جدید انسان کی تلاش
Al-Risala, May 2025, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
ژیان فرانس ريویل (1924-2006 Jean-Francois Revel) کی کتاب مارکس یا مسیح کے بغیر (Without Marx or Jesus) فرانس میں 1970 میں شائع ہوئی۔ کتاب میں مصنف نے بوڈیلیئر کا قول نقل کیا ہے جس نے تجویز کیا تھا کہ انسانی حقوق کے اعلان میں دو مزید حقوق شامل کیے جائیں۔ ایک، آپ اپنی تردید کرنے کا حق۔ دوسرے کنارہ کشی کا امریکی نوجوان آج اسی انقلاب کی طرف جا رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایک ایسے سماج کو رد کر رہا ہے جس کا محرک صرف منافع ہو اور جس پر صرف اقتصادی امور کا غلبہ ہو۔ دوسری طرف اسے روایتی مذاہب پر بھی اطمینان نہیں۔ کیوں کہ اس کے نزدیک بہترین مذہب وہ ہے جسے آدمی خود دریافت کرے۔
امریکی نوجوانوں میں ابھرنے والے رجحانات کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں: اخلاقی قدروں کی طرف واپسی کا رجحان، محض اقتصادی اور تکنیکی سماجی مقاصد کو رد کرنا، اور قدرتی ماحول کو تجارتی مفاد سے زیادہ اہمیت دینا۔ مصنف کے مطابق، ” آج امریکہ میں ایک نیا انقلاب جنم لے رہا ہے، جو انسانیت کے لیے نجات کی راہ پیش کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مبنی بر ٹیکنالوجی تہذیب کو منزل سمجھنے کے بجائے اسے ایک ذریعہ کے طور پر لیا جائے۔ اور چونکہ نہ تو اس تہذیب کو مکمل طور پر ترک کرنا ہمارے لیے فائدہ مند ہے، اور نہ ہی اس کا جوں کا توں برقرار رکھنا مفید، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کریں جس سے ہم اس تہذیب کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے اسے ایک نئی اور بہتر صورت دے سکیں۔ Today in America a new revolution is rising. It is the revolution of our time. It is the only revolution that involves radical, moral, and practical opposition to the spirit of nationalism. It is the only revolution that, to that opposition, joins culture, economic and technological power, and a total affirmation of liberty
یہ ذہن جس کی نمائندگی اس کتاب میں کی گئی ہے ایک ایسے آدمی کی بے چینی کی طرح ہے جس خود اپنی بے چینی کا سبب معلوم نہ ہو۔ امریکی نوجوان مادی تہذیب سے، جس کی آخری نمائندگی مارکس نے کی، مکمل طور پر غیر مطمئن ہو چکا ہے۔ وہ دوبارہ اس ’’ماضی‘‘ کو دیکھنے لگا ہے جس کو اس کے باپ دادا نے چھوڑ دیا تھا۔ مگر یہاں ’’ماضی‘‘ کی نمائندگی کرنے والی جو چیز ملتی ہے وہ عیسائیت ہے۔ عیسائیت اپنے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ خالص علمی و عقلی ذہن کو اپیل نہیں کرتی۔ اس لیے وہ ’’مارکس‘‘ کے ساتھ ’’مسیح‘‘ کا بھی باغی ہو جاتا ہے۔ تاہم جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بغاوت کے بعد وہ جس چیز کا طالب ہے، وہ اس کے اپنے الفاظ میں وہی چیز ہے جس کا جواب صرف مذہب کے اندر ہے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مجہول احساس کے ساتھ اسی چیز کی تلاش میں ہے جسے کو مذہب کہتے ہیں۔ مصنف نے اپنی کتاب کا نام ’’نہ مارکس نہ مسیح‘‘ رکھا ہے۔ مگر باعتبارِ حقیقت اس کا نام ہونا چاہیے تھا ’’نہ مارکس نہ مروجہ عیسائیت‘‘۔
میڈالین ایم اوہیئر (Madalyn Murray O'Hair, 1919-1995) امریکہ کی مشہور ترین ملحد خاتون ہیں۔ وہ کھلم کھلا اپنے الحاد کی تبلیغ کرتی ہیں۔ پکے خدا پرست والدین کی یہ بیٹی اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہے: ’’مجھے ان کے اعتقادات کا علم تھا اور احترام بھی کرتی تھی_ مگر 13 سال کی عمر میں اتوار کا پورا دن انجیل پڑھتے رہنے کے بعد میں اس کی یکسر خلاف عقل باتوں سے متنفر ہوگئی۔ انسان مذہب کی طرف لوٹنا چاہتا ہے مگر مذہب کی غلط نمائندگی اس کو دوبارہ مذہب سے دور لے جا رہی ہے۔ یہ ہے دورِ جدید کا سب سے بڑا المیہ۔