اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔ ہندوستان کا اخبار نویس اس پوزیشن میں نہیں۔
دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کا اخبار نویس اتنا دولت مند ہوتا ہے کہ اس کو کم از کم چھوٹی موٹی رشوتوں سے خریدا نہیں جا سکتا۔ جب کہ ہندوستان کا حال یہ ہے کہ رعایتی قیمت پر ایک پلاٹ، کم شرح پر ایک فلیٹ یا یورپ کا ایک تفریحی سفر (pleasure trip) بھی اس کے قلم کو متاثر کرنے کے لیے چنانچہ ہندوستان کے تاجر اور یہاں کی حکومت دونوں اخبار نویس کو مذکورہ قسم کی رشوتیں دے کر پریس کی قانونی آزادی کو خرید رہے ہیں۔
انڈین ایکسپریس (30 اپریل 1986ء) کے ایک آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ دہلی کے بہت سے انگریزی اخبار نویس بڑے بڑے تاجروں سے باقاعدہ رقمیں پاتے ہیں۔ تاکہ وہ ان کے موافق چیزیں لکھیں اور چھاپیں۔
اتر پردیش کی حکومت نے پانچ اخبار نویسوں کو یورپ کے تفریحی سفر پر روانہ کیا۔ چیف منسٹر کے ریلیف فنڈ اور جنرلسٹس ویلفیئر فنڈ سے پندرہ ہزار روپے فی اخبار نویس دیے گئے۔ نیز ان کو پستول برآمد کرنے کا لائسنس دیا گیا۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ باہر سے پستول خرید کر لائیں اور ہندوستان میں اس کو فی پستول پندرہ ہزار روپے نفع کے ساتھ بیچ دیں۔ کسی حق سے فائدہ اٹھانا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ اس کے موافق حالات بھی لوگوں کے لیے موجود ہوں۔
آج میں نے سورہ القمر کی تفسیر مکمل کی ہے۔ اس سورہ میں یہ آیت چار مرتبہ (آیت نمبر 40، آئی ہے:
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا)۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کو ایک مشکل پیش آئی ہے۔ اگر اس کا مفہوم ظاہری الفاظ کے لحاظ سے یہ لیا جائے کہ قرآن سے نصیحت حاصل کرنا بالکل آسان ہے تو ایک شخص کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ قرآن میں، معاذ اللہ، گہرے معانی موجود نہیں ہیں، یہ صرف عام لوگوں کی کتاب ہے۔ اگر یہ مانا جائے کہ قرآن میں گہرے حقائق ہیں جیسا کہ حدیث میں بھی آیا ہے کہ لا تَنْقَضِي عَجَائِبه (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)، یعنی اس کے عجائبَات ختم نہیں ہوں گے، تو پھر تفسیر کی معنویت بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے۔ جن مفسرین نے اس آیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے، ان کی لمبی لمبی عبارتوں کے باوجود متعین طور پر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔ یہ ہے کہ جن مفسرین نے زیادہ تفصیل کے ساتھ اس آیت کا مفہوم بتانے کی کوشش کی ہے، انہوں نے آیت کو اور زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔
اسی الجھن کی بنا پر ایسا ہوا کہ میں نے سورہ القمر کی پوری تفسیر لکھ لی، مگر اس آیت کی تفسیر لکھنے سے رہ گئی۔ آج جب کہ تفسیر کے خاتمہ پر اس آیت کے بارے میں غور کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مضمون کا گویا القا ہوا اور دل نے کہا کہ یہی اصل تفسیر ہے۔ ”تذکیر القرآن‘ میں یہی تفسیر حسب ذیل الفاظ میں درج ہے:
”قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے اندازِ بیان میں حد درجہ وضوح (clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہو گیا خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی۔ تذکیر القرآن کی ترتیب کے سلسلے میں مجھ کو اس طرح کے تجربے بار بار پیش آئے ہیں۔
زندگی کے قیمتی سال (نئے سال کا پیغام)
آدمی کی اوسط عمر اس دنیا میں تقریباََ ستر سال ہے۔ بڑھاپے کی عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اولڈ از گولڈ (old is gold)۔ یہ قول لفظ بہ لفظ صحیح ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں آدمی سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے بعد والوں کو اپنا بہترین (best) دے سکے ۔ زیادہ تجربہ، زیادہ دانش مندی، زندگی کی زیادہ بہتر پلاننگ۔ یہ سنہری موقع ہر اس انسان کے لیے ہے، جس کی عمر زیادہ ہو جائے، بشر طیکہ وہ اس دنیا میں با اصول انسان (man of principle) بن کر زندگی گزارے :
