ایک انٹرویو
Al-Risala, May 2025, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال : مولانا ، بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان کے اندر قومیتوں کے تضادات آخر کار اس کوٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دوچار کر دیں گے۔ آپ کا اس تجزیہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جواب: تضادات تو ہر سوسائٹی میں ہوتے ہیں۔ بے تضادسوسائٹی کوئی بنی نہیں۔ مسلم سوسائٹی بھی تضادات سے پاک نہیں رہ سکتی۔ میرا خیال ہے کہ جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ روس کی طرح ہندوستان بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، وہ مغالطے میں مبتلا ہیں۔ روس کے ٹوٹنے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے عوام کو بے روٹی کر دیا۔ میں خود روس گیا ہوں۔ عوام بھوکوں مر رہے ہیں۔ روس نے اپنے سارے وسائل اسلحہ سازی پر لگا دیے اور عوام کو بے روٹی کر دیا۔ لیکن انڈیا میں ایسا نہیں ہوا کہ حکومت نے عوام کی روٹی چھین لی ہو ۔ اگر آپ عوام سے روٹی چھین لیں گے تو پھر بغاوت ہوگی ۔ اسلامی حکومت ایسا کرے گی تو اس کے خلاف بھی بغاوت ہوگی ۔ انڈیا میں لوگوں کو آزادی ہے۔ ان کے پاس کھیت ہیں، وہ پیدا کرتے ہیں اور کھاتے ہیں۔ وہاں بغاوت کس طرح ہوگی؟ باقی جھگڑے کہاں نہیں ہوتے۔ ہمیشہ رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔
سوال: بابری مسجد کے حوالے سے آپ کی رائے عام علما سے مختلف رہی۔ وہاں کے کئی علما کو آپ سے شکایت بھی ہے کہ آپ ان کے موقف کی طرف داری نہیں کرتے؟
جواب: بابری مسجد کے بارے میں میری رائے عام مسلمانوں کی رائے سے مختلف نہیں۔ اس الزام کی تردید کرتا ہوں۔ میرا اختلاف صرف تدبیر کا اختلاف ہے۔ ان کا خیال تھا کہ معاملہ کو سڑکوں پر لایا جائے۔ یہ سڑکوں پر حل ہوگا ، جلوس سے حل ہوگا، جلسوں سے حل ہوگا ، گولی سے حل میں سمجھتا تھا کہ ان طریقوں سے نہیں ، بلکہ پرامن طریقے سے حل ہوگا۔ آپ نے دیکھا کہ آخر کار ان کو ناکامی ہوئی۔
سوال: کیا یہ شرعی مسئلہ ہے کہ جس جگہ ایک مرتبہ مسجد بن جائے وہاں قیامت تک کوئی اور تعمیر
جواب: ہماری فقہ میں ایسا ہی لکھا ہے۔
سوال: قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ کیا ہے؟
جواب: بس اتناہی کافی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔
سوال: بعض حضرات نے قومی اور اصلی اسلام کے خانے بنا رکھے ہیں۔ اور ان کے نزدیک قومی خدمت، اسلامی خدمت قرار نہیں دی جاسکتی۔ کیا مسلمانوں کے قومی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنا غیر اسلامی ہے؟
جواب: بالکل اسلامی ہے۔ صرف یہ ہے کہ تقسیم کار ہونی چاہیے۔ کچھ لوگ مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھانے کی کوشش کریں، کچھ فکری چیلنجوں کا مقابلہ کریں، کچھ مسلمانوں کو انڈسٹری میں ترقی یہ عین اسلامی کام ہوگا۔ میں صرف ایک چیز کا مخالف ہوں، حکومتوں سے ٹکراؤ۔ اس کو میں زہر سمجھتا ہوں کیونکہ یہ سارے کام بگاڑ دیتا ہے۔
