Al-Risala · January 2025

فریڈم اور سرینڈر کے درمیان

Al-Risala, January 2025, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (7:179)۔ یعنی اور ہم نے جنات اور انسان میں سے بہتوں کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے چو پائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ۔ یہی لوگ ہیں غافل۔

اس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو ایک مخصوص مخلوق کے طور پر انسان ایک ایسی مخلوق ہے، جس کا کمال یہ ہے کہ وہ ٹوٹل فریڈم کے باوجود ٹوٹل سرینڈر کا جو آزادی کے باوجود اپنی آزادی پر مکمل کنٹرول کرتے ہوئے اس کا استعمال کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں، جو کامیاب ہوئے، اور ان کو جنت میں داخلہ ملے گا۔ وہ جنت کے وارث ہوں گے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں نے اپنی آزادی کا مس یوز (misuse) کیا، وہ امتحان میں فیل ہوئے۔ ان کے لیے آخرت کی معیاری دنیا میں کوئی حصہ نہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں، جن کے لیے اللہ نے ہدایت کا راستہ کھولا، مگر وہ درج ذیل آیت کا مصداق بن گئے: اَلَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ - وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا (7:175-76)۔ یعنی، جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہورہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کلب کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔

Printed page