(1) وہ صحت کے فطری اصول کا پابند ہو، تا کہ وہ اپنی عمر کے آخر دور تک دنیا میں قابل کار بنا رہے۔ (2) وہ سادہ زندگی گزارے، اور اپنے آپ کو اسراف سے بچائے۔
(3) وہ کسی حال میں اپنے آپ کو کسی غلط عادت میں مبتلا نہ ہونے دے۔ (4) وہ ہر حال میں مثبت سوچ (positive thinking) کا طریقہ اختیار کرے، حتیٰ کہ وہ منفی تجربہ کو مثبت سبق میں تبدیل کر سکے۔
(5) وہ کسی سے امید نہ رکھے ۔
(6) وہ اس دنیا میں دینے والا بن کر رہے، نہ کہ لینے والا۔
(7) وہ غصہ سے اس طرح بچے جس طرح کوئی شخص اپنے آپ کو سانپ بچھو سے بچاتا ہے۔ (8) وہ سچے دل سے لوگوں کا خیر خواہ بنے۔
(9) اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرلے، وہ ایسا ہر گز نہ کرے کہ اپنی غلطی کے لیے عذر (excuse) پیش کرنا شروع کر دے۔
(10) وہ لوگوں کے درمیان ہمیشہ متواضع (modest) بن کر رہے۔
سی پی ایس انٹرنیشنل کا اہم مقصد یہ ہے کہ ساری دنیا میں قرآن کو انسان کی قابل فہم زبانوں میں عام کیا جائے۔ اس مقصد سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے، وہ ذیل کے تاثر سے معلوم ہو سکتا ہے۔ یہ تاثر ایک اسپینی خاتون نے دیا ان کو اسپینی ترجمۂ قرآن عرب امارات میں ایک سی پی ایس ممبر نے دیا تھا: “The Quran in Spanish is a blessing. I am very grateful to have the word of God in my language and physical form. It is very easy to understand and makes you want to read it. I think it is very important that each person has a Qur'an in their language. It feels very comfortable and pleasant to have it. For example, I don't speak English very well or Arabic. I got it on the internet, but seeing it, touching it, and being able to read it without language restrictions is wonderful.” مسٹر طارق عزیز کولکاتا میں رہتے ہیں، اور ایم بی بی ایس کے اسٹوڈنٹ ہیں، ان کو جو فائدہ حاصل ہوا ہے، وہ انھوں نے ان الفاظ میں لکھا ہے:
“Mualana Wahiduddin khan's lectures have taught me the art of my anger and ego management.” (tarikaziz****@gmail.com)
سی پی ایس سہارن پور کی ٹیم نے 2 دسمبر 2023 ایم ایم انٹرنیشنل اسکول سہارن پور میں منعقد انٹرفیتھ پروگرام میں ڈاکٹر محمد اسلم خاں کی سرپرستی میں حصہ لیا۔ وہاں انھوں نے بتایا کہ اسلام کا مشن لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ قرآن یہی تعلیم دیتا ہے۔ اور یہ بھی ایک غلط فہمی ہے کہ قرآن کسی خاص قوم کی کتاب ہے، قرآن تمام انسانوں کی کتاب ہے۔ اس لیے تمام لوگوں کو قرآن پڑھنا چاہیے۔ مزرینو (سہارن پور) اس سے پہلے مولا نا وحید الدین خاں صاحب کی کتابیں پڑھ چکی تھیں، انھوں نے بتایا کہ مولانا صاحب کی کتابیں ہمیں ایشور سے جوڑنے کا کام کرتی ہیں۔ پروگرام کے اختتام پر تمام شرکا کے درمیان سی پی ایس کا اسپرپچول لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
On invitation from the Jesuit Priests of Ashirvad, accompanied by Abrar Mudasser. I attended a session on giving inputs for introdu- cing a study of different religions at school and pre university level on 9th December 2023. There are 58 schools run by the Jesuits in Karnataka. The purpose they mentioned was to give an understanding
مولانا وحید الدین خاں صاحب نے 2001 ء میں افراد کے تزکیہ اور تربیت کے لیے سنڈے کلاس کا سلسلہ شروع یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ہر اتوار کو ڈاکٹر فریدہ خاںم اور ڈاکٹر ثانی اثنین خان خطاب کرتے یہ خطاب سی پی ایس انٹرنیشنل کے فیس بک پیج (www.fb.com/maulanawkhan) پر ہندوستانی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے سے لائیو سنا جا سکتا ہے۔ 10 دسمبر کو ڈاکٹر فریدہ خانم نے خطاب ان کا موضوع تھا: خدا کے نام پر جنگ (Making War in the Name of God)۔ خطاب میں ڈاکٹر صاحبہ نے یہ واضح کیا کہ تمام پیغمبروں کے آنے کا مقصد انسانوں کو جنت کا راستہ دکھانا اور جہنم سے دور کرنا تھا۔ یہ مقصد بالکل بھی نہیں تھا کہ انسانوں کو مذہبی جنگ کے نام پر قتل کرکے ہمیشہ کے لیے اللہ کی رحمت یعنی جنت سے محروم کر دیا جائے ۔ جیسا کہ آج کل کچھ مسلمان کر رہے ہیں۔ یہ روش آدم سے محمد تک تمام پیغمبر علیہم السلام کے مقصد کو جیو پرڈائز (jeopardize) کرنے کے ہم معنی ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل (یو ایس چیپٹر) کے ممبر خواجہ کلیم الدین صاحب نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ دسمبر 2023 میں وسطی امریکا کے ملک ایل سیلوا ڈور کا دورہ کیا۔ تاکہ وہاں دعوتی امکانات کا جائزہ لے کر قرآن کا پیغام عام کیا جائے۔ ذیل میں ان کے اس دورہ کی کچھ باتیں ان کے الفاظ میں شیئر کی جا رہی ہیں:
name of Mahmoud. He took us to a very nice hotel named Beverly Hills. He gave us the whole week's program from 3rd to 10th December. During this trip, we came to Santa Ana as per the program given. Here, at a mosque, we were introduced to the community waiting for us. I gave a brief talk on delivering the message. We then had lunch and went downtown to distribute Quran with a group of people from the community consisting of young people. El Salvador is an excellent place for Quran distribution, as it is a highly welcoming and open society. (Khaja Kaleemuddin, CPS USA)
7- ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے ترجمے کا کام جاری ہے۔ اور جدید چیلنج" کااب ااسپینش زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ "عظمتِ قرآن" کے منتخب حصوں کے ترجمے انگریزی زبان میں پہلے ہی شائع ہو چکے تھے۔ اب یہ منتخب حصے عربی اور سپینش زبانوں میں بھی ترجمہ ہو کر شائع ہو گئے اس کے علاوہ ہندی، بنگالی، تامل، تیلگو، کنڑا، مراٹھی، آسامی، گجراتی اور انگریزی زبانوں میں بھی ترجمے کا سلسلہ جاری ہے۔ انگریزی میں اب تک تقریباً 120 چھوٹی بڑی کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ معرفت" اور "اسلام ایک تعارف"۔ ہندی میں تقریباً 25 کتابوں کے ترجمے ہو چکے ہیں، مثلاً "امنِ عالارم۔ بنگالی میں 7 کتابوں کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں، مثلاً "اسلام دورِ جدید کا خالق"۔ اسی طرح ساؤتھ انڈیا کی چاروں زبانوں میں سے تیلگو میں تقریباً 96 کتابوں کے ترجمے ہو چکے ہیں۔ مثلاً "دورِ دعوت" اور "پیغمبرِ کنڑا میں 5 کتابوں کے ترجمے ہو چکے ہیں۔ مثلاً "اللہ اکبر"۔ ملیالم میں 14 کتابوں کے ترجمے ہو چکے ہیں، مثلاً "قرانک وزڈم"۔ اور تامل میں 10 کتابوں کے ترجمے ہو چکے ہیں، مثلاً "رازِ حیات"۔ نارتھ ایسٹ کی مختلف زبانوں میں بھی ترجمہ کا کام جاری ہے۔ مثلاً "قیامت کا الم" (منی پوری)۔ اسی طرح اب تک اردو کے علاوہ "تذکیر القرآن" کے 4 زبانوں (انگریزی، ہندی، تھائی، اور سندھی) میں ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ اور بنگلہ زبان میں ترجمہ کا کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 40 نیشنل اور انٹرنیشنل زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ ان تمام کتابوں اور تراجم قرآن کو سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ ویب سائٹ وزٹ کرنے کے لیے ذیل میں دیے گئے QR کوڈ کو اپنے فون سے اسکین کیجیے۔
सुफ़ियान का बाबा हिन्द बिन्त उत्बा था। यह वह औरत है, जिसन उहुद का जंग में हज़रत हमज़ा की लाश की बेहुरमती की थी। वह कई औरतों के साथ आई। उसने कहा कि अगर मैं मुहम्मद (स.) के सामने बोली तो वह मुझे पहचान लेंगे, और अगर उन्होंने पहचान लिया तो वह मुझे क़त्ल कर देंगे। बैअत (दीक्षा) के वक़्त हिन्द ने नक़ाब से अपना चेहरा छिपा लिया। मगर वह ऊंचे ख़ानदान की औरत थी, इसलिए वह अपनी बड़ाई के अहसास से चुप न रह सकी। बैअत के अल्फाज़ अदा करते हुए जब रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने औरतों से फ़रमाया कि यूं कहो कि