Al-Risala · March 2024

جنت ماں کے قدموں کے نیچے

Al-Risala, March 2024, pp. 29–32

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں ماں (mother) کو بہت اعلیٰ مقام دیا گیا ہے۔ اس تعلق سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث یہ ہے : اَلْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 119)۔ یعنی، جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔ یہ حدیث عام طور پر جس طرح سمجھی جاتی ہے وہ اس کے حقیقی مطلب کے بالکل برعکس ہے۔ اس حدیث کو اس طریقے سے لیا جاتا ہے جس میں ماں کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے۔ یعنی بچہ اگر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو وہ مکمل طور پر ماں کی فرمانبرداری کرے، اس کے بغیر بچہ کو جنت نہیں مل سکتی۔

مگر یہ اس حدیث کا درست مطلب نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈیوٹی کانشس سوسائٹی کی تعمیر کی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض کو ادا کرے، وہ یہ نہ دیکھیں کہ دوسرے کیا کام کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو رسول اللہ نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا ہے: ایک مومن کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا چاہیے اور جہاں تک اس کے حقوق کا تعلق ہے، وہ اس کو خدا سے مانگے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ اس اصول کی بنیاد پر، ’’جنت ماں کے قدموں تلے واقع ہے‘‘ کا مطلب یہ ہوگا کہ بچے کے مقابلے میں ماں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ یہ حدیث اصل میں ایک ماں کو مخاطب کرتی ہے۔ کیوں کہ بچے کی زندگی میں اس کا بہت اہم رول ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کے اندر جنت کا شوق پیدا کرنا ماں کے ہاتھ میں ہے۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ماں کی حیثیت سے اپنی اولاد کے لیے اس کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ایک اچھا انسان بنانے کی کوشش کرے۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پیدائش کے اعتبار سے ہر بچہ مسٹر نیچر ہوتا ہے، لیکن بعد کی کنڈیشنگ کے نتیجے میں ہر بچہ اپنی حقیقی فطرت سے دور چلا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ماں کو اپنا تعمیری

”کسی بچے کے تقریباً 10 سال وہ ہیں جن کو، نفسیاتی اصطلاح میں، تشکیلی دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ یہ تشکیلی دور بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ اس تشکیلی دور میں کسی کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ بے حد اہم ہے۔ یہی شخصیت بعد کی پوری عمر میں باقی رہتی ہے۔ ”ماں کی حیثیت سے عورت کا رول اگلی نسل کی تیاری ہے۔ انسان کی نسل ایک رواں دریا کی انسانی سماج میں مسلسل ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسل جاتی رہتی ہے اور نئی نسل اس کی جگہ لیتی رہتی ہے۔ ماں کا کام اسی نئی نسل کی تیاری ہے۔ ماں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر بار اگلی نسل کے لیے بہتر انسان بنا کر بھیجے ۔ بہتر انسان کون ہے ۔ بہتر انسان وہ ہے جس کے اندر زندگی کا جو منفی سوچ سے بلند ہو اور مثبت سوچ کا حامل ہو۔ جو اپنے ذہن کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ تعمیری بنیادوں پر زندگی کی منصوبہ بندی کر سکے۔ جو اپنے سماج کے لیے کوئی نیا پرابلم پیدا جو اپنے سماج کا دینے والا ممبر (giver member) ہو، نہ کہ صرف لینے والا ممبر۔ بچے مستقل طور پر اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کے ابتدائی زمانے میں، وہ اس کو سب سے زیادہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور غیر شعوری طور پر اپنی ماں کی نقل کرتے ہیں۔ مگر ماں جو کام بھی کرتی ہے، وہ اس کا سوچا سمجھا عمل ہوتا ہے۔ اس لیے ماں کو اس بات کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جو کام بھی کرے وہ خدا کی رضا کے مطابق کرے ۔

جنت کی راہ ایک ایسی راہ ہے جو درست پلاننگ، تعلیم، تربیت، اور ناشکری کے بجائے شکر، بے صبری کے بجائے صبر اور خدا کی معرفت کی راہ ہے۔ اس بنا پر اس حدیث میں گویا ایک ماں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنے بچے کو ایک اچھا انسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔ یہ حدیث ماؤں کے لیے ایک سنجیدہ پکار ہے کہ وہ اپنی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے اندر اعلی صفات پیدا کریں، کیوں کہ بچے اپنے تشکیلی دور میں سب سے زیادہ اپنی ماں کی پیروی کرتے ہیں۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