سوال: امیر تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد سے آپ کے خوشگوار مراسم یک بیک ناخوشگوار کیوں کر اب سنا ہے کہ ترک ملاقات تک نوبت آن پہنچی ہے۔ حالانکہ چند سال قبل انھوں نے محاضرات قرآنی میں آپ کو خاص طور پر مدعو کیا تھا؟
جواب: ڈاکٹر صاحب مجھ سے کیوں ناراض ہیں، یہ ان کو معلوم ہوگا۔ میں نے تو "الرسالہ" میں ڈاکٹر صاحب کے خلاف کبھی کچھ نہیں لکھا اور میں ان کے کام کی قدر کرتا ہوں، جو کچھ بھی ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، وہ جس اسلامی انقلاب کا ذکر کرتے ہیں اور جو بیعت انھوں نے اپنے پیروکاروں سے لے رکھی ہے، میں اسے صحیح نہیں سمجھتا۔
سوال: پاکستان میں ان دنوں علما کا ایک طبقہ جمہوریت کو ترک کر کے خلافت کا علمبردار بن گیا اس کے لیے باقاعدہ فورم بنا دیے گئے ہیں۔ کیا اسلام میں جمہوریت مبغوض ہے؟ اور یہ کہ جمہوریت اور خلافت میں کیا حقیقی فرق ہے؟
جواب: دیکھیے، جمہوریت نام ہے ایک حکومتی نظام کا۔ میں اس کو اسلام کے مطابق سمجھتا ہوں
اور خلافت بھی عین جمہوری ہے۔ اس کو چھوڑ دیجیے کہ جمہوری نمائندے قانون سازی بھی کرتے ہیں، وہاں تک نہ جائیے۔ لیکن یہ کہ افراد حکومت کس طرح منتخب ہوں، جمہوریت اس کا نام ہے۔ نظام خلافت عین جمہوری تھا۔ یہ بے کار بحثیں ہیں اور یہ ان لوگوں نے شروع کر رکھی ہیں جنہوں نے نظام کو نشانہ بنا رکھا ہے اور فرد سازی کے کام کو عملاً ترک کر دیا ہے۔
سوال: آپ نے مولانا مودودی مرحوم کی فکر پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں دین کے اصل محور کو بدل دیا گیا ہے۔ اور سیاست، جو کہ دین کا ایک تقاضا ہے اسے کل دین قرار دے دیا گیا۔ آپ نے اس کو ’’تعبیر کی غلطی‘‘ قرار دیا اور ایک متوازن فکر پیش کرنے کا دعویٰ کیا۔ لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ردعمل میں آپ نے ایک دوسری انتہا کو چھولیا اور دین کی ایک ایسی تعبیر کر ڈالی جس کو قبول کر لینے کے بعد ایک مسلمان امور مملکت یا امور سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ جواب: جن لوگوں نے مجھ پر یہ اعتراض کیا ہے، ان کو چاہیے کہ وہ اپنے دلائل بھی دیں۔ یہ ایک مجرد بیان ہے کہ میں ایک دوسری انتہا تک پہنچ گیا ہوں۔ میں نے ایک فکر پر اعتراض کیا، اس کی غلطی واضح کرنے کے لیے دلائل دیے اور اس کے متوازی ایک دوسرا فکر پیش کیا۔ اب میرے فکر کو غلط ثابت کرنے کے لیے دلائل کی ضرورت ہے۔ میں جانتا ہوں جو صاحب یہ اعتراض کرتے ہیں، لیکن انھوں نے کوئی دلیل تو دی نہیں۔ بس ایک بیان دے دیا ہے۔ اب ان کے بیان پر کیا بیان دیا جائے۔ سوال: مولانا، بعض لوگ آپ پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ یہ کہ کرنل معمر قذافی آپ کی مالی امداد کرتے ہیں، یہ کہ حکومت بھارت آپ کی سرپرستی کرتی ہے، یہ کہ آپ کا’’الرسالہ‘‘ حکومت ہزاروں کی تعداد میں خرید کر مفت تقسیم کرتی ہے؟
