Al-Risala · March 2024

سوال کی کثرت

Al-Risala, March 2024, pp. 9–24

By Maulana Wahiduddin Khan

صحابی رسول وابصہ بن معبد الاسدی کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے۔ وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ وہ آپ سے نیکی اور بدی کے تمام سوالات پوچھنا چاہتے تھے (لَا أَدْعُ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالإِثْمِ إِلاَّ سَأَلْتُهُ عَنْهُ) - رسول اللہ نے ان کے سوالات کا جواب نہیں دیا، بلکہ یہ کہا اپنے دل سے فتویٰ پوچھو، اور اپنے آپ سے فتویٰ پوچھو (یہ بات آپ نے تین بار کہی، اس کے بعد کہا) نیکی وہ ہے جس پر تمھارا دل مطمئن ہو، اور بدی وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے، اور تمھارے دل میں تردد پیدا ہو، خواہ لوگ اس کے بارے میں تمہیں کوئی بھی فتویٰ دیں۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 18006) یہ صرف ایک صحابی کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس میں تمام اہل ایمان کے لیے رہنمائی ہے۔ رسول اللہ نے سوال کا جواب کیوں نہیں دیا۔ کیوں کہ بہت زیادہ سوال آدمی کو ڈسٹریکشن کی طرف لے حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے ان کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ بجائے ان کو تدبر و تفکر پر ابھارا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر آدمی ہر معاملے میں اپنا مفتی خود بن جائے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسئلے کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ کھلی ممنوعات کے سوا جو چیزیں ہیں ، ان میں کامن سنْس (common sense) پر عمل کرو۔

سوال یہ ہے کہ کنفیوژن کسی کو کیوں ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کا دماغ زیادہ تر معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر پاتے کہ تحلیل و تجزیہ (analysis) کر کے مختلف معلومات سے درست نتیجہ نکال سکیں ۔ یعنی وہ متعلق اور غیر متعلق کا فرق سمجھیں۔ وہ بنیادی اور غیر بنیادی میں تمیز کر سکیں اور پھر مختلف معلومات کو ہضم کر کے صحیح نتیجہ نکالیں۔ اسی ناکامی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا معلوماتی ذخیرہ ان کو صرف کنفیوژن تک پہنچاتا ہے، وہ انہیں فکری پختگی عطا نہیں کرتا۔ اسلام میں سوال سے زیادہ تدبر اور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ پیغمبر موسیٰ جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے اُن سے کہا : فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ (18:70)۔ یعنی تم مجھ

سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلے غور وفکر کرو۔ غور وفکر کر کے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار (prepared mind) بنا چکا ہو۔

اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں : يَنْهٰى عَنْ ... كَثْرَةِ السُّؤَال (مسند احمد، حدیث نمبر 18232)۔ یعنی رسول اللہ نے زیادہ سوال کرنے سے منع کرتے تھے۔ سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال کرنا حرام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے خود سوال کے تقاضے کو پورا کرے، اس کے بعد وہ سوال کرے ۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور وفکر اس طرح اس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے ۔ یہ صلاحیت غور وفکر سے بڑھتی اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے ۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp) کی صلاحیت پیدا کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کر حقیقی سوال کرنے والا وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر سکتا ہو۔ مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا — سوال کیوں کرتے ہو، اگر تمھارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کر کے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فوراً سوال کرنا، عجلت پسندی کی علامت ہے ۔ کسی بات کو سن کر پہلے غور و فکر کرنا چاہیے۔ اگر غور وفکر سے وہ بات کی تہہ تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی لہٰذا اس کو سب سے پہلے اپنے ذہنی ارتقا پر مزید توجہ دینی چاہیے۔

مطالعهٔ حديثترجمہ و تشریح مشکوۃ المصابیح قرآن کے بعد اسلام کی تعلیمات کو جاننے کا دوسرا مستند ماخذ حدیث ہے۔ صحاح ستہ اور حدیث کی جو دوسری بنیادی کتابیں ہیں وہ زیادہ ترفنی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ ان سے استفادہ کرنا انہی لوگوں کے لیے آسان ہے جو عالم ہوں۔ چنانچہ محدثین نے ان کتابوں سے اخذ کر کے عام لوگوں کے استعمال کے لیے بہت سے مجموعے تیار کیے ہیں۔ ان مجموعوں کو انتخاب حدیث یا حدیث کے منتخبات کا نام دیا جا سکتا ہے۔

ان منتخب کتب حدیث میں غالباً سب سے زیادہ مقبولیت مشکوۃ المصابیح کو حاصل ہوئی۔ عمومی استعمال کے لیے بلاشبہ یہ ایک نہایت موزوں کتاب ہے۔ اسی لیے ہم نے مشکوۃ المصابیح کو زیر نظر کتاب کے لیے بطور بنیاد اختیار کیا ہے۔

مشہور مفسر اور محدث ابو محمد الحسین بن مسعود الفراء البغوی (وفات 516ھ) نے منتخب احادیث پر مشتمل ایک کتاب تیار کی تھی جس کا نام انہوں نے مصابیح السنۃ رکھا۔ یہ کتاب نسبتاً مختصر تھی اور اس میں بعض دوسری فنی کمیاں موجود تھیں۔ مثلاً اس میں احادیث کی تخریج نہیں کی گئی تھی۔ المصابیح نامی کتاب البغوی کی کتاب مصابیح السنۃ کا اضافہ شدہ ایڈیشن ہے۔ موجودہ مشکوۃ المصابیح میں البغوی کی کتاب کے مقابلہ میں 1511 حدیثیں زیادہ ہیں۔

صاحب مشکوۃ کا پورا نام ولی الدین، ابو عبد اللہ، محمد بن عبد اللہ الخطیب العمری التبریزی انہوں نے البغوی کی کتاب مصابیح السنۃ میں اضافہ اور تحقیق و تخریج کا کام کیا۔ اس بنا پر یہ کتاب بہت زیادہ مقبول ہوئی۔ مشکوۃ المصابیح کے مؤلف کا سال ولادت متعین طور پر معلوم نہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب کی تکمیل پر اس کے آخر میں 737ھ تحریر کیا تھا۔ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ 737ھ کے بعد کسی قریبی سال میں ان کی وفات ہوئی۔ تاریخ الحدیث میں ہے کہ آپ نے غالباً 740ھ میں وفات پائی (صفحہ نمبر 111)۔

مشکوۃ المصابیح کی شرح و ترتیب پر بہت سے علماء نے کام کیا ہے۔ آخر میں دور جدید کے

مشہور محدث محمد ناصر الدین الالبانی (وفات 1999) نے ایک اہم کام انجام دیا۔ انھوں نے اپنے بعض رفقاء کی مدد سے مشکوٰۃ المصابیح کو از سر نو تحقیق اور ایڈٹ کیا۔ اس پر ضروری حاشیے لکھے۔ کے ساتھ انہوں نے مشکوٰۃ المصابیح میں وارد تمام حدیثوں کے سلسلہ وار نمبر قائم کیے۔ اس کے مطابق اس کتاب میں حدیثوں کی کل تعداد 6285 ہے۔

زیر نظر کتاب مطالعہ حدیث میں ہم نے مشکوٰۃ المصابیح کی منتخب حدیثوں کو لیا ہے ۔ زیر تشریح حدیث کے اوپر اس کا وہ نمبر درج کیا جا رہا ہے جو شیخ ناصر الدین الالبانی کے نسخہ میں موجود اس طرح جو شخص کسی حدیث کو اصل کتاب میں دیکھنا چاہے ۔ وہ نمبر کی مدد سے فوراً اس میں اس کو دیکھ سکتا ہے۔ ہمارے سامنے مشکوٰۃ المصابیح کے اس ایڈیشن کا وہ نسخہ ہے جو 1985ء (1405ھ) میں المکتب الاسلامی، بیروت سے تین جلدوں میں چھپا ہے۔

ہر حدیث کے ساتھ اس کی شرح بھی درج کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ شرح آسان اسلوب اور غیر فنی انداز میں ہے۔ ہماری شرح کا مقصد صرف یہ ہے کہ حدیث کو عام انسانوں کے لیے قابل فہم بنایا جائے اور اس کے نصیحت والے پہلو کو نمایاں کیا جائے۔

مولانا انور شاہ کشمیری نے اپنی کتاب مشکلات القرآن میں کہا ہے کہ حدیث کی خدمت کا حق حافظ ابن حجر العسقلانی نے فتح الباری لکھ کر ادا کر دیا ہے (ماہنامہ الفرقان، اپریل 2004، صفحہ 9)۔ عام طور پر علما کا یہ خیال ہے کہ فتح الباری حدیث کی شرح کے موضوع پر ایک مکمل کتاب ہے۔ بات نصف صداقت ہے۔ جہاں تک حدیث کی فنی تشریح کا تعلق ہے، بلاشبہ صحیح البخاری کی شرح فتح الباری کو ایک مکمل کتاب کہا جاسکتا ہے جو تیرہ جلدوں پر مشتمل ہے۔ مگر حدیث کی تشریح کا ایک اور اس کو حدیث کی حکیمانہ تشریح کہا جاسکتا ہے۔ اس دوسرے پہلو سے ذخیرہ احادیث کی تشریح کا کام ابھی تک باقی ہے۔ زیر نظر کتاب میں علم حدیث کی اس کمی کو سادہ اور مختصر انداز میں پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مطالعہ حدیث کی ترتیب کا یہ کام اللہ کی توفیق سے 28 مارچ 2000 کو شروع کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مجموعہ کو لوگوں کے لیے مفید بنائے اور حدیث رسول سے تعلق میں مددگار ثابت ہو۔

شرح مشکوۃ المصابیح (حدیث نمبر 123-110)

مطر بن عکام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کسی بندے کے لیے فیصلہ کرتا ہے کہ فلاں مقام پر اس کی موت ہو تو اس مقام پر وہ اس کے لیے کوئی ضرورت رکھ دیتا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 21983؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2146)۔ تشریح: خدا اپنی مصلحتوں کے تحت ہر مرد اور عورت کے لیے یہ فیصلہ فرماتا ہے کہ اس کو کتنے دن تک موجودہ دنیا میں رہنا ہے اور کس مقام پر اس کی وفات ہونے والی ہے۔ جب کسی کا وقت آتا ہے تو اس کے لیے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ وہ زمین کے اسی مقام پر پہنچ جائے جہاں اس کی موت مقدر تھی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کو خالق نے ایک مقصد کے تحت پیدا کیا ہے، اور وہ ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خالق کے اس منصوبہ تخلیق کو جانے اور زندگی کی منصوبہ بندی میں آخری حد تک اس کی رعایت کرے، جس طرح وہ دنیا کے سفر میں منصوبہ بندی (planning) کا اہتمام کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہر طرح غفلت کا شکار ہونے سے بچائے جنت کسی انسان کو اسی عمل کی بنیاد پر ملے گی جو خالق کے منصوبہ تخلیق کے مطابق ہو، نہ کہ کسی خود ساختہ عمل یا خوش فہمیوں کی بنیاد پر۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اے خدا کے رسول مومنوں کی اولاد کا کیا حکم ہے۔ فرمایا کہ وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا کسی عمل کے بغیر۔ نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے۔ پھر میں نے کہا کہ مشرکین کی اولاد کا کیا حکم

آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا کسی عمل کے بغیر ۔ فرمایا اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے ۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4712) تشریح: اس حدیث میں مذکورہ مسئلہ کا عمومی حکم بتایا گیا ہے۔ نابالغ بچوں کے بارے میں درست بات وہ ہے، جو ابن عبدالبر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کی ہے۔ حضرت عائشہ کے مطابق، حضرت خدیجہ نے مشرکین کی اولاد کے تعلق سے پوچھا تو آپ نے کہا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے، پھر اس کے بعد ان سے پوچھا گیا تو آپ نے کہا کہ اللہ تعالی خوب جانتا ہے है کہ وہ کیا کرنے والے تھے، پھر اس کے بعد پوچھا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (6: 164) - یعنی، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ آپ نے کہا کہ وہ فطرت پر ہیں، تو وہ جنت میں ہوں گے (هُمْ عَلَى الْفِطْرَةِ وَهُمْ فِي الْجَنَّةِ ) ۔ الاستذكار لابن عبدالبر، جلد 3، صفحہ 113۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنت میں دیکھا، آپ نے دیکھا کہ ان کے اردگرد بہت بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بچے ان کے بارے میں آپ نے کہا: وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ فَكُلٌّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1386؛ صحیح مسلم، حدیث یعنی یہ وہ بچے ہیں، جن کا انتقال فطرت پر ہوا ہے۔ تو کچھ مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ، مشرکین کی اولاد بھی ان میں ہیں۔ آپ نے کہا: ہاں، مشرکین کی اولاد بھی۔ امام النووی نے کہا ہے کہ دنیا میں مشرکین اور منکرین کی اولاد کا حکم وہی ہے جو ان کے والدین کا حکم ہے (أَنَّ أَوْلَادَ الْكُفَّارِ حُكْمُهُمْ فِي الدُّنْيَا حُكْمُ آبَائِهِمْ) ، لیکن آخرت کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ اگر وہ بالغ ہونے سے پہلے انتقال کر جائیں تو جنت میں ہوں گے۔ (شرح صحیح مسلم، جلد 12 ، صفحہ 50)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ گاڑنے والی اور زندہ گاڑی ہوئی دوزخ میں ہیں۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4717) تشریح: اس حدیث کی وضاحت قرآن کی دو آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ آیت یہ ہے : وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ۔ بِأَيُّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ (9-81)، یعنی، اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی۔