हम अपनी औलाद को क़त्ल न करेंगे, तो हिन्द ने बेबदाश्त होकर गुस्ताख़ी के अल्फाज़ कहे। उसके अल्फाज़ अलग-अलग रिवायतों में इस तरह नक़्ल किए गए हैं: • हिन्द ने कहा कि आपने उनको बद्र के दिन क़त्ल कर दिया इसलिए आप जानें और वे जानें। • हमने छोटे पर उन्हें पाला और बड़े पर आपने उन्हें क़त्ल कर दिया। • आप ख़ुद तो उनके बापों को क़त्ल करते हैं और हमको उनकी औलाद के बारे में नसीहत कर रहे हैं। हिन्द ने इससे पहले भी बार-बार रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम की शान में गुस्ताख़ी की थी। ऊपर वाले वाक़िए में तो उसने आमने-सामने तौहीने-
आज मुसलमाना से सबस बड़ा चीज़ जा खाइ गई ह वह रहमत वाल नबा का यही तरीक़ा है। रिवायत में आता है कि रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम मदीना की मस्जिदे-नबवी में बैठे हुए थे। आपके असहाब (साथी) भी वहां मौजूद थे। इतने में एक अ'राबी (देहाती) वहां आया। वह मसजिद के अंदर एक जगह खड़ा होकर पेशाब करने लगा। सहाबा उसको पकड़ने और मारने के लिए दौड़े। रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने उन्हें रोका और कहा कि इसे छोड़ दो। जब अ'राबी पेशाब कर चुका तो आपने कहा कि एक बाल्टी पानी लो और जहां उसने पेशाब किया है वहां पानी बहा कर उसको साफ़ कर दो। इसके बाद आपने अ'राबी को बुलाया और नरमी के साथ उससे कहा कि देखो यह मसजिद है। यहां ख़ुदा का ज़िक्र और इबादत की जाती है। यह पेशाब वग़ैरह करने की अ'राबी पर इस वाक़ए का बहुत असर हुआ। पहले उसका गंवारपन जागा हुआ था, अब उसका ज़मीर (अंतरात्मा) जाग उठा। वह उसी हालत में अपने क़बीले में वापस गया। वहां वह लोगों से दीवानावार कहता फिरता था कि देखो, मैं मदीना गया। वहां मैंने यह गंदा काम किया कि मुहम्मद की मसजिद में पेशाब
एहतराम (सम्मान) कर और उसम एक ख़ुदा के आगे सजदा करके अपना फ़रमाँबरदारी और निष्ठा कर इज़हार करें। यह रिसालत के दौर का वाक़िआ है। अब मौजूदा ज़माने के मुसलमानों को देखिए। 1831 में सय्यद अहमद शहीद बरेलवी को यह ख़बर मिली कि पंजाब के महाराजा रणजीत सिंह ने पंजाब की कुछ मस्जिदों को अस्तबल बना दिया है। वहां उसके घोड़े बंधे होते हैं। यह ख़बर सुनने के बाद उन्हें इसकी तहक़ीक़ करने की ज़रूरत महसूस नहीं हुई। वह बहुत से मुसलमानों को लेकर पंजाब पहुंचे और रणजीत सिंह की फौजों से लड़ गए। इस लड़ाई में हज़ारों मुसलमान मारे गए। एक तज़किरानिगार ने लिखा है कि पंजाब की ज़मीन मुसलमानों के ख़ून से लाल हो गई। 1857 के ग़दर (या आज़ादी की लड़ाई) में यह वाक़िआ हुआ कि मुसलमान इस बात पर भड़क उठे कि उन्हें हुक्मराजों की तरफ से ऐसे कारतूस दिए गए हैं, जिनमें सुअर की चर्बी लगी हुई है, या कुछ अंग्रेज़ सिपाही घोड़ों पर चढ़ कर किसी मस्जिद में दाख़िल हो गए हैं। इसके नतीजे में मुसलमानों ने अंग्रेज़ों से जो लड़ाई लड़ी, उसमें लाखों मुसलमान मारे गए। बेशुमार मुसलमानों का ख़ून बहा। मगर सब कुछ बेकार, क्योंकि जो सूरते-हाल थी वह बदस्तूर और भी शिद्दत के साथ बरक़रार रही। उस वक़्त से लेकर अब तक लड़ाई-भिड़ाई का सिलसिला जारी है। मुसलमान हर तरफ़ अपना ख़ून बहा रहे हैं। ग़ैर क़ौम का कोई शख़्स मस्जिद की दीवार पर
उसका नापन के लिए बाल्टी का नहीं बल्कि ड्रम की ज़रूरत होगा। मुसलमानों के अपने बयान के मुताबिक सड़कों पर मुसलमानों का ख़ून बह रहा है, बस्तियां मुसलमानों के ख़ून से सुर्ख हो रही हैं। अब देखिए कि यह सारा ख़ून जो बहाया जा रहा है उसका फ़ायदा क्या है? क्या इसकी वजह से ख़ुदा के बंदे ख़ुदा के दीन में दाख़िल हो रहे हैं? क्या इसकी वजह से इस्लाम के दुश्मन इस्लाम के दोस्त बन रहे हैं? क्या इसकी वजह से ऐसा हो रहा है कि क़ौमें और क़बीले इस्लाम में दाख़िल होकर इस्लाम की ताक़त बन जाएं? ज़ाहिर है कि ऐसा नहीं है। मुसलमानों के ख़ून का सैलाब सौ साल से भी ज़्यादा मुद्दत से बह रहा है। पर एक भी शख़्स नहीं जिसकी रूह को ख़ून के इस दरिया ने पाक किया हो। कोई एक आदमी नहीं जो इस ख़ून की वजह से मुसलमानों के दीन में दाख़िल हुआ हो। कोई एक क़बीला नहीं, जिसने मुसलमानों के इस अमल को देख कर ऐसा किया हो कि वह ख़ुदा की नाफ़रमानी को छोड़ कर ख़ुदा का मोमिन (मानने वाला) और ख़ुदा का मुसलिम (आज्ञाकारी) बन जाए। यह फ़र्क क्यों है? रिसालत के दौर में पानी ने जो नतीजा दिखाया था, बाद के दौर में ख़ून भी वह नतीजा न दिखा सका। इस फ़र्क की वजह यह है कि रसूल का पानी मुहब्बत का पानी था। और मौजूदा मुसलमानों का ख़ून नफ़रत का ख़ून है। रसूल ने इंसान के ऊपर माफ़ी, ख़ैरख्वाही, शफ़क़त, प्यार और मेहरबानी की
