میدان کا انتخاب
Al-Risala, May 2025, pp. 10–14
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب آدم اور حوا کو پیدا کیا تو ان کو جنت میں آباد کیا۔ نے فرمایا کہ تم پوری جنت کو استعمال کر سکتے ہو، لیکن جنت کا ایک درخت تمھارے لیے شجر ممنوع (forbidden tree) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے تم دونوں اس درخت کے پاس مت جانا اور اس کا پھل مت کھانا ورنہ تم دونوں ظالم ہو جاؤ گے:
وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَامِنَ الظَّالِمِينَ Do not approach this tree lest you become wrongdoers (2:35)
یہ قصہ صرف آدم اور حوا کا ایک قدیم روایتی قصہ نہیں، اس میں پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی سبق موجود ہے۔ یہ قصہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کیا ہے اور یہ کہ اس تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہر عورت اور ہر مرد کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ ان کو ناکامی سے بچنے کے لیے اس دنیا میں کس طرح رہنا چاہیے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ آدم اور حوا نے اس ممنوع درخت کا پھل کھا لیا۔ ان سے یہ غلطی صرف ایک درخت کے بارے میں ہوئی تھی، مگر عملی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پوری جنت سے محروم ہو گئے۔ آدم اور حوا کا یہ قصہ انسان کے بارے میں خالق کے مقرر کردہ ایک اہم اصول کو بتاتا ہے۔ یہ کہ ہر انسان اور ہر انسانی گروہ کے لیے ایک ممنوع درخت" (forbidden tree) ہوتا ہے۔ فرد اور جماعت دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اس "ممنوع درخت" کو دریافت کریں اور اس سے کامل طور پر پرہیز کریں، ورنہ وہ لازمی طور پر اس کے برے انجام سے دوچار ہوں گے اور پھر کوئی چیز نہ ہوگی، جو ان کو اس تباہ کن انجام سے بچائے۔
اب اس معاملے کو فرد کی نسبت سے دیکھیے ۔ اس دنیا کو بنانے والے نے ایک خاص مقصد کے تحت اسے بنایا ہے۔ وہ یہ کہ یہ دنیا ایک انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ دنیا میں مختلف قسم کے موافق اور ناموافق حالات کے درمیان آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔
کے تحت اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کو ہر لمحہ کوئی نہ کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آتا ہے۔ مزاج کے اعتبار سے معیار پسند (idealist) ہے، مگر موجودہ دنیا میں ہر چیز غیر معیاری ہے۔ پر عملاً یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی بے شعوری کی بنا پر منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا ہو اس طرح وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے غیر مستحق انسان بنا لیتا ہے۔
اس امتحان میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی یہ دریافت کرے کہ سماجی زندگی میں اس کے لیے ”ممنوع درخت“ کیا ہے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ جس ”درخت“ کو نہ پانے کی وجہ سے منفی سوچ میں مبتلا ہورہا تھا، وہ دراصل اس کے لیے ”ممنوع درخت“ کی حیثیت رکھتا تھا، اور اسے حاصل کرنا اس کے لیے فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بنتا۔
افراد (individuals) کے بارے میں یہ المیہ پوری تاریخ میں پیش آیا ہے۔ انسانوں کا یہ حال ہورہا ہے کہ وہ تجرباتِ حیات کے دوران کسی نہ کسی اعتبار سے منفی نفسیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ منفی سوچ میں جیتے ہیں اور منفی سوچ میں مرتے ہیں۔ کسی شخص کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے خواہشات (desires) کی تکمیل (fulfilment) چاہتا تھا، مگر یہ تکمیل اس کو نہیں مل پاتی۔ یہ ہوتا ہے کہ وہ مایوسی کی حالت میں جیتا ہے، اور مایوسی کی حالت میں اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ نے آئیڈیل انصاف (ideal justice) کو ایک نشانہ بنایا، مگر وہ جدوجہد کے باوجود آئیڈیل انصاف نہ پاسکا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فرسٹریشن کا شکار ہو کر رہ گیا۔ کسی نے یہ چاہا کہ وہ اسی دنیا میں اپنی جنت تعمیر کرے، مگر ساری کوشش کے باوجود وہ اپنی مطلوب جنت کی تعمیر نہ کرسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صرف نا امیدی کا ایک کیس بن کر رہ گیا۔
