Al-Risala · March 2025

اختلاف ایک صحت مند ظاہر ہ

Al-Risala, March 2025, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

علامہ ابن تیمیہ کی کتاب الفتاوی الکبریٰ ( مجموعہ فتاویٰ) میں ایک واقعہ ان الفاظ میں آیا ہے: صَنَّفَ رجلٌ کتاباً سمّاہ کتاب ” الاختلاف“، فقال أحمدُ بن حنبل: سمِّہ کتابَ ” السَّعَةَ“ ( جلد 3، صفحہ 238)۔ یعنی ایک شخص (اسحاق بن بہلول) نے ایک کتاب اُس نے اس کتاب کا نام ” کتاب الاختلاف“ رکھا۔

یہ کتاب اُس نے امام احمد بن حنبل کی خدمت میں پیش کی۔ امام احمد بن حنبل نے اس کتاب کو دیکھ کر کہا کہ تم اس کتاب کا نام کتاب الاختلاف نہ رکھو، بلکہ تم اس کتاب کا نام کتاب السعۃ ( توسع والی کتاب) رکھو۔

امام احمد بن حنبل کا مطلب یہ تھا کہ شرعی مسائل میں اختلاف محض اختلاف نہیں ہے، بلکہ وہ توّسع کی بنا پر ہے، یعنی ہر رائے میں صحت کا امکان ہے۔

تاہم یہ توّسع سادہ مفہوم میں محض رواداری کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اُس کا ایک مثبت وہ یہ کہ اختلاف ڈسکشن (discussion) کا ذریعہ بنتا ہے اور ڈسکشن سے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

اختلاف سے مراد نزاع نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد سادہ طور پر رائے کا فرق (difference) رائے کا یہ فرق یا اختلاف بے حداہم ہے۔ اسی کی بنا پر ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے اور تبادلہ خیال (exchange of thought) وجود میں آتا ہے۔ اگر رایوں میں فرق نہ ہو تو باہمی تبادلہ خیال وجود میں نہیں آئے گا، حالاں کہ ذہنی ارتقا کے لیے تبادلہ خیال بے حد ضروری ہے۔ جہاں تبادلہ خیال نہیں، وہاں ذہنی ارتقا بھی نہیں۔

واضح ہو کہ اختلاف اور مخالفت میں فرق ہے۔ اختلاف ایک مثبت عمل ہے۔ اس کے برعکس، مخالفت سر تا سر ایک منفی عمل۔ اختلاف فکری ارتقا کا سبب ہے اور مخالفت فکری جمود (intellectual stagnation) کا سبب۔

Printed page