کامیابی کا پہلا قانون“ پرامید رہو، نا امید نہ بنو برطانوی طبیعیات دان اور ریاضی دان سر آئزک نیوٹن (1727-1642ء) حرکت کے قوانین (Laws of Motion) کی دریافت کے لیے مشہور ہے۔ اس کے دریافت کردہ حرکت کا تیسرا قانون کہتا ہے کہ اس دنیا میں ہر عمل کے لیے ایک مساوی اور مخالف رد عمل ہوتا ہے: for every action, there is an equal and opposite reaction. لیکن ایک اور قانون بھی ہے جس کا مشاہدہ خود نیوٹن کی زندگی میں کیا جا سکتا ہے۔ اسے کامیابی کا قانون کہا جا سکتا ہے۔ نیوٹن کے والد کا انتقال ان کی پیدائش سے تین ماہ قبل ہو گیا تھا۔ اس کی ماں نے جلد ہی دوسری شادی کرلی۔ نتیجتاً نیوٹن اپنے والدین کی شفقت سے محروم ہو گیا۔ نیوٹن کے ایک سوانح نگار لکھتے ہیں آئزک (نیوٹن) اپنے گھر میں ایک یتیم کی طرح سمجھا جاتا تھا، اس کا بچپن خوشگوار نہیں تھا: Basically, treated as an orphan, Isaac (Newton) did not have a happy childhood. نیوٹن کے لیے بظاہر یہ ایک مشکل صورت حال تھی۔ وہ چاہتا تو اپنے مائنڈ کو شکایتوں کا کباڑ خانہ لیکن حقیقت میں یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا پلس پوائنٹ بن گیا۔ بچپن کے دنوں میں خارجی دنیا نیوٹن کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتی تھی ، اور وہ ہر وقت سوچ میں غرق رہتا تھا۔ اس بنا پر اسے خیالوں میں گم (Woolgatherer) ، یا بے دھیان انسان کہا جانے لگا۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ نیوٹن بے دھیان انسان نہیں تھا، بلکہ وہ بہت زیادہ غور و فکر میں مشغول رہتا تھا۔ اسی مسلسل فکری عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے حرکت کے تین قوانین کو دریافت کیا، جس سے سائنسی دنیا میں انقلاب پیدا ہو گیا۔ نیوٹن کے لیے والدین کی شفقت سے محرومی بظاہر ایک منفی واقعہ تھا، لیکن قانون فطرت کے مطابق ، یہ اس کے لیے فائدے کا سودا ثابت ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ والدین کی شفقت سے محرومی نے اسے اپنی پوشیدہ فکری صلاحیت کو پروان چڑھانے کا موقع دیا، یعنی فکری صلاحیت کی ترقی۔

طرح نیوٹن اپنی فکری ترقی کے نتیجہ میں اس قابل ہو گیا کہ وہ اپنی زندگی کے مائنس پہلو کو پلس میں تبدیل کر سکے۔

کامیابی کا یہ فطری قانون کسی ایک فرد کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ موقع زمین پر بسنے والے تمام عورت ومرد کے لیے کھلا ہوا ہے۔ نیوٹن کی زندگی فطرت کے اس اہم قانون کا عملی مظاہرہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کے خالق نے لامحدود پوٹینشل (potential) کے ساتھ پیدا اس پوٹینشل کو ایکچول (actual) بنانا صرف چیلنج کے حالات میں ممکن ہے۔ اگر چیلنج نہ ہو تو انسان کی شخصیت میں چھپے ہوئے امکانات ظہور میں نہیں آئیں گے، انسانی ارتقا کا عمل مکمل طور پر رک جائے گا، انسان اپنی تکمیل سے محروم رہ جائے گا۔

چیلنج سےکامیابی کی طرف اس کے سفر کو جمود یا مایوسی کے سوا کوئی اور چیز نہیں روک سکتی اگر وہ مایوس یا جمود کا شکار نہ ہو تو اس کی اپنی فطرت خود بخود اس کی رہنمائی کرے گی اور اسے ناقابل یقین حد تک ترقی کی منزل تک لے جائے گی۔ تاریخ میں ایسے لوگوں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جو اپنے ابتدائی عمر میں مختلف قسم کی پریشانیوں کا شکار ہو گئے ۔ باوجود انہوں نے اپنے آپ کو مایوسی سے دور رکھا، اور اپنی توانائی کو کسی با معنی مقصد کی طرف کچھ دنوں کے بعد وہ اعلیٰ کامیابی سے ہم کنار ہوئے جس کے بارے میں وہ اپنے ابتدائی دنوں میں سوچ کبھی نہیں سکتے تھے۔ اس کی ایک مثال انڈیا کے سابق صدر اے پی جے عبد الكلام (وفات 2015) ہیں۔

زندگی میں لوگوں کو اکثر نا خوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر یتیمی، حادثات کا سامنا، مادی نقصان کو برداشت کرنا، تعلیم کا نامکمل رہنا، آبائی وراثت سے محروم ہونا، اچھی نوکری حاصل کرنے میں ناکامی، وغیرہ۔ لیکن وہ لوگ جوان ناکامیوں کے باوجود بھی ہمت نہیں ہارتے اور مثبت انداز میں مسلسل کوششیں جاری رکھتے ہیں، وہی آخر میں سپر کامیابی حاصل کرنے والے (super achiever) کے طور پر ابھرتے ہیں۔

Printed page