خواتین میں دعوت
Al-Risala, March 2024, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر ایسا ہے کہ لوگ دینی کام کے لیے کسی شخصیت کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ ابن تیمیہ کو اپنا رول ماڈل بنائے ہوئے ہیں، اور کوئی غزالی کو رول ماڈل سمجھے ہوئے پھر ہر ایک اپنے ماڈل کو واحد معیاری ماڈل مان کر اقدام کرتا ہے۔ لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا گول اس کے لیے اچیویبل (achievable) نہیں ہے تو شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھ لیتا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کر سکتا۔
دوسرے الفاظ میں وہ اپنے عمل کا آغاز عملی اقدام سے کرتا ہے، نہ کہ افراد کی ذہن سازی حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی گہری تحریک کا صحیح آغاز یہ ہے کہ پہلے افراد کی ذہن سازی کی جائے، اور جب ذہن پوری طرح بن چکا ہو تو اس کے بعد عملی اقدام کیا جائے۔ ذہن سازی کے بغیر اقدام کرنے کا مطلب، بغیر تیاری کے اقدام کرنا ہے، اور جو اقدام تیاری کے بغیر کیا جائے اس کا انجام پیشگی طور پر معلوم ہے، اور وہ ہے مکمل ناکامی۔
الرسالہ مشن نے اس معاملے میں ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ مز فہمیدہ خانم (پیدائش 1964) ایک سیدھی سادی گھریلو خاتون ہیں۔ وہ میری کتابیں مطالعہ کرتی ہیں، اور میری تقریریں سنتی ہیں، اور سی پی ایس کی ممبر ہیں۔ ایک مرتبہ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ دعوت کا کام پوری طرح نہیں کر پا رہی ہیں۔ یہ سوچ ان کی زندگی کی انقلابی سوچ ثابت ہوئی۔ انھوں نے اس کے بعد دعا کی، اور اپنے تعلقات کی خواتین سے مل کر ایک واٹس ایپ گروپ بنایا، جس میں انھوں نے خواتین کے ساتھ الرسالہ مشن کی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر ڈسکشن شروع کیا۔
یہ خواتین واٹس ایپ کے ذریعے جمع ہوئیں۔ اس میں نہ صرف انڈیا بلکہ انڈیا کے باہر کی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ روزانہ آپس میں دین اور آداب زندگی کے تعلق سے پہلے ایک سوال رکھتی ہیں، جو ان کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آیا ہو۔ پھر اس پر وہ آپس میں ڈسکشن کرتی ہیں۔
قرآن وحدیث اور الرسالہ کے مضامین پر مبنی ہوتا ہے، یا ذاتی تجربات ومشاہدات پر۔ اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کرتی ہیں کہ مہینہ میں ایک دن سی پی ایس اسکالرس ٹیم کے ساتھ سوال وجواب کی نشست رکھتی اس سے ان کے بہت سے کنفیوزن دور ہوتے ہیں۔ اور دین کے بہت سے نئے گوشے کھلتے ہیں، اور ان کا انٹلکچول ڈیولپمنٹ ہوتا ہے۔
ٹیم کی ایک ممبر ڈاکٹر سفینہ تبسم (سہارن پور) نے ایک دن یہ تاثر دیا کہ آج میں ڈسکشن میں زیادہ حصہ نہیں لے سکی، مگر سارے میسجز کو پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ آج کے ڈسکشن سے میرا ٹیک اوے (takeaway) یہ ہے کہ میں اپنے اور اپنی فیملی کے اندر ایجوکیشن اور انٹلکچول ڈیولپمنٹ پر فوکس کروں گی، اور اس کام کو اس طرح آگے بڑھاؤں گی کہ وہ اگلی نسل تک چلتا رہے۔
اس گروپ میں پوری دنیا کی سو سے زیادہ خواتین شامل ہیں، جو اپنا انٹلکچول ڈیولپمنٹ کر رہی ہیں، اور دعوت کے کام کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ یہ واقعہ جب میں نے سنا تو مجھے ایک حدیث رسول یاد حدیث کے الفاظ یہ ہیں : جُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَْتَ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر (22137)۔ پوری زمین کو میرے لیے، اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک بنادی گئی ہے۔ پس میری امت کے کسی فرد کے لیے جس مقام پر نماز کا وقت ہو جائے وہیں اس کے لیے نماز کی جگہ ہے اور وہیں اس کے لیے طہارت کا سامان۔
توسيعي اعتبار سے اس حدیث پر غور کیا جائے تو اس سے یہ خوش خبری معلوم ہوتی ہے۔ زمانہ آنے والا ہے، جب کہ مذہبی جبر کی حالت ختم ہو جائے گی، اور امت کے لیے پوری طرح یہ موقع ہوگا کہ وہ لوگ جس طرح مسجد میں آزادی کے ساتھ عبادت کرتے ہیں، اسی طرح آزادی کے ساتھ دنیا میں ہر جگہ عبادت اور دعوت کا کام انجام دے سکیں گے۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ کی ورچول دنیا (virtual world) میں بھی، یعنی فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ پر بھی۔ اور ایک دوسرے کے ساتھبآسانی رابطہ قائم کرنا ان کے لیے ممکن ہو جائے گا۔ سی پی ایس خواتین کا یہ کام بلاشبہ قابل تعریف ہے۔ ہر ایک عورت اور ہر ایک مرد موجودہ دور میں اس طرح دینی مشن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