افراد کے بارے میں یہ المیہ (tragedy) پوری تاریخ میں نظر آتا ہے۔ اس کا مشترک سبب یہ ہے کہ ہر انسان نے اپنے لیے ایک ایسی چیز کو حاصل کرنا چاہا جو خالق کے منصوبے کے مطابق ، اس کے لیے ”ممنوع درخت“ کی حیثیت رکھتا تھا، اس بنا پر وہ اس کے لیے قابل حصول ہی نہ تھا، اس صورت حال نے انسانی تاریخ کو عملاً انسانی تمناؤں کا ایک وسیع قبرستان بنا دیا۔ یہی معاملہ قوموں کا ہے۔ تاریخ میں بار بار یہ حادثہ پیش آرہا ہے کہ قو میں یا قوموں کے لیڈر
اپنے لیے ایسا نشانہ بناتے ہیں۔ جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے ان کے لیے ناقابلِ حصول نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جو کرتے ہیں وہ اپنے انجام کے اعتبار سے ان کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ وہ بڑے بڑے حوصلوں کے ساتھ زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ اور آخر میں وہ مایوسی کا شکار ہو کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ سکندرِ اعظم (Alexander the Great) 336 قبل مسیح میں یونان کا بادشاہ بنا۔ اس نے اپنے لیے ایک ناقابلِ حصول پولٹیکل نشانہ بنایا، یعنی یہ کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے ساری دنیا کو فتح کرے مگر عملاً یہ ہوا کہ وہ صرف 33 سال کی عمر میں شدید مایوسی کی حالت میں مرگیا۔ ہٹلر (Adolf Hitler, b. 1889) 1933 میں جرمنی کا چانسلر (Chancellor) مقرر مگر اس نے اپنے لیے ایک ناقابلِ حصول سیاسی نشانہ بنایا، یعنی پورے یورپ میں جرمنی کا اقتدار قائم کرے ۔ مگر بڑے بڑے فوجی اقدامات کے باوجود وہ اپنا نشانہ پورا نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ 1945 میں شدید مایوسی کی حالت میں اس نے خود کشی کر لی، جب کہ اس کی عمر ابھی صرف 56 سال تھی۔ اس طرح کی ایک مثال کمیونسٹ پارٹی کی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے 1917 میں روس میں اقتدار حاصل کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے لیے ایک ناقابلِ حصول نشانہ بنایا، یعنی کمیونسٹ آئیڈیالوجی کو ساری دنیا میں ایکسپورٹ کرنا۔ اس مقصد کے لیے اس نے بہت فوجی کارروائیاں کیں۔ اسی سلسلے کا ایک واقعہ یہ تھا کہ اس نے 1979 میں افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں ، مگر اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلا 1991 میں خود کمیونسٹ ایمپائر (Soviet Union) ٹوٹ گیا، عالمی نقشے پر وہ سپر پاور کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔
اسی نوعیت کی ایک مثال امریکا ہے۔ اس نے بھی یہی کیا کہ اپنے لیے ایک ناقابلِ حصول امریکا کے پولٹیکل لیڈر براک اوباما کو دوسری بار صدر امریکا منتخب کیا گیا۔ اس سلسلے میں واشنگٹن میں 22 جنوری 2013 کو ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر صدر اوباما نے ایک افتتاحی تقریر کی ۔ اس تقریر میں انھوں نے امریکا کی عالمی پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ ـــ امریکا ساری دنیا میں جمہوریت کو اپنی سپورٹ دیتا رہے گا:
