Al-Risala · May 2025

پیس فل ایکٹوزم، وائلنٹ ایکٹوزم

Al-Risala, May 2025, pp. 5–9

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: بیشک اللہ نرم ہے، اور نرمی کو پسند کرتا ہے، اور نرمی پر وہ سب عطا کرتا ہے، جو وہ سختی پر عطا نہیں کرتا، اور نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے۔ میں یہ اضافہ ہے: وَيَرْضَاهُ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث یعنی اللہ تعالیٰ نرمی سے راضی ہوتا ہے، اور نرمی پر وہ جس طرح مدد کرتا ہے، ایسی مدد وہ سختی پر نہیں کرتا۔

یہ حدیث طریق کار کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ پرامن طریق کار پر آتی ہے۔ متشددانہ طریق کار پر اللہ کی مدد نہیں آتی ہے۔ مزید غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان پر امن انداز میں اپنا کام کرتا ہے، تو فطرت کے قوانین انسان کے موافق بن انسان کو اپنے کام میں فرشتوں کی مدد حاصل ہوجاتی ہے۔ جب کہ مسلح طریق کار میں ایسا نہیں ہوتا۔ مسلح طریقہ ہمیشہ ری ایکشن پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پر امن طریق کار ری ایکشن کا خاتمہ کردیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نرمی کو پسند کرتا ہے، وہ سختی کو پسند نہیں کرتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ نرمی یا پر امن طریق کار اختیار کرنے کی صورت میں مسئلہ حل ہوتا ہے۔ جب کہ تشدد کا طریقہ اختیار کرنے کی صورت میں مسئلہ ہمیشہ بڑھ جاتا ہے۔ پیس فل طریق کار اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی نیا مسئلہ پیدا ہوئے بغیر مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، تشدد کا طریقہ اختیار کرنے کی صورت میں مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ البتہ نئے نئے مسائل پیدا ہوکر مقصد کے حصول کو اور زیادہ مشکل بنادیتے ہیں۔

قرآن کی چند آیتیں قرآن کی سورہ آل عمران کی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے :

آسمانوں کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں (لَاٰيَاتٍ لِأُولِي الأَلْبَابِ ) ۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر (قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ) اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے رہتے ہیں۔ اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے۔ پس تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ) ۔ اے ہمارے رب تو نے جس کو آگ میں ڈالا اس کو تو نے واقعی رسوا کر دیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے (إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ) ۔ اے ہمارے رب ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو تو ہم سے دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر (تَوَفَّنَا مَعَ الأَبْرَارِ ) ۔ اے ہمارے رب تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے کیے ہیں، ان کو تو ہمارے ساتھ پورا کر (آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ ) اور قیامت کے دن تو ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں خواہ وہ مرد ہو یا عورت (أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ) ۔ تم سب ایک دوسرے کی جنس سے ہو، پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں شامل ہو گئے اور لڑے اور مارے گئے (فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتِلُوا وَقُتِلُوا ) ، میں ضرور ان کی خطائیں ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے۔ اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔

قرآن کی یہ آیتیں فہم دین کے لیے بہت زیادہ اہم ہیں۔ ان آیتوں میں جن نکات (points) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان کو یہاں مختصر طور پر نمبر وار درج کیا جارہا ہے: ان آیات سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی معرفت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے، جو اپنی عقل (reason) کو استعمال کریں (لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ)۔ آیت میں اولوالالباب کا لفظ اس کا مطلب ہے۔ اصحاب عقل یعنی جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کر کے زمین و آسمان کی چیزوں (creation) میں غور کریں۔ گویا کہ معرفت الہی کسی پراسرار طریقے سے حاصل نہیں ہوتی، معرفت کے حصول کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے عقل کو استعمال کر کے تخلیقی مظاہر میں غور و فکر کرنا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب کسی انسان کو خدا کی معرفت (realization) حاصل ہوتی ہے تو وہ اس کی پوری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ وہ ہر حال میں اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے (قِيَاماً وَّقُعُوداً وَّعَلَى جُنُوبِهِمْ)۔ انسان ایک فکری مخلوق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان (thinking animal) ہے۔ انسان کی سوچ ہی وہ عمل ہے، جو اس کی شخصیت کی تعمیر کرتی ہے۔ ربانی سوچ سے ربانی انسان بنتا ہے اور غیر ربانی سوچ سے غیر ربانی انسان۔ اس معرفت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی اور کائنات کی معنویت کو دریافت کر لیتا ہے۔ جان لیتا ہے کہ خدا کے خالق ہونے کا یہ لازمی نتیجہ ہونا چاہیے کہ آدمی خدا کے سامنے جواب دہ ہو (مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)۔ تخلیق اور جواب دہی (accountability) دونوں اس کو ایک حقیقت کے دو حصے نظر آنے لگتے ہیں۔ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے ۔ لازماً ایک دن انسان کا محاسبہ کرے گا اور اس کے عمل کے مطابق ، اس کے لیے جزا و سزا کا فیصلہ کرے گا۔

