Al-Risala · January 2025

قُوَّام کا مطلب کیا ہے

Al-Risala, January 2025, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ النساء کی آیت میں آیا ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر قوام ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى یعنی مرد عورتوں کے اوپر قُوَّام ہیں۔ قُوَّام کے معنیٰ عربی زبان میں نگراں اور منتظم کے ”مرد قوام ہیں“ کا مطلب یہ نہیں کہ مرد افضل مخلوق ہے، اور اس کے مقابلے میں عورت غیر افضل اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ خاندانی معاملات کے انتظام یا بندوبست کے لیے خالق نے یہ فطری اصول مقرر کیا ہے کہ گھر کے داخلی مجموعہ میں مرد منتظم کی ذمہ داری کو سنبھالے تا کہ خاندان کا نظام اسی طرح درست طور پر چل سکے جس طرح بقیہ کائنات کا نظام اسی اصول تنظیم کو اختیار کر کے درست طور پر چل رہا ہے۔ آج کے الفاظ میں قُوَّام کا مطلب بیان کیا جائے تو وہ لفظ باس (boss) ہے۔ اور ہر دفتر کو منظم طور پر چلانے کے لیے ایک باس ہوتا ہے۔ کارکن خواتین اپنے دفتروں میں باس کو پوری طرح تسلیم کرتی ہیں۔ اسلام نے گھر کے لیے مرد کو باس کی حیثیت دی ہے:

Bossism is a universal principle, and the home is no exception. یہ انتظامی امور کا معاملہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ ذمہ داری کی بات ہے، نہ کہ افضلیت کا معاملہ۔ یعنی گھر یلو امور میں مرد پر زیادہ ذمہ داری ہے۔ ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی استثنا ہے۔ عورت اگر اپنے گھر میں مرد سے زیادہ سمجھدار ہو، تو وہ بھی اپنے گھر میں قوام کی ذمہ داری نبھا سکتی ہے۔

Printed page