Al-Risala · March 2025

اختلاف کو بھلا دیا

Al-Risala, March 2025, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

گورباچوف (Mikhail Sergeyevich Gorbachev, 1931-2022) سوویت یونین کے آخری لیڈر تھے۔ وہ 1985 میں سوویت روس میں برسر اقتدار آئے۔ انھوں نے پارٹی میں اپنے موافق افراد لانے کے لیے اس کے ڈھانچے کو بدلنا شروع کیا۔ اس وقت بورس یلتسین (Boris Nikolayevich Yeltsin,1931-2007) پولٹ بیورو کے ممبر تھے۔ ان کی غیر معمولی شخصیت سے خائف تھے۔ اس لیے وہ یلتسین کو پولٹ بیورو میں شامل کرنے کے مخالف یہ اختلاف بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ 1987 میں یلتسین نے پارٹی کے تمام اعلیٰ عہدوں سے استعفا دے دیا۔ 1989 میں یلتسین جمہوریہ روس کی صدارت کے لیے کھڑے ہوئے تو گورباچوف نے ان کی مخالفت کی۔ اور ان کے مقابلے میں دوسرا امیدوار کھڑا کیا۔ تاہم اس مخالفت کے باوجود یلتسین کامیاب ہوئے اور جمہوریہ روس کے صدر بن گئے (ہندوستان ٹائمس 26 اگست 1991)۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کے انتہا پسند گروہ نے 19 اگست 1991 کو گورباچوف کے خلاف بغاوت کی اور ان کو ہٹا کر کریملن کی حکومت پر قابض ہو گئے۔ اس کا حوصلہ بھی ان کو اسی اختلاف سے وہ سمجھتے تھے کہ یلتسین اور گورباچوف کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر وہ گورباچوف کا خاتمہ کر سکتے مگر عملاً اس کے برعکس صورت حال پیش آئی۔ بغاوت کے بعد یلتسین نے اپنے تمام اختلافات کو انھوں نے اپنی پوری طاقت اور اپنی ساری ذہانت گورباچوف کی حمایت پر لگا دی۔ کو خطرے میں ڈال کر انھوں نے باغی حکمرانوں کے خلاف عوام کو منظم کیا۔ بغاوت کے اگلے ہی دن اس کے خلاف ماسکو میں اتنا بڑا عوامی مظاہرہ کرایا کہ باغیوں کو حکومت چھوڑ دینا پڑا۔ 1991 کو گورباچوف کریمیا سے واپس آ گئے اور دوبارہ حکومت کا عہدہ سنبھال لیا۔ عام طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ گورباچوف کا زندہ بچ جانا اور دوبارہ صدر کے عہدہ پر واپس آ جانا یلتسین کا کارنامہ ہے۔ بلند فطرت آدمی کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔ مشکل وقت میں وہ شکایت اور اختلاف کو بھلا کر انسان کا ساتھ دیتا ہے۔ جبکہ پست فطرت آدمی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

Printed page