جواب: یہ صد فیصد جھوٹ ہے۔ آپ جس سطح پر بھی جانچ کر لیں۔ آپ چاہیں تو میرے اکاؤنٹ کو چیک کر لیں، میرے پاس جو کچھ ہے Accounted Money ہے، جس کا باقاعدہ آڈٹ کیا جاتا حسابات میں لکھا ہوا ہے کہ میں نے مکان کہاں سے خریدا اور گاڑی کیسے خریدی۔ آپ نے لیبیا کی بات کی ہے۔ کیا ’’الرسالہ‘‘ میں قذافی کی تبلیغ ہوتی ہے؟ قذافی لیبیا کا ڈکٹیٹر ہے اور میں صبر
اور اعتراض کی بات کرتا ہوں۔ کیا قذافی مجھے اس لیے پیسہ دے گا کہ میں اس کے الٹ تبلیغ کروں؟ کوئی میری اس دلیل سے مطمئن نہ ہو تو میں مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔ جن صاحب کو اعتراض ہے، وہ مسجد میں میرے ساتھ آ جائیں۔ میں یہ کہنے کے لیے تیار ہوں جس شخص نے قذافی سے پیسہ لیا، اس پر اللہ کی لعنت ہو، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے، اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نہ ملے، حوض کوثر پر حضور اس کو پانی نہ پلائیں۔ میں بھی یہ کہتا ہوں اور وہ صاحب بھی یہ کہیں۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ میں وہاں کانفرنسوں میں جاتا ہوں۔ ایک مرتبہ ایک عرب نے یہی اعتراض کیا تو میں نے ان کو وہ تقریریں دکھا دیں جو میں نے وہاں کی تھیں، چونکہ کانفرنسوں کے بعد ایسی تقریریں شائع کردی جاتی ہیں۔ ان تقریروں میں میرا موضوع وہی ہوتا ہے جس کا "الرسالہ" میں ذکر ہوتا کوئی ثابت کر دے کہ میں نے کبھی قذافی کی تعریف کی ہو یا اس کے حق میں تقریر کی ہو؟ سوال: اور انڈیا کی سرپرستی کا معاملہ کیا ہے؟
جواب: یہ بھی جھوٹ ہے۔ کوئی ثابت کرے کہ حکومت بھارت میرا پرچہ اس طرح خریدتی میں انڈیا میں رہتا ہوں، لیکن میں آج تک حکومت کے کسی آدمی سے ملاقات کرنے نہیں کسی گورنر، وزیر، صدر کو نہیں ملا۔ حالانکہ ان سے ملاقات میرے لیے مشکل نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ حکومت کے لوگ میرا پرچہ پڑھتے ہیں، جس طرح دوسرے پرچے پڑھتے ہیں۔ لیکن حکومت سے میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ میں نے حکومت سے کوئی پیسہ لیا ہے۔ اگر کوئی یہ ثابت کر دے تو میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ میں اپنے مرکز کو آگ لگا دوں گا۔ جی ہاں، اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ میں حکومت سے امداد لیتا ہوں تو میں اپنے مرکز کو خود آگ لگا دوں گا۔ اس کے لیے بھی میں مباہلہ کو تیار ہوں۔ سوال: آپ کی کوٹھی، کار کا ذکر بھی ہوتا رہتا ہے؟
جواب: جیسا کہ میں نے عرض کیا، میرے پاس Accounted Money ہے۔ اکاؤنٹ کا آڈٹ بھی وہی صاحب کرتے ہیں جو جماعت اسلامی کے آڈیٹر ہیں، مقصود عالم صاحب۔ وہ میرے اور جماعت اسلامی ہند کے حسابات دیکھتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آڈیٹر کو سب معلوم ہوتا جن کو شبہ ہے ان صاحب سے معلوم کرلے۔ (بشکریہ: زندگی، لاہور، ستمبر 1991)