تعارف جنت
Al-Risala, January 2025, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6)۔ اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا تعارف اس دنیا میں کرا دیا گیا ہے۔ یہ تعارف کہاں ہے ۔ وہ کیا چیز ہے، جس کو جنت کا تعارف کہا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دور جدید کے ریفرنس میں یہ تعارف صنعتی صنعتی تہذیب جو سائنس کی تحقیقات پر مبنی ہے۔ اس نے یہ کیا ہے کہ فطرت میں چھپے ہوئے خزانے کو دریافت کیا، اور اس کو انسان کے لیے قابل مشاہدہ اور قابل استعمال بنا دیا۔ فطرت کی دنیا میں ہمیشہ سے اللہ کی بہت سے نعمتیں چھپی ہوئی تھیں۔ لیکن انسان ان کے بارے میں کوئی علم نہ رکھتا تھا۔ مثلاً موٹر کار اور ہوائی جہاز ۔ اسی طرح دوسری تمام سائنسی دور کی مصنوعات انسان نے فطرت میں چھپی ہوئی ان نعمتوں کو دریافت کیا، اور اس کو قابل استعمال بنایا۔ سائنسی دریافتیں دور جدید کے انسانوں کے سامنے بہت ہی محدود سطح پر جنت کا تعارفی گلمپس (glimps) پیش کرتی ہیں۔