اس معرفت کے نتیجے میں انسان کے اندر جو شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ حق کے داعی کو پہچان لے (إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ حق کے داعی کو نہ پہچاننے کا واحد سبب یہ ہے کہ آدمی کنڈیشننگ کا شکار ہو۔ معرفت آدمی کو

اس قابل بناتی ہے کہ وہ کنڈیشننگ سے باہر آ کر چیزوں کو ویساہی دیکھ سکے جیسا کہ فی الحقیقت وہ یہ صلاحیت آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ تعصبات ذہنی سے آزاد ہو کر کسی انسان کو پہچان اس طرح ، حق کی معرفت آدمی کے لیے حق کے داعی کی معرفت کا یقینی ذریعہ بن جاتی ہے۔ جب ایک شخص کو معرفت والی زندگی حاصل ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کا وہ حال ہوتا ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلدُّ نْيا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر یعنی، دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس دنیا میں عارفِ حق کو غیر عارفین کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ خدا پرست کو غیر خدا پرستوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ آخرت پسند انسان کو ان لوگوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے جن کا کنسَرن صرف دنیا ہوتی ہے۔ حال کی بنا پر ایک سچے مومن کو دنیا ایک قید خانہ کے مانند نظر آنے لگتی ہے۔ اس کی بہترین تمنا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عارفین حق کے معاشرے میں رہنا نصیب ہو۔ اسی معاشرے کا نام جنت ہے۔ کسی شخص کو معرفت حاصل ہوتی ہے تو وہ عین اس کے فطری تقاضے کے مطابق، جنت کا طالب بن جاتا ہے۔ یہی مطلب ہے تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ کا، یعنی ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ آتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ - ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے ساتھ اللہ کا جو معاملہ ہوتا ہے۔ اس میں پیغمبر کے سچے امتی بھی برابر کے شریک ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت یہ بلاشبہ بہت بڑی بشارت ہے۔ تاہم خدا کی یہ عنایت صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہے، جو کسی شرط کے بغیر پیغمبر کا اعتراف کریں اور کسی شرط کے بغیر اپنی عملی زندگی میں اس کی پیروی اللہ تعالیٰ کی یہ سنت جس طرح پیغمبر کے معاصرین کے لیے ہے، اسی طرح اس سنت کا تعلق بعد کے دور کے اُن لوگوں سے بھی ہے جو پیغمبر کے مشن کو زندہ کرنے کے لیے اُٹھیں، اور ساتھ دینے والے ان کا ساتھ دیں۔

اگلی آیت میں عامل کے عمل کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ وہ سچے عامل کے عمل کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ یہ سنت مردوں کے لیے بھی ہے اور عورتوں کے لیے بھی (أَنِّى لَا أُضِيعُ عَمَلَ

عَامِلٌ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ) ۔ اللہ تعالی کی یہ سنت ایک سچے مومن کے لیے بلاشبہ سب سے بڑا سہارا ہے۔ حالات خواہ کتنے ہی سخت ہوں۔ اگر وہ حقیقتاً اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر ہے تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے ابدی طور پر یہ بشارت ہے کہ اِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ یعنی، بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکی کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد قرآن میں چند چیزوں کا ذکر ہے: ہجرت، وطن سے اخراج، اللہ کے راستے میں ستایا جانا اور قتال (فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا یہ چاروں شرطیں لازما لفظی طور پر مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ وہ معنوی طور پر مطلوب ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ہر زمانے میں شکل کے اعتبار سے عین ایسا ہی واقعہ پیش آئے گا کہ ان کو اپنا وطن چھوڑنا پڑے، وہ اپنے گھروں سے نکالے جائیں، ان کو جسمانی طور پر ستایا جائے، ان کو مسلح جنگ کرنا پڑے۔ یہ سب شرطیں حقیقی نہیں ہیں، بلکہ وہ اضافی ہیں۔ قدیم قبائلی دور (tribal-age) میں یہ واقعات شکلاً پیش آئے، لیکن موجودہ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے۔ اب انسانی حقوق (human rights) کو عالمی طور پر مان لیا گیا ہے۔ اب بھی سچے اہل ایمان کے ساتھ یہ تجربات پیش آئیں گے ، مگر وہ بہ اعتبار حقیقت (spirit) ہوں گے، نہ کہ باعتبار صورت۔

* * * * * موت کا سبق موت ہر انسان پر اچانک آتی ہے۔ اس بنا پر انسان مجبور ہے کہ موت کے معاملے میں غیر یقینی حالت میں جیے ۔ یہ غیر یقینی حالت صرف موت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ زندگی کے ہر پہلو سے متعلق ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ فطرت کے اس قانون کو قبول کرے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی پلاننگ کرے۔ ورنہ وہ اس معاملے میں اپنے آپ کو ابدی نقصان سے بچا نہیں سکتا۔

Printed page