فقہی مسائل میں اختلاف
Al-Risala, March 2025, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہی مسائل میں اختلاف کا معاملہ زیادہ تر عبادت کے طریقوں میں اختلاف سے تعلق رکھتا اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُوْنِيْ أُصَلِّيْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 631)۔ یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسا کہ تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔
اسی طرح آپ نے فرمایا:
خُذُوْا عَنِّيْ مَنَاسِكَكُمْ (سنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 9524)۔ یعنی مناسک میں میری پیروی کرو۔
اس طرح کی احادیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی غیر اختلافی ماڈل تھا۔ لیکن رسول اللہ کے بعد صحابہ عملی اعتبار سے قابل تقلید نمونہ بن گئے۔ کی وفات کے بعد صحابہ مختلف بیرونی علاقوں میں پھیل گئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ صحابہ کے عبادتی طریقوں میں کامل یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ مثلاً نماز میں قرأت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا یا نہ پڑھنا، امام کے پیچھے مقتدی کا قرأت کرنا یا نہ کرنا، نماز میں آمین بالسر اور آمین بالجہر کا اختلاف، وغیرہ۔ صحابہ کے درمیان اس قسم کا اختلاف (صحیح تر لفظ میں فرق) پہلے بھی موجود تھا، مگر پہلے اس فرق کو بحث کا موضوع نہیں بنایا جاتا تھا۔ بعد کے زمانے میں جب کہ مسلم معاشرے میں نومسلموں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اس فرق پر سوال کیا جانے لگا۔ اب اس اختلاف کو موضوع بنا کر یہ سوال کیا جانے لگا کہ ان میں سے صحیح تر ماڈل کون سا ہے۔ یہ نومسلم جن مذاہب سے نکل کر آئے تھے، وہاں انھوں نے دیکھا تھا کہ اس قسم کے فرق کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس قسم کے فرق کی بنیاد پر دوسرے مذاہب میں الگ الگ فرقے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے اس قدیم ذہن کو انھوں نے اسلام پر بھی منطبق (apply) کر دیا۔ اس ذہن کے تحت وہ اس وقت کے مسلم علما سے سوالات کرنے
یہی وہ ظاہر ہ ہے جس نے اسلام میں مذہبی فرقہ بندی کے دور کا آغاز کر دیا۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیشگی ہدایت کے طور پر موجود تھی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمْ اِقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم وفضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کروگے تم ہدایت پر ہوگے ۔ اس حدیث کے مطابق صحابہ کے درمیان عبادت کے طریقوں میں اختلاف تنوع (diversity) کی بنا پر تھا، یعنی ہر طریقہ جو کسی صحابی سے ثابت ہو وہ یکساں طور پر عقلی طور پر تنوع کا یہ طریقہ قابل فہم تھا، کیوں کہ صحابہ کا اختلاف یا فرق صرف جزئیات (non-basics) میں تھا، وہ کلیات (basics) میں نہ تھا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فطری قانون کے مطابق جزئیات میں ہمیشہ فرق پایا جاتا ہے، جزئیات میں یکسانیت (uniformity) کا حصول ممکن نہیں۔
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر یہ اختلاف مسلکی شدت کا سبب بن جب کہ یہ اختلاف خود صحابہ میں موجود تھا، مگر صحابہ کے درمیان ان اختلافات کی بنیاد پر کوئی مسلکی تشدد نہیں پیدا ہوا۔ اس کا سبب واضح طور پر یہ تھا کہ صحابہ مختلف طریقوں پر عبادت کرتے تھے، لیکن ان میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فلاں طریقہ افضل ہے، اور فلاں طریقہ غیر افضل۔ مختلف طریقوں پر اس طرح عمل کرتے تھے جیسے کہ ہر طریقہ یکساں طور پر درست ہو ۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ انہی اختلافات کو لے کر امت مختلف فرقوں، بلکہ متحارب گروہوں میں بٹ گئی۔ جب کہ اس قسم کی فرقہ بندی شریعت میں سخت نا محمود (الروم ، 30:32) ہے۔ اس معاملے میں اصل غلطی عباسی دور کے علمائے فقہ کی ہے، جن کو ائمہ مجتہدین کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اس اختلاف کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ ان اختلافات کو بطور خود وہ درجہ دے دیا جو کہ شریعت میں ان کا درجہ نہ تھا، اور نہ کسی صحابی نے ان اختلافات کے بارے میں ایسا کہا تھا۔ ان فقہانے یہ کیا کہ انھوں نے ترجیح (preference) کے نام سے بطور خود ایک اصول وضع انھوں نے لمبی بحثیں کر کے ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقے کو مرجوح ثابت کرنے کی
