اختلاف کے ساتھ اعتراف
Al-Risala, March 2025, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
مولاناحسین احمد مدنی (1957-1879) سیاسی مسلک کے اعتبار سے انڈین نیشنل کانگریس کے حامی تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی (1943-1863) کا مسلک اس معاملہ میں مختلف تھا۔ کانگریس کی حمایت کو مسلمانوں کے لیے درست نہیں سمجھتے تھے۔ اس اختلاف کے باوجود دونوں بزرگوں میں نہایت اچھے تعلقات تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی قدر کرتے تھے۔
ایک شخص کا ذہنی سانچہ اگر یہ ہو کہ موقف صرف دو ہوا کرتے ہیں۔ یا کامل موافقت یا کامل مخالفت، تو وہ دونوں بزرگوں کے اس طریقہ کو ’’زمانہ شناسی‘‘ پر محمول کرے گا۔ وہ کہے گا کہ دونوں صاحبان اگرچہ ایک دوسرے کے مخالف تھے، مگر ذاتی مفاد کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھے الفاظ بولتے رہے۔
مگر جو شخص اسلام کی روح اور مومنانہ مزاج کو جانتا ہو وہ اس کو وسعتِ نظری قرار دے گا۔ کہے گا کہ دونوں صاحبان مخلص تھے۔ دونوں کا دین ایک تھا۔ البتہ بعض مسائل میں دونوں کی رائے ایک دوسرے سے الگ ہو گئی تھی۔ اور اس قسم کا اختلاف انسانوں کے درمیان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ہر دور کے مومنین صالحین میں اس قسم کا اختلاف پایا جاتا تھا اور ہمیشہ پایا جاتا رہے گا۔ بذاتِ خود کوئی غیر محمود چیز نہیں۔ وہ غیر محمود صرف اس وقت بنتا ہے جب کہ اختلاف صرف اختلاف نہ رہے، وہ نفرت اور عناد تک جاپہنچے۔
اصحابِ رسول کے درمیان بہت سے امور میں اختلاف تھا۔ اسی طرح فقہا اور علما میں اور مفسرینِ قرآن اور شارحینِ حدیث میں ہزاروں اختلاف پائے جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اختلافات کا برملا اظہار کیا۔ اس کے باوجود ایسا ہوا کہ انھوں نے ایک دوسرے کا اعتراف کیا۔ ہمیشہ ایک دوسرے کی قدردانی کرتے رہے۔ اس دوطرفہ عمل کا سبب زمانہ شناسی نہیں تھی بلکہ دین ان کا یہ مسلک مفادِ دنیا کی بنا پر نہ تھا بلکہ خوفِ آخرت کی بنا پر تھا۔ اختلاف کے ساتھ اعتراف ایک آدمی کے مومن خاشع ہونے کی علامت ہے۔ لیکن بے خبر لوگوں کے لیے وہ مفاد پرستی اور زمانہ شناسی کے ہم معنی بن جاتا ہے۔