रहा हा वह एक विलियन (एक अरब) मुसलमाना के बावज़ूद सारा दुनियां का कमज़ोर और मग़लूब (प्रभुत्वहीन) मज़हब बना हुआ। हर आदमी में पैदायशी तौर पर अलग तरह की सलाहियतें होती हैं। एक नफ़्से-लव्वामा (ज़मीर, अंतरात्मा) और दूसरी नफ़्से-अम्मारा (अनानियत या अहंकार)। ये सलाहियतें पहले सोई होती हैं। अब अगर आप किसी दूसरे के नफ़्से-लव्वामा को जगाएं तो उसकी शख्सियत का इंसानी जुज़ (मानवीय अंश) आपके हिस्से आएगा, और अगर आप उस नफ़्से-अम्मारा को जगाएं तो उसकी शख्सियत का हैवानी जुज़ (पाभाविक अंश) आपके हिस्से आएगा। रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम की कोशिश हमेशा यह होती थी कि आप आदमी के वजूद के इंसानी हिस्से को जगाएं। इसलिए आप न सिर्फ़ अच्छों के साथ अच्छा सलूक करते थे, बल्कि बुरों के साथ भी आप हमेशा अच्छा सलूक करते थे, इसकी वजह से आदमी की छुपी हुई 'फ़ितरत' जागती और आखिरकार वह इस्लाम कुबूल करके आपका साथी बन जाता था। मौजूदा मुसलमान रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम की सुन्नत पर अमल नहीं करते कि 'बुरों के साथ भी अच्छा सलूक करो।' वह हमेशा रद्दे-अमल (प्रतिक्रिया) का तरीक़ा अपनाते हैं। इसीलिए उनका तरीक़ा सिर्फ़ दूसरे की अनानियत और अहंकार को जगाने सबब बनता है। ख़ुदा के बन्दों के लिए उनके पास 'मुहब्बत का पानी' नहीं, अलबत्ता उनके पास 'नफ़रत का ख़ून' काफ़्री मिकदार में मौजूद है, जिसको वे लोगों के ऊपर उंडेलते रहते हैं।
से थे, जिनके ज़रिए अल्लाह न दीन को ताक़त दी (सीरत अल-नबूवत इब्न कसीर, पहला भाग, पेज 446)। हज़रत हम्ज़ा को यह मुक़ाम ऐसे ही नहीं मिल गया, बल्कि वह उनके सच्चे अमल के नतीजे में उन्हें हासिल हुआ। रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम को जब हुक्म हुआ कि अपने ख़ानदान के क़रीबी लोगों को आगाह करो (अल-शुअरा, 214) तो आपने ख़ास तौर पर हम्ज़ा के सामने दीने-तौहीद पेश किया, मगर उनके ज़ेहन पर बाप-दादा के दीन का इतना असर था कि शुरू में कई साल तक इस्लाम की सच्चाई उनकी समझ में न आ सकी। आख़िरकार नबूवत के छठे साल उन्होंने इस्लाम क़बूल एक रोज़ वह शिकार खेल कर वापस आए। उन के हाथ में लोहे की कमान थी। ठीक उसी वक़्त एक औरत ने आकर उनसे कहा कि अभी मैंने सफ़ा पहाड़ी के पास मुहम्मद को देखा है। वहां अम्र बिन हिशाम (अबू जहल) भी था और वह तुम्हारे भतीजे को गाली दे रहा था और बहुत ज़्यादा बुरा कह रहा था। हम्ज़ा ख़ानदानी ग़ैरत के तहत घर से निकले काबे में उन्होंने अबू जहल को पा लिया। वह अभी तक गुस्से में थे। उन्होंने लोहे की कमान अबू जहल के सिर पर इतने ज़ोर से मारी कि ख़ून निकल आया। उन्होंने अबू जहल से कहा कि तुम मेरे भतीजे के दुश्मन बने हुए हो, तो सुन लो कि मेरा दीन भी वही है जो मुहम्मद का दीन है। अबू जहल का ताल्लुक़ क़बीला बनू मख्जूम से था और हम्ज़ा का ताल्लुक़ क़बीला बनू हिशाम से।
रहा उन्हें सारी रात नींद नहीं आई। सुबह हुई तो इसी बचना में काबा में गए वहां अल्लाह से उन्होंने दुआ की:
मैंने जो कुछ किया, ऐ अल्लाह, अगर वह हिदायत है तो उसकी तसदीक़ मेरे दिल में डाल दे। वरना मैं जिस में पड़ गया हूं उससे मेरे लिए निकलने की सूरत पैदा कर दे (पेज 446)। इसी के साथ अगले दिन वह रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम से मिले। उन्होंने आप से कहा कि मेरे भतीजे, मैं एक मामले में पड़ गया हूं। और उससे निकलने की सूरत मुझे नज़र नहीं आती। मुझे यह भी नहीं मामूल कि यह सही रास्ता है या गुमराही है। इसलिए आप इस मामले में मुझे बताइए। ऐ भतीजे, मैं तुमसे इस मामले में सुनना चाहता हूं। रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने उनको नसीहत की। उन्हें ख़ौफ़ दिलाया और उनको अल्लाह के इनाम की ख़ुशख़बरी दी। इसके बाद अल्लाह ने उनके दिल में यक़ीन डाल दिया। उन्होंने कहा कि मैं गवाही देता हूं कि आप सच्चे हैं। ऐ मेरे भतीजे, अपने दीन का आम ऐलान करो। ख़ुदा की क़सम, अगर मुझे वह सब कुछ दिया जाए जिस पर आसमान ने साया किया है, तब भी मैं इस दीन को नहीं छोडूंगा (पेज 446)। इसके बाद हज़रत हम्ज़ा पूरी तरह आप के साथी बन गए। जाहिलियत (इस्लाम से पहले) के ज़माने में वह एक दौलतमन्द शख़्स थे। इस्लाम में आने के बाद उनकी दौलत ख़त्म हो गई। उन्हें अपने वतन मक्का को छोड़ कर मदीना जाना पड़ा। इस्लाम की ख़ातिर उन्हें अपनी क़ौम से लड़ाई लड़नी पड़ी। यहां तक कि
तो उन्होंने उस शक का क़बूल नहा कर लिया, बल्कि उसके लिए रा-रा कर दुआएं कीं। रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम से मिल कर उसकी सफ़ाई मालूम की। और जब बात साफ़ हो गई तो फिर कोई चीज़ उनके लिए एतिराफ़ (स्वीकार) करने में रुकावट नहीं बनी। उन्होंने न सिर्फ़ खुले दिल से एतिराफ़ किया, बल्कि हर नुक़सान और मुसीबत को बर्दाश्त करते हुए बराबर उस पर क़ायम रहे। यह है हज़रत हम्ज़ा की वह कुर्बानी, जिसके नतीजे में सारी दुनिया के मुसलमान हर हफ़्ते जुमा' के खुतबे में 'सैयदशशुहदा हम्ज़ा' कह कर उनकी दीनी बढ़ाई का एतिराफ़ करते हैं। दावत का काम सबसे ज़्यादा कीमती है। रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमायाः अल्लाह तुम्हारे ज़रिए से एक आदमी को हिदायत दे दे तो तुम्हारे लिए उन तमाम चीज़ों से बेहतर है जिन पर सूरज तुलूअ (उदय) होता है। (जामिउ बयानिल इल्म व फ़ज़्लिही, हदीस नंबर 774) इजतिमाई ज़िन्दगी हर हाल में ज़रूरी अबुर्द र्दा' कहते हैं कि रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम को यह कहते सुना : “जिस गांव या जंगल में तीन आदमी हों और वहां जमाअत से नमाज़ न होती हो तो उन पर शैतान हावी हो जाता है। इसलिए जमाअत को
करत था आपका अहल्या हज़रत आयशा रज़ा अल्लाहु अन्हा न बाद के ज़माने के लोगों से फरमाया:
रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम तुम लोगों की तरह तेज़- तेज़ नहीं बोलते थे, बल्कि आपके कलाम में ठहराव होता था। आप के पास बैठा हुआ आदमी उसको याद कर लेता था (ज़ादुल- एक और रिवायत में ये अल्फ़ाज़ आए हैं:
रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम इस तरह तेज़-तेज़ बातें नहीं करते थे जैसे तुम करते हो, आप इस तरह बात करते थे कि अगर गिनने वाला गिने तो उसको गिन ले। (बुखारी, मुस्लिम) मोमिन का बोलना एक ऐसे शख़्स का बोलना होता है जो अल्लाह से डरने वाला हो। मोमिन को यक़ीन होता है कि उसका हर लफ़्ज़ फ़रिश्ते लिख रहे हैं। वह अपनी कही हर बात के लिए ख़ुदा के यहां जवाबदेह होने वाला है। मोमिन का यह यक़ीन उसके अन्दर ज़िम्मेदारी का एहसास पैदा कर देता है। वह जब बोलता है तो उसको ऐसा महसूस होता है जैसे वह ख़ुदा और फ़रिश्ते के सामने बोल रहा है। यह एहसास उसकी ज़ुबान पर लगाम लगा देता है। वह बोलने से पहले सोचता है। वह जब बोलता है तो अल्फ़ाज़ तोल कर अपने मुंह से निकालता है। ख़ुदा का ख़ौफ़ उससे तेज़-कलामी का अन्दाज़ छीन लेता है।
होता है, जिसका नक़्शा हज़रत आयशा का ऊपर वाला रिवायत में नज़र आता ह मक्का की फ़तह (8 हिजरी) के बाद रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने मक्का से तायफ़ का सफ़र किया। इस सफ़र के दौरान जो वाक़िआत पेश आए, उनमें से एक वाक़िआ वह है जो इन अल्फ़ाज़ में नक़ल किया गया है: फिर आप उस रास्ते में चले जिसे ज़ैक़ा (तंग) कहा जाता था। जब आप उस तरफ़ चले तो आपने उसका नाम पूछा और कहा कि उसका नाम क्या है। आपको बताया गया कि ज़ैक़ा (तंग)। आपने फ़रमाया कि नहीं, बल्कि वह युसरा (आसान) है। (सीरत