کوشش کی ۔ انھوں نے اختلافات کو بیان کیا، اور پھر ایک مسلک کو لے کر کہا: هذا أَحْوَطُ (یہ زیادہ محتاط طریقہ ہے)، هذا أَفْضَلُ (یہ زیادہ افضل طریقہ ہے)۔
انھوں نے بطور خود ایک مسلک کو اولیٰ اور دوسرے مسلک کو غیر اولیٰ قرار دیا۔ یہ بلاشبہ علمائے فقہ کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ یہی وہ اجتہادی غلطی ہے جس نے امت میں فقہی تشدد کا آغاز کر دیا، جو پھر کبھی ختم نہ ہوسکا۔
یہ انسان کی نفسیات ہے کہ اس کے لیے جب انتخاب افضل اور غیر افضل کے درمیان ہو تو وہ ہمیشہ افضل کا انتخاب کرے گا۔ وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کے لیے ہر طرح کے دلائل بعد کے زمانے میں انسان کی یہی نفسیات بروئے کار آئی، اور فقہی مسلک میں اختلاف کے نتیجے میں نفرت اور تشدد حتیٰ کہ جنگ تک کو جائز کر لیا گیا۔
اس معاملے میں دورِ اول کے علما کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ ایک مسلک کو قابل ترجیح قرار دینے کے باوجود مسلک کے بارے میں متشدد نہ تھے۔ مثلاً حنفی اور شافعی فقہا نماز میں بسم اللہ پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ مالکی فقہا اس کے قائل نہ تھے، مگر دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کی ۔ اسی طرح امام شافعی فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ امام ابوحنیفہ اس کے قائل نہ تھے، مگر جب امام شافعی امام ابوحنیفہ کے مقبرہ کے پاس گئے اور وہاں فجر کی نماز ادا کی تو انھوں نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، وغیرہ۔ مگر اس طرح کا عمل صرف انفرادی اخلاق کو ثابت کرتا ہے، اور شرعی اختلاف کے حل کے لیے شرعی اصول درکار ہے، نہ کہ انفرادی اخلاق۔
دینی امور میں جب کسی ایک طریقہ کو دوسرے طریقے کے مقابلے میں افضل بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ افضل طریقہ میں زیادہ ثواب ہے، اور غیر افضل طریقہ میں کم ثواب ہے۔ عالم اگر افضلیت اور غیر افضلیت کی زبان میں اس طرح کا مسئلہ بتائے، اور اس کے بعد مخالف مسئلہ بتانے والے عالم کے پیچھے ایک بار نماز پڑھ لے تو اس قسم کے عمل سے فقہی تشدد ختم نہیں ہوسکتا۔
کا یہ عمل لوگوں کی نظر میں ذاتی نوعیت کا ایک اخلاقی برتاؤ یا حسن معاشرت قرار پائے گا، نہ کہ کوئی اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حسن معاشرت اور دینی افضلیت کے درمیان انتخاب (choice) ہو تو آدمی ہمیشہ اس طریقے کو لے گا جس کو افضل بتایا گیا ہے، اور غیر افضل پر عمل کرنے والے کو کم تر سمجھ لے گا۔ اس طرح کے شرعی معاملے میں حسن معاشرت کبھی فیصلے کی بنیاد نہیں یہ مزاج یقیناً بڑھتے بڑھتے آخر کار فقہی تشدد اور فرقہ بندی کی صورت اختیار کرلے گا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ امت کے اندر بعد کے زمانے میں جو فقہی تشدد اور مسلکی فرقہ بندی پیدا ہوئی، اس کا سبب خود دین کی تعلیمات میں نہ تھا۔ اس کا سبب تمام تر علمائے متقدمین کی اس اجتہادی غلطی میں تھا کہ انھوں نے غیر ضروری طور پر ایک ایسے معاملے میں تو حد کا اصول اختیار کیا جو کہ دراصل توسع کا معاملہ تھا۔ ایک دینی اختلاف جو در اصل توسع (diversity) کی بنا پر تھا، اس کے معاملے میں انھوں نے تو حد (uniformity) کے اصول کو منطبق کرنا چاہا۔ ان کی یہ کوشش یقینی طور پر غیر فطری تھی، اس بنا پر تو حد کے نام پر کی جانے والی کوشش تشدد کا ذریعہ بن گئی، اور آخر کار امت واحدہ، امت متفرقہ میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔
اس واقعے کی ذمے داری ساری کی ساری فقہائے متقدمین پر ہے۔ اس صورت حال کی اصلاح صرف اس وقت ہو سکتی ہے، جب کہ فقہائے متقدمین کے بارے میں یہ مانا جائے کہ انھوں نے بطورِ خود اختلافی مسائل کے حل کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ ان کی ایک اجتہادی غلطی تھی، اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس غلط روش کو ترک کر دیا جائے۔