اسلام کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک شخص کے عمل کی سزا دوسرے شخص کو نہیں دی اللہ تعالیٰ کسی کا فیصلہ اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر کرے گا۔ اس لیے بظاہر یہ ناقابل قیاس ہے کہ گاڑی جانے والی بے قصور بچی کو گاڑنے والے (خواہ مرد یا عورت) کے جرم میں شامل کیا غالباً یہاں کلام کا رخ گاڑنےوالےكي طرف ہے، مگر شدت غضب کی بنا پر کلام کا مذکورہ انداز اختیار کیا گیا۔

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اپنی مخلوق میں ہر بندہ کے متعلق پانچ چیزوں سے فارغ ہو چکا ہے ۔ اس کی موت سے اور اس کے عمل سے اور اس کے ٹھکانے سے اور اس کے نشان قدم سے اور اس کے رزق سے۔

( مسند احمد، حدیث نمبر 21722)

تشریح : اس حدیث میں جن پانچ چیزوں کا ذکر ہے ان کا تعلق دراصل ان امتحانی پرچوں سے ہے جن میں ہر آدمی کا امتحان لیا جانا مقدر ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس بحث میں نہ پڑے کہ اس کو کون سا پرچہ ملا اور کون سا نہیں ملا۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنا پورا دھیان صرف اس پہلو پر لگائے کہ جو امتحانی پرچے اس کے لیے مقدر کیے گئے ہیں ان کو وہ کامیابی کے ساتھ حل کر سکے ۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز یہ نہیں ہے کہ آدمی مادی ساز و سامان اپنے گرد اکٹھا کرلے۔ یہاں کامیابی کا راز یہ

ہے کہ آدمی کو امتحان کا جو پرچہ دیا گیا ہے اس پرچے کو حل کرنے میں وہ کامیاب ہو جائے۔ قدم "یعنی دنیا میں کس کس جگہ انسان اپنا قدم رکھے گا۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو آدمی تقدیر میں کسی چیز پر بحث کرے گا اس کے بارے میں اس سے قیامت کے دن پوچھا اور جو تقدیر کے معاملے میں بحث نہیں کرے گا اس سے اس کی بابت سوال نہیں ہوگا۔ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 83)

تشریح: انسان اپنی محدودیت کی بنا پر تقدیر کے معاملے میں حتمی رائے نہیں قائم کر سکتا۔ حالت میں جو آدمی خوض سے بچے اور اجمالی علم پر قناعت کرے تو وہ آخرت کی پکڑ سے بچ گیا۔ آدمی اس معاملے میں خوض اور بحث کر کے حتمی رائے تک پہنچنا چاہے وہ دنیا میں ذہنی پراگندگی میں مبتلا ہوگا اور آخرت میں اس جرم میں پکڑا جائے گا کہ اس نے اپنی فطری محدودیت کا اعتراف نہیں کیا اور بے فائدہ طور پر ایسی بحثوں میں پڑا جن کا جواب معلوم کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہ تھا۔ ابن الدیلمی (تابعی) کہتے ہیں کہ میں ابی ابن کعب کے پاس گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شک پیدا ہوگیا ہے۔ پس آپ مجھے کوئی بات شاید اللہ اس کو میرے دل سے نکال دے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالی اپنے آسمان کے لوگوں کو اور اپنی زمین کے لوگوں کو عذاب دے تو وہ اس عذاب پر ان کے حق میں ظالم نہ ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم فرمادے تو اس کی رحمت یقیناً ان کے اعمال سے بہتر ہے۔ اور اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرو تو اللہ تم سے اس صدقہ کو قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ تم تقدیر پر ایمان لاؤ اور تم یہ جانو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے رک نہیں سکتا تھا اور جو تم سے رک گیا وہ تم کو پہنچ نہ سکتا تھا اور اگر تم اس کے سوا کسی اور چیز پر مرے تو دوزخ میں جاؤ گے۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر میں

عبداللہ بن مسعود کے پاس گیا تو انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ پھر حذیفہ بن الیمان کے پاس گیا تو انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ پھر میں زید بن ثابت کے پاس گیا تو انھوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 21589؛ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4699؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 77)