यह वाक़िआ बताता है कि रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम का तालीम और तरबियत का तरीक़ा क्या था। वह आदमी के तर्ज़-फिक्र और सोचने के अंदाज़ को बदलना था। लोग जिस चीज़ को 'मुश्किल' के रूप में देख रहे हों, उसके बारे में ऐसी नज़र पैदा करना कि वे उसको 'आसानी' के रूप में देखने लगें। आज ज़रूरत है कि पैग़म्बर की इस सुन्नत को ज़िंदा किया जाए। लोगों के सोचने के तरीक़े को बदलना और उनके ज़ेहन को दुरुस्त करना, यही आज करने का सबसे बड़ा काम है, इसी काम के करने पर मुस्लिम मिल्लत का मुस्तक़बिल टिका हुआ है।
दूसरा क़ौमों को अपना शत्रु और प्रातद्वंद्व़ी समझ हुए हैं; इसके बजाए उनके अंदर यह निगाह पैदा करना कि वे दूसरी क़ौमों को ‘मदऊ’ (निमंत्रित) की हैसियत दें और उनके साथ ‘दाईयाना’ यानी आमंत्रण और आवाहन वाला अख़लाक़ बरतें। ख़ुलासा यह कि मुसलमानों के अंदर ऐसा फिक्री इन्क़िलाब (वैचारिक क्रांति) लाना कि वे मौजूदा क़ौमी निगाह को छोड़ दें और चीज़ों को रब्बानी निगाह से देखने लगें। आज सबसे बड़ी ज़रूरत यह है कि उस छोड़ी हुई सुन्नत को दोबारा ज़िन्दा किया जाए। दो इमकानात के दरम्यान रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम जब दुआ फ़रमाते तो अक्सर इस किस्म के अल्फाज़ फ़रमातेः ऐ दिलों को फेरने वाले, मेरे दिल को अपने दीन पर जमा दे। हज़रत आयशा ने एक रोज़ सुना तो कहाः ऐ ख़ुदा के रसूल, आप यह दुआ बहुत करते हैं। इसकी क्या वजह है? आपने फ़रमायाः हर आदमी का दिल अल्लाह की उंगलियों में से दो उंगली के बीच होता है। जब वह उसको सीधा करना चाहता है तो सीधा कर देता है और जब वह उसको टेढ़ा करना चाहता है तो टेढ़ा कर देता है। (मुसनद अहमद, हदीस नंबर 17630)
अल्लाह का मदद ही उसका सही राह पर क़ायम रख सकता है। इन्सान इन्किलाब चाहता है। उसी के साथ वह चाहता है कि यह इन्किलाब ग़ैर-ख़ूनी तौर पर आए। मगर इतिहास बताता है कि कोई भी शख़्स ग़ैर-ख़ूनी इन्किलाब लाने में कामयाब न हो सका। तमाम मालूम इन्किलाब क़त्ल और खून के जंगल को पार करके ही आए हैं। मुहम्मद सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम का लाया हुआ इन्किलाब तमाम मालूम इतिहास का अकेला इन्किलाब है जो सही मानो में ग़ैर-ख़ूनी इन्किलाब (bloodless revolution) है। मुहम्मद सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम को अगर इतिहास से हटा दिया जाए तो न सिर्फ़ ग़ैर-ख़ूनी इन्किलाब की यह बात अफ़साना बन कर रह जाती है, बल्कि उसके बाद कोई ऐसी व्यावहारिक मिसाल बाक़ी नहीं रहती जिसकी रोशनी में कोई इन्सान बाद के ज़मानों में ग़ैर-ख़ूनी इन्किलाब की बात सोच सके। फ्रान्स में आधुनिक लोकतांत्रिक इन्किलाब आया। इसमें जनता और राजतंत्र के बीच जो मुक़ाबले हुए उनमें मरने वालों की तादाद 10 लाख तक पहुंच गई। बीसवीं सदी में रूस में कम्यूनिस्ट इन्किलाब आया। उसमें जो लोग मरे और मारे गए उनकी ठीक-ઠીक तादाद मालूम नहीं। फिर भी अन्दाज़ा है कि उनकी तादाद किसी हाल में एक करोड़ से कम नहीं। अमरीकी इन्किलाब (1773-1783) में इससे कुछ कम आदमी मरे। फिर भी इसमें मरने वालों की तादाद 50 हज़ार तक पहुंच गई। विश्व युद्धों का मामला इससे भी आगे है। पहले विश्व-युद्ध में विभिन्न
प्रक्रिया में सिर्फ 1018 आदमी मरे, जिनम 259 मुसलमान थे और 759 ग़ैरमुस्लिम। यह तादाद घटना को देखते हुए इतनी कम है कि वह लगभग नहीं के बराबर है। आपके लाए हुए इन्क़िलाब को बेशक पूरे मा'नों में ग़ैर-ख़ूनी इन्क़िलाब कहा जा सकता है। हर लीडर ग़ैर-ख़ूनी इन्क़िलाब लाने का दावा करता है। मगर कोई लीडर ग़ैर- ख़ूनी इन्क़िलाब लाने में कामयाब नहीं होता। इसकी वजह क्या है? इसकी वजह यह है कि दुनिया में ग़ैर-ख़ूनी इन्क़िलाब लाने के लिए खुद अपने आपको खून करना पड़ता है। और यही वह कीमत है जिसके देने के लिए कोई शख्स तैयार नहीं। ख़ूनी इन्क़िलाब टकरार की ज़मीन पर आते हैं और ग़ैर-ख़ूनी इन्क़िलाब सब्र और संयम की ज़मीन पर, और किसी इन्सान के लिए सब्र से ज्यादा मुश्किल काम इस दुनिया में कोई और नहीं। सब्र की हक़ीक़त झटके को अपने ऊपर लेना