We will support democracy from Asia to Africa, from the Americas to the Middle East. مگر واقعات بتاتے ہیں کہ امریکا کی یہ پالیسی اس کے لیے پوری طرح کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوئی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا ایک مضبوط قوم (strong nation) کی حیثیت سے ابھراتھا۔ امریکا کی اقتصادیات کو ایک مستحکم اقتصادیات سمجھا جاتا تھا،لیکن اب اکیسویں صدی میں امریکا نے اپنی یہ حیثیت کھودی ہے۔ امریکا کی مذکورہ خارجہ پالیسی نے اس کو صرف یہ تحفہ دیا کہ امریکا کی سپر پاور حیثیت دنیا کی نظر میں مشتبہ ہو گئی۔ اس معاملے میں خود ملت مسلمہ کا حال بھی یہی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اور ان رہنماؤں کی پیروی کرتے ہوئے تقریباً تمام مسلمانوں نے یہ فرض کر لیا کہ دنیا کی تمام قومیں ان کی دشمن ہیں، ہر جگہ ان کے خلاف سازش جاری ہے، ان کی حکومتوں کو توڑ اجارہا ہے، ان کے سیاسی دبدبہ کو ختم کیا اس سوچ کے تحت تمام دنیا کے مسلمان مفروضہ دشمنوں کے خلاف مفروضہ جہاد میں مشغول اس جہاد میں عملاً پوری ملت مسلمہ شامل ہے۔ کچھ لوگ انفعالی جہاد (passive jihad) کے طور پر اور کچھ لوگ عملی جہاد (active jihad) کے طور پر اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ مگر اس معاملے میں ملت مسلمہ کا انجام بھی وہی ہورہا ہے، جو دوسری قوموں کا ہورہا ہے۔ تقریباً 200 سال کی جدوجہد اور قربانی کے باوجود ان کا مقصود حاصل نہیں ہوا، بلکہ یہ ہوا کہ ملت مسلمہ کی تباہی میں نا قابلِ تلافی حد تک اضافہ ہوگیا۔ اس کی ایک مثال فلسطین ہے۔ فلسطین میں 1948 میں تمام عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی حمایت سے اسرائیل کے خلاف جہاد شروع ہوا، مگر نتیجہ برعکس صورت میں نکلا۔ 1948 میں جب جہادِ فلسطین شروع ہوا ۔ اس وقت فلسطین کا تقریباً نصف حصہ بشمول یروشلم (مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس، وغیرہ) عربوں کے پاس تھا، مگر آج عربوں کے پاس فلسطین کا اتنا کم حصہ ہے، جو عملاً نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ الم ناک واقعات جو مسلمانوں اور دوسری قوموں کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔ ان سب کا مشترک سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے "ممنوع درخت" کے قانون فطرت کی خلاف ورزی کرنا۔ قوم نے ایک ایسی منزل کی طرف رخ شروع کر رکھا ہے، جہاں پہنچنا اس کے لیے مقدر نہیں۔
اس عالمی مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ ہر فرد اور ہر قوم اپنے معاملے کا ازسرنو جائزہ لے۔ کے منصوبے کو سمجھے ، وہ غیر جانب دارانہ سوچ کے تحت یہ دریافت کرے کہ خالق کے منصوبے کے تحت اس کا ممنوع درخت (forbidden tree) کیا ہے اور پھر اپنی سابقہ غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ وہ ممنوع میدان کو چھوڑے اور جو میدان اس کے لیے کھلا ہوا ہے، اس میں از سر نو اپنی جدوجہد کا آغاز کرے۔ یہی کامیابی کا واحد راز ہے۔ اس کے بغیر اس دنیا میں کسی کے لیے بھی کامیابی کا حصول ممکن نہیں ، نہ کسی فرد کے لیے اور نہ کسی قوم کے لیے۔ اس اصول کا خلاصہ مختصر طور پر یہ ہے : اپنے شجر ممنوعہ کو دریافت کرنا اور اس سے دوری اختیار کرتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔
میری عمر 66 سال ہوگئی۔ اگر مجھے بتانا ہو کہ میری پوری زندگی کے مطالعہ اور تجربہ کا آخری حاصل کیا ہے، تو میں کہوں گا کہ ــــ اللہ تعالیٰ نے انسان کی صورت میں ایک مسٹر تھنگ (Mr. Nothing) پیدا کیا اور اس کے اوپر (thing) کا پردہ ڈال دیا۔
انسان کے پاس بظاہر دماغ ہے، علم ہے، طاقت ہے، اسباب و وسائل ہیں۔ مگر یہ سب کا سب ظاہری پردہ ہے۔ اس پردہ کے اندر داخل ہو کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ انسان کی کسی چیز کی کوئی حقیقت اس میں شک نہیں کہ انسان کا ایک علیحدہ وجود ہے۔ اس کا یہ علیحدہ وجود دنیا سے لے کر آخرت تک باقی رہے گا۔ انسان کا سارا معاملہ سراسر اللہ کی ذات پر منحصر ہے۔ دنیا میں بھی اگر وہ کچھ پاتا ہے تو وہ اللہ کے دیے سے پاتا ہے۔ اور آخرت میں بھی وہ جو کچھ پائے گا اللہ کے دیے سے پائے گا۔ انسان کے پاس ارادہ ہے مگر حسب ارادہ نتیجہ ظاہر کرنے کی اس کے اندر طاقت نہیں۔ کے پاس فکر ہے، مگر حالات کے اوپر اس کا کنٹرول نہیں۔ اس کو چاہنے کا اختیار ہے، مگر اس کو کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ (ڈائری ، 26 فروری 1990)