تسبیح فاطمہ کا سبق
Al-Risala, January 2025, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی صاحب زادی ہیں۔ ہجرت سے قبل 605ء میں وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے پیدا ہوئیں ۔ رسول اللہ کی وفات کے 6 مہینے بعد 632ء میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت فاطمہ کی عمر 18 سال تھی۔ مشہور روایات کے مطابق، حضرت فاطمہ سے چار بچے پیدا ہوئے ۔ حسن، حسین، زینب، ام کلثوم رضی اللہ عنہم۔ حضرت فاطمہ سے 18 حدیثیں مروی ہیں۔
حضرت فاطمہ کی زندگی محنت اور مشقت کی زندگی تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں مجھے ایک خادم دیجیے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ کیا میں تم دونوں کو اس سے زیادہ اچھی چیز نہ بتاؤں (أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَّكُمَا مِنْ خَادِمٍ)۔ حضرت فاطمہ نے کہا، ہاں۔ چنانچہ آپ نے حضرت فاطمہ کو وہ مشہور تسبیح بتائی، جو ”تسبیح فاطمہ“ کے نام سے مشہور ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6318)۔ اس تسبیح پر نہ صرف حضرت فاطمہ نے ساری عمر عمل کیا، بلکہ وہ عام طور پر امت کی عورتوں اور مردوں کا ایک مستقل معمول بن گیا۔ اس طرح حضرت فاطمہ کے ذریعہ امت میں ایک اہم مثال قائم ہوئی۔ یہ مثال کہ باپ کی طرف سے اپنی بیٹی کے لیے اچھا تحفہ کیا ہے، اور یہ کہ بیٹی کس طرح خوش دلی کے ساتھ اس تحفہ کو قبول کر یہ واقعہ ہمیشہ کے لیے ایک اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیٹی نے اپنے باپ سے مادی عطیہ مانگا تھا، لیکن باپ نے اپنی بیٹی کو روحانی عطیہ (spiritual gift) دیا۔ دوسری طرف، بیٹی نے اپنی مانگ پر اصرار نہیں کیا، بلکہ باپ کی طرف سے جو کچھ دیا گیا تھا، اس کو خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیا۔ خصوصی طور پر اس واقعہ میں ایک عورت کے لیے یہ سبق ہے کہ اس دنیا میں اس کا سب سے بڑا سرمایہ دعا ہے، نہ کہ مادی عطیات ۔ حضرت فاطمہ کے ذریعہ یہ مثال قائم ہوئی کہ انسان کو ہر حال میں میں دعا میں جینا چاہیے، نہ کہ شکایات اور مطالبات میں۔
اسلام میں عورت عورت نصف انسانیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا۔ بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کا ایک سوال کیا گیا تھا۔ آپ نے اس مسئلہ کا جواب عورت اور مرد کے تعلق سے ایک اہم اسلامی اصول یہ بیان کیا: عورتیں بلا شبہ مردوں کا شقیقہ ہیں (اِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 236، سنن الترمذی، حدیث نمبر 113۔ شقیق یا شقیقہ عربی زبان میں کسی چیز کے درمیان سے پھٹے ہوئے دو برابر برابر حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے دردِ شقیقہ بولا جاتا ہے۔ یعنی وہ درد جو سر کے آدھے حصہ میں ہو۔ اوپر کی روایت میں اسی مفہوم میں عورت کو مرد کا شقیقہ کہا گیا ہے۔ یہ عورت کی حیثیت کی نہایت صحیح تعبیر ہے۔ اسلام کے مطابق عورت اور مرد دونوں ایک گل کے دو برابر برابر اجزاء ہیں، اس گل کا آدھا عورت ہے اور اُس کا آدھا مرد۔ قاضی ابوبکر ابن العربی المالکی (وفات 543ھ) نے اس حدیث کی شرح میں یہ الفاظ لکھے ہیں: أَنَّ الخِلْقَةَ فيهم واحِدَةٌ، والحكم فيهم بالشَّرِيعَة سواء (المسالک في شرح موطّا مالک، جلد 2، یعنی ان دونوں کی تخلیق ایک ہے، ان کے بارے میں شریعت کا حکم برابر ہے۔ بدرالدین العینی (وفات 855 ھ) نے اس کی شرح ان الفاظ میں کی ہے: وَالْمَعْنَى أَنَّ النِّسَاءَ نَظَائِرُ الرجل وأمثالهم في الْأَخْلَاق والطباع كأنهن شُققنَ مِنْهُمْ (عمدة القاری شرح صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 235)۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں مردوں کے ہم رتبہ اور ان کی مانند ہیں، اپنے اخلاق اور پیدائش کے اعتبار سے، گویا وہ ان سے ٹکڑے ہو کر الگ ہوئی ہوں۔
دوسرے الفاظ میں، عورت اور مرد ایک دوسرے کا تکملہ (supplement) ہیں۔ اعتبار سے یہ بات عین درست ہوگی کہ عورت کو نصف انسانیت کا لقب دیا جائے۔