है, दूसरे पर डालने के बजाए अपने आप पर सहना है। हक़ीक़त यह है कि लड़ाई के बगैर भी जीत होती है। मगर लड़ाई के बग़ैर जीतने के लिए अपने आप से लड़ना पड़ता है। लोग अपने आप से लड़ नहीं पाते, इसलिए वे लड़ाई के बग़ैर लड़ाई जीतने वाले भी नहीं बनते। मुहम्मद सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ग़ैर-ख़ूनी इन्क़िलाब लाने में किस तरह कमियाब हुए, इसका अन्दाज़ा आपकी ज़िन्दगी के हालात को पढ़ने से होता है। मक्का में 13 साल तक आपके विरोधियों ने आपको और आपके साथियों को हर तरह की तकलीफें पहुंचाई। उन्होंने अल्फाज़ की चोट भी दी और पत्थर और
चल गए आपन न इसके खिलाफ फ़रियाद की कि आपका आपके साथियों को अपने वतन और अपनी जायदाद को छोड़ना पड़ रहा है और न इसकी परवा की कि इस तरह वतन छोड़ कर जाने की वजह से लोग आप पर बुज़दिली और फ़रार का इलज़ाम लगाएंगे। मदीना चले जाने के बाद मक्का के लोगों ने आपके खिलाफ़ जंग छेड़ दी। उस वक़्त भी आपकी पालिसी यह रही कि जहां तक हो सके जंग से बचा जाए। मिसाल के तौर पर अहज़ाब के मौक़े पर आपने खाई खोद कर अपने और अपने दुश्मनों के बीच आड़ क़ायम कर दी। आपने सिर्फ़ बचाव (डिफेंस) में जंग की और वह भी उस वक़्त जबकि मुठभेड के सिवा कोई और सूरत बाक़ी न रह गई हो। ऐसी बाक़ायदा जंगे सिर्फ़ तीन हैं जिनमें आप ख़ुद शरीक रहे हों (बद्र, उहुद और हुनैन)। आपके ज़माने में मूता की जंग भी हुई मगर उसमें आप ख़ुद शामिल आपको अरब में जो ताक़त हासिल हुई वह जंग के ज़रिए नहीं हुई। बल्कि उस सुलह के ज़रिए हुई, जिसको कुरआन में फ़तह-मुबीन यानी खुुली-जीत (अल- फ़तह) कहा गया है। सुलह-हुदैबिया का वाक़िआ ग़ैर-ख़ूनी इन्किलाब लाने के लिए अपने आपको ख़ून करने से कम न था। आपने अपनी ज़ात का 'ख़ून' करना गवारा किया ताकि बाहर की दुनिया में ख़ून न बहाया जाए। पैग़म्बरे इस्लाम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम को अरब में जो ताक़त हासिल
हक़ीक़त का अमली रूप दिखाया है, फिर भी यह कोई सादा बात नहीं। इस क़िस्म की एक घटना को अमली रूप देने के लिए सब्र की ज़रूरत है, और इस दुनिया में बेशक सब्र से ज़्यादा मुश्किल क़ुर्बानी और कोई नहीं। मेआर को बुलन्द करना पुराने ज़माने के अरब में बराबर की अख़्लाक़ियात (नैतिकता) का रिवाज था। उनकी ज़िन्दगी का उसूल यह था कि जो शख़्स जैसा करे उसके साथ वैसा ही किया जाए। यानी अच्छा सुलूक करने वाले के साथ अच्छा सुलूक और बुरा सुलूक करने वाले के साथ बुरा सुलूक। इस्लाम से पहले के ज़माने का एक शायर अपने मुक़ाबिले के क़बीले के बारे में कहता है कि ज़्यादती की कोई क़िस्म हमने बाक़ी नहीं छोड़ी। उन्होंने हमारे साथ जैसा किया था वैसा ही हमने उनको बदला रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम तशरीफ़ लाए तो आपने अख़्लाक़ के इस उसूल को बदला। बराबरी के अख़्लाक़ के बजाय आपने उनको बुलन्द अख़्लाक़ी की तालीम दी। आपने फ़रमाया कि "जो शख़्स तुम्हारे साथ बुरा सुलूक करे उसके साथ तुम अच्छा सुलूक करो।" (कंजुल उम्माल, हदीस नंबर 6929) एक और हदीस में है:
तुम लोग इम्माआ (मौक़ापरस्त-खुदगर्ज़) न बनो, कि यह कहने लगो कि अगर
जाएए उनके अख़्लाक़ का ऊँचा किया जाए उनका हालत का हर लिहाज़ से ऊपर उठाने को कोशिश की जाए। इन्सान के इन्सानी में'यार को बुलन्द करना, फ़िक्री, इल्मी, अख्लाक़ी हैसियत से उसको ऊपर उठाना अहमतरीन काम है। इसमें आदमी की भलाई है और इसी में पूरे समाज की भलाई भी। यह ठीक रसूल का तरीका है यानी सुन्नते रसूल है और इसको ज़िन्दा करना सुन्नते-रसूल को ज़िन्दा करना है। कम बोलना, किसी से शिकायत न होना रसूलुल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम के एक सहाबी का इंतिक़ाल होने लगा। लोग उनके पास आए तो देखा कि उनका चेहरा चमक रहा है। लोगों ने वजह पूछी तो उन्होंने कहा, "मेरे पास मेरे आमाल में सबसे ज़्यादा भरोसे की मेरी दो आदतें हैं। एक यह कि मैं बेफ़ायदा बात नहीं करता था। दूसरे यह है कि मेरा दिल मुसलमानों के मामले में बिल्कुल साफ़ था। (जामे 'उल उलूम)