Al-Risala · May 2025

27 جون 1986

Al-Risala, May 2025, pp. 42–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی (80) کی دہائی میں میرے ساتھ مادی نقصانات کے کچھ واقعات پیش آئے۔ نقصان پر ہمارے ایک ساتھی نے مجھے یہ خط لکھ کر کہا کہ ان کو شریک مشورہ نہیں کیا گیا، ورنہ اس کی نوبت نہ آتی۔ وہ اپنے خط مورخہ 17 جون 1986 میں لکھتے ہیں:

” اس کا نقصان یہ سامنے آیا کہ اگر آپ نے مجھے ٹھیک سے سمجھا ہوتا تو شاید کئی مواقع پر میرا زیادہ

مفید استعمال کر سکتے تھے۔ اگر آپ مجھے اس مسئلہ میں شروع سے دخیل فرما دیتے تو میرے خیال سے نوعیت ہی اس وقