Al-Risala · March 2025

اختلاف کے باوجود اعتراف

Al-Risala, March 2025, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

صحابہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست تربیت صحابہ کا ہر قول اور ہر عمل پیغمبرِ اسلام کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحابہ پیغمبرانہ اخلاقیات کا توسیعی نمونہ (extended example) تھے۔

صحابہ کے دو گروہ تھے ؀ انصار اور مہاجرین۔ مہاجر صحابہ میں سے دو کے نام یہ ہیں : سعد بن ابی وقاص (وفات 55ھ) ، خالد بن الولید (وفات 21ھ)۔ ان دونوں کے تعلق سے ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ روایت یہ ہے: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَبَيْنَ سَعْدٍ كَلَامٌ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ رَجُلٌ خَالِدًا عِنْدَ سَعْدٍ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدُ: مَهْ، فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 25535)۔ یعنی خالد بن الولید اور سعد کے درمیان (نزاعی) راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک شخص نے سعد سے خالد کی برائی بیان کی۔ تو سعد نے کہا: دور ہو، ہم دونوں کے درمیان جو معاملہ ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو صحابی، سعد بن ابی وقاص اور خالد بن الولید کے درمیان کوئی ذاتی نزاع پیدا ہوگئی۔ کسی معاملے پر بات کرتے ہوئے دونوں کے درمیان تکرار ہوگئی۔ بات کو لے کر ایک شخص نے سعد بن ابی وقاص سے خالد بن الولید کی برائی بیان کی۔ لیکن سعد ایک اعلیٰ اخلاق والے آدمی تھے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ ہمارے اور خالد کے درمیان جو اختلاف ہے، وہ ایک ذاتی نوعیت کا اختلاف ہے۔ اس اختلاف کو ہم ذاتی حد تک رکھیں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کی بنا پر ہم ایک دوسرے کو دین کے اعتبار سے برا سمجھنے لگیں۔ اجتماعی زندگی میں باہمی نزاع کا پیدا ہونا، ایک عام بات ہے، لیکن اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ ذاتی معاملے کو دین سے الگ رکھیں۔ شکایت کو وہ ایک دوسرے کے دین تک نہ لے جائیں۔ ذاتی اختلاف کے باوجود وہ دینی اعتبار سے ایک دوسرے کے اعتراف میں کمی نہ آنے دیں۔

Printed page