تشریح: اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ بندوں کی نسبت سے ہے۔ بندوں کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کا مکمل اعتراف کریں کہ ان کا رب قادر مطلق ہے۔ انسان کو اس کے رب کی طرف سے اتنی زیادہ نعمتیں ملی ہوئی ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ اس کا حق بندوں کے اوپر اتنا زیادہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ جو معاملہ بھی کرے وہ اس کی طرف سے ظلم نہ ہوگا۔ اس قسم کا عقیدہ ایمان باللہ کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ تاہم جہاں تک خدا کا تعلق ہے، اس کی شان کمال کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اس نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب کے اوپر غالب رہے گی: وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ اس لیے اگر کسی نے غلط عمل نہ کیا ہو تو وہ اس کو ناحق نہیں پکڑے گا۔ نافع تابعی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ ابن عمر کے پاس آیا۔ پھر اس نے کہا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس نے دین میں نئی بات نکالی ہے۔ پس اگر اس نے دین میں نئی بات نکالی ہے تو میری طرف سے اس کو سلام نہ پہنچانا۔ کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ـــ یا یہ کہ ـــ اس امت میں خسف (دھنس جانا) اور مسخ (چہرہ بگڑ جانا) اور قذف (پتھر برسنا) ہوگا تو وہ اہل قدر پر ہوگا۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1252؛ سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4613؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4061)

تشریح: مذکورہ صحابی نے جو بات کہی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلام و کلام نہ کیا جائے۔ صحابی کا قول ہیمرنگ (hammering) کے انداز میں اظہارِ بے زاری کے لیے

ہے، نہ کہ سلام کا مسئلہ بتانے کے لیے۔ تقدیر کے معاملے میں مجمل ایمان کا حکم دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں مجمل علم پر نہ رہے بلکہ اس معاملے میں گلی علم تک پہنچنے کے لیے غیر ضروری بحث و مباحثہ میں پڑے، وہ نہ صرف لوگوں کے درمیان کنفیوزن پھیلانے کا جرم کر رہا ہے، بلکہ وہ بدعت کا فعل بھی کر رہا ہے اور بدعت اسلام میں بہت بڑا جرم ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ نے آدم کو پیدا کیا تو اس نے ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا۔ پھر ان کی پشت سے وہ تمام جانیں باہر نکل آئیں جن کو اللہ ان کی نسل سے قیامت تک پیدا کرنے والا تھا۔ پھر اللہ نے ان میں سے ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک چمک رکھی۔ پھر ان سب کو آدم کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اے میرے رب یہ کون لوگ ہیں۔ فرمایا کہ تمہاری اولاد۔ آدم نے ان میں سے ایک کو دیکھا تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک ان کو بہت اچھی لگی۔ انھوں نے کہا کہ میرے رب یہ کون ہے۔ فرمایا کہ داؤد۔ نے کہا کہ اے میرے رب، تو نے اس کی عمر کتنی رکھی ہے۔ فرمایا کہ ساٹھ سال۔ انھوں نے کہا کہ میری عمر سے چالیس سال لے کر اس کی عمر میں اضافہ کردے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم کی عمر میں چالیس سال رہ گئے تو موت کا فرشتہ ان کے پاس آیا۔ آدم نے کہا کہ کیا میری عمر پوری ہونے میں چالیس سال باقی نہیں ہیں۔ فرشتہ نے کہا کہ کیا آپ نے اپنی عمر کے چالیس سال اپنے بیٹے داؤد کو نہیں دے دیے تھے۔ لیکن آدم نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے، آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم نے خطا کی تو ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3076) تشریح: اس حدیث جس واقعہ کا ذکر ہے اس کا تعلق بظاہر غیبی امور سے ہے۔ واقعہ کے ریفرنس میں انسان کی فطری کمزوریوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً بھولنا، غلطی کرنا، وغیرہ۔ انسان ان فطری کمزوریوں پر قابو نہیں پا سکتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے یہ دروازہ بھی کھول دیا ہے کہ جب بھی اس سے کوئی غلطی یا بھول چوک ہو جائے، اور اس کو اس بات کا

احساس ہو جائے تو وہ توبہ اور ندامت کا طریقہ اختیار کرے، جیسا کہ اس کے باپ آدم نے کیا تھا وہ ایسا ہرگز نہ کرے کہ غلطی کے ارتکاب کے بعد اکڑ اور سرکشی میں پڑ جائے۔ اور سرکشی ابلیس کا طریقہ ہے۔

غیبی امور کے بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ ان کو جیسا ہے ویساہی مان لیا جائے۔ خوض اور تعمق سے پر ہیز کیا جائے۔

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور جب ان کو پیدا کر لیا تو اس نے ان کے دائیں مونڈھے پر مارا۔ اس سے سفید اولاد نکالی۔ چیونٹیوں کی مانند تھے۔ پھر اس نے ان کے بائیں کندھے پر مارا اور اس سے سیاہ اولاد نکالی۔ کہ کوئلہ تھے۔ پھر داہنے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ جنت کی طرف ہیں۔ اور مجھ کو پرواہ نہیں ۔ بائیں کندھے والوں کے متعلق فرمایا یہ دوزخ کی طرف ہیں، اور مجھ کو پرواہ نہیں (مسند احمد، حدیث

تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نسل کی تخلیق باقاعدہ منصوبے کے تحت ہوئی انسان کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے کو سمجھے اور اس کی تعميل كركے اس کامیابی کو حاصل کر لے جو اس کے خالق نے اس کے لیے مقدر کی ہے۔ اس منصوبہ تخلیق کا مرکزی کردار انسان ہے، اور تخلیق کی منزل جنت (Paradise) ہے۔ جو کہ انسان کے لیے معیاری دنیا (ideal world) ہے۔ اختتام تک یہ ایک لمبا سفر ہے، جو مختلف مراحل سے گزرتا ہے، اور آخر کار وہ ابدی جنت تک پہنچتا ہے۔ خالق نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اُس دنیا کو ایک جوڑ دنیا (pair world) کی شکل میں بنایا ہے۔ ایک وہ دنیا جس میں ہم پیدا ہونے کے بعد رہتے ہیں۔ دوسری وہ دنیا جہاں ہم موت کے بعد چلے جاتے ہیں۔ انسانوں کو اُس کے پیدا کرنے والے نے ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ مگر اِس نے اس کی زندگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ قبل از موت دور اور بُعد از

موت دور ۔ موت سے پہلے کی دنیا آزمائشی مقام (testing ground) کے طور پر بنائی گئی ہے اور موت کے بعد کی دنیا دار الجزاء (world of reward) کے طور پر ۔

موجودہ دنیا چوں کہ ٹسٹ کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے یہاں ہر عورت و مرد کو آزادی حاصل مگر یہاں دنیا میں موجود ہر چیز ناقص اور محدود صورت میں ہے۔ گویا کہ موجودہ دنیا ایک قسم کا اگرزمینیشن ہال (examination hall) ہے۔ یہاں ٹسٹ دینے کے بقدر ضروری سامان موجود ہیں مگر پرمسرت زندگی گزارنے کے لیے جو اعلیٰ چیزیں درکار ہیں وہ یہاں موجود نہیں۔ اگر زمینیشن ہال کے اندر کوئی طالب علم اپنی مطلوب زندگی کی تعمیر کرنا چاہے تو اس کو صرف مایوسی ہوگی۔ یہی مایوسی ان لوگوں کو ہورہی ہے جو موجودہ ٹسٹ کی دنیا میں اپنے مطلوب مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ قبل از موت دنیا میں کسی عورت یا مرد کو کیا کرنا ہے کہ وہ بعد از موت دنیا میں اپنی مطلوب دنیا (desired world) اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خالق کے منشا کے مطابق استعمال کرے۔ ابونضرہ تابعی کہتے ہیں کہ اصحاب رسول میں سے ایک شخص جن کا نام ابو عبد اللہ تھا، ان کے پاس ان کے اصحاب عیادت کے لیے آئے۔ اس وقت وہ رو رہے تھے۔ انھوں نے ان سے پوچھا کہ تم کو کیا چیز رلارہی ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے یہ نہ کہا تھا کہ اپنی مونچھیں كٹواؤ پھر اس کے پابند رہو یہاں تک کہ مجھ سے مل جاؤ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اپنی مخلوق میں سے) ایک حصے کو اپنے داہنے ہاتھ کی مٹھی میں لیا اور (باقی) دوسرے حصے کو دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں لیا۔ اور فرمایا کہ یہ اس کے لیے ہے اور یہ اُس کے لیے ہے اور مجھ کو پرواہ نہیں۔ ابو عبد اللہ صحابی نے کہا: اور میں نہیں جانتا کہ میں دونوں میں سے کس مٹھی میں ہوں۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 17593)

تشریح: ”یہ اس کے لیے ہے اور یہ اُس کے لیے ہے (هذه لهذه، وهذه لهذه )“ کا مطلب یہ ہے کہ دائیں مٹھی والے جنت کے لیے ہیں اور بائیں مٹھی والے جہنم کے لیے۔

حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سچا مومن امید اور خوف کے درمیان جیتا ہے۔ کھلی بشارت بھی اس کی اس اندیشہ ناک حالت کو ختم نہیں کرتی۔ ایمان اللہ کی محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے جس میں آدمی اللہ سے ڈرتا ہے مگر اسی کی طرف بھاگتا ہے، اسی سے خوف محسوس کرتا ہے مگر وہ اسی سے پانے کی امید بھی رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو سراپا اطمینان ہے اور ایسا اطمینان ہے جو سرا پا اضطراب ہے۔ یہی وہ نفسیاتی حالت ہے جو مومن کے کردار کی تشکیل کرتی اللہ رب العالمین کی معرفت اور اس کے منصوبہ تخلیق کی دریافت انسان کے اندر امید اور خوف کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت پیدا کر دیتی ہے جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کر پا تا کہ ان دونوں میں سے کس کو فوقیت دے۔ یہ سب کچھ کر کے اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنے کا وہ اعلیٰ ترین احساس ہے جس میں آدمی کو صرف اپنی ذمہ داریاں یاد رہتی ہیں اور اپنے حقوق کو وہ بالکل بھول جاتا صحابی رسول ابو عبد اللہ کے الفاظ اسی حقیقت کا اظہار ہیں۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے آدم کی پشت (میں موجود تمام اولاد) سے نُعمان (عرفہ) میں عہد لیا۔ اس نے آدم کی پیٹھ سے ان کی ساری پھر ان کو آدم کے سامنے چیونٹیوں کی طرح بکھیر دیا۔ پھر ان سے روبرو کلام کیا۔ فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ہاں، ہم گواہ ہیں۔ تا کہ تم لوگ قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم اس سے غافل تھے۔ یہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ داداؤں نے کیا، ہم تو ان کے بعد کی نسل سے ہیں۔ کیا تو ہم کو اس پر ہلاک کرے گا ہے جو باطل پرستوں نے کیا۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 2455) تشریح: اس حدیث میں جس معاملے کا ذکر ہے اس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں خالق کا شعور پیدائشی طور پر رکھ دیا گیا ہے۔ اگر بالفرض کچھ لوگوں تک خدا کے دین کی دعوت براہِ راست طور پر نہ پہنچے تب بھی مذکورہ معاملے کی صورت میں وہ بالواسطہ طور پر ہر ایک کو پہنچ چکی ہے۔ اس بنا پر کسی بھی شخص کے لیے آخرت کی باز پرس سے بچنا ممکن نہیں۔

ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے قرآن کی آیت: اور جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت کو باہر نکالا.... (7:172) کی تشریح میں کہا کہ اللہ نے ان کو جمع کیا پھر ان کو گروہ پھر انھیں صورت اور گويائي دی۔ پھر وہ بولے۔ پھر اللہ نے ان سے عہد اور میثاق لیا اور ان کو خود ان کے اوپر گواہ بنایا۔ اللہ نے کہا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ فرمایا کہ میں تمہارے اوپر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اور تمہارے والد آدم کو گواہ بناتا ہوں۔ تا کہ تم قیامت میں یہ نہ کہو کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں اور نہ میرے سوا کوئی رب ہے۔ اور تم میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے رسول وہ تم کو میرا عہد اور میثاق یاد دلائیں گے۔ اور میں تمھارے اوپر اپنی کتابیں اتاروں گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہے اور تو ہمارا معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی اور ہمارا رب پس انھوں نے اس کا اقرار کیا۔ اور آدم کو ان کے اوپر بلند کیا گیا۔ انھوں نے ان سب کو چنانچہ انھوں نے (ان کے درمیان) امیر اور فقیر اور خوب صورت، اور بدصورت دیکھے۔ نے کہا کہ اے میرے رب تو نے اپنے بندوں کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی۔ اللہ نے کہا کہ میں نے یہ چاہا کہ میرا شکر ادا کیا جائے۔ اسی طرح آدم نے ان کے درمیان پیغمبروں کو چراغوں کی مانند دیکھا، ان پر نور تھا۔ ان سے دوسرا خصوصی عہد رسالت اور نبوت کے متعلق لیا گیا۔ اسعہد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اور جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے (33:7)۔ عیسیٰ بھی انھیں روحوں میں تھے ان کو مریم کی حضرت ابی بیان کرتے ہیں عیسیٰ کی روح مریم کے منہ سے ان کے جسم میں داخل ہوئی (مسند احمد، حدیث نمبر 21232)

تشریح: پیغمبروں کا کام یاد دہانی ہے۔ خدا کو جو دین مطلوب ہے، اس کو پیشگی طور پر ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے۔ پیغمبر یا ان کی تبعیت میں داعی اس لیے اٹھتے ہیں تا کہ لوگوں کو

ان کا فطری سبق یاد دلائیں اور ان کو اس عہد پر قائم ہونے کی تلقین کریں جو انھوں نے پیشگی طور پر اپنے رب سے لیا ہے۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فطرت کو آلودہ ہونے سے بچائے تاکہ وہ حق کی آواز کو سنتے ہی فوراً پہچان لے، اور حق کا ساتھی بن جائے۔

ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس کو مان لینا۔ لیکن اگر تم یہ سنو کہ کسی شخص کی جبلت بدل گئی ہے تو تم اس کو ہرگز نہ ماننا۔ کیوں کہ جو شخص جس جبلت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے وہ اسی کی طرف جائے گا۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 27499)

تشریح: اصل یہ ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہمیشہ فرق (difference) کوئی بھی دو انسان یکساں نہیں ہو سکتے۔ خالق نے ہر مرد اور ہر عورت کو مسٹرڈفرنٹ اور مز ڈفرنٹ کے روپ میں پیدا کیا ہے۔ ڈفرنس خود فطرت کا لازمی حصہ ہے اور جب دو ڈفرنٹ لوگ باہم ملیں تو کامیاب زندگی کی ضمانت صرف یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے زندگی اس معاملے میں فریقین کے لیے ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی اور آپشن (option) نہیں۔ یہ ایک تنوع (diversity) کا معاملہ ہے اور وہ ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ دو شخصوں کے درمیان تبادلہ خیال ہو اور ان کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل جاری ہو۔ اختلاف رائے پر مبنی تبادلہ خیال کے فائدے بے شمار ہیں۔ اس کے ذریعے انسان کو موقع ملتا ہے کہ وہ دوسرے کے فکری نتیجہ سے فائدہ اٹھائیں۔ اس سے زیر بحث مسئلہ کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، اس سے انسان کی تخلیقی فکر میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسانی ذہن کے فطری فرق کو جان کر اس کا مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے، نہ کہ اس کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔ اگر فریقین میں مثبت مزاج ہو تو ڈفرنس

سے انٹلیکچول ایکسچینج پیدا ہوگا اور اس ایکسچینج سے انٹیلیکچول ڈیولپمنٹ کا عمل جاری ہوگا۔ یہی کسی قوم کی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اس کے برعکس، کسی سماج یا گروہ میں تنوع کو ممنوع (taboo) قرار دینا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ سماج یا گروہ جمود (stagnation) کا شکار ہوجائے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کا اثر معلوم ہوتا ہے جو آپ نے کھائی تھی۔ فرمایا: مجھے اس کے سوا کچھ نہیں پہنچتا جو میرے مقدر میں اس وقت لکھ دیا گیا جب آدم اپنی مٹی میں (تیاری کے مرحلہ میں) تھے (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3546)۔ تشریح: موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت چل رہی ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کے ساتھ پیش آتا ہے وہ اسی مصلحت کے تحت پیش آتا ہے۔ مثال کے طور پر یہودی کا رسولِ خدا کو زہر دینا اور آپ کا اس زہر کو انجانے میں کھا لینا غالباً اس لیے تھا کہ یہودیوں کی اخلاقی حالت کو آخری حد تک برہنہ کیا جائے، تاکہ کھلے طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ ان کو جو سزا دی جارہی ہے وہ فی الواقع اس کے اس واقعہ کا تعلق یہودیوں کو ڈسکر یڈٹ کرنے سے تھا، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ خوراک کھلانے سے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں تمام انسانوں کے لیے ایک اہم رہنمائی موجود یعنی منفی سوچ سے ذہن کو کیسے ڈائیورٹ (divert) کیا جائے۔ چنانچہ ایک صاحب سے أنا (ego) کے موضوع پر میری گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ایگو کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ البتہ اُس کو ڈیفیوز (diffuse) کیا جاسکتا ہے، یہی اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام آدمی کی سوچ کے اندر میں ایک انقلاب یہ سوچ اس بات کی ضامن بن جاتی ہے کہ جب بھی آدمی کی أنا بھڑکے تو اُس کی ربانی سوچ متحرک ہو کر اُس کی انا کے بم کو ڈیفیوز کر دے۔ میں نے کہا کہ أنا (ایگو) کوئی برائی نہیں، وہ ایک آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ترقی دیں کہ وہ أنا کو صرف اچھے استعمال میں لے، وہ اُس کو برے استعمال تک نہ جانے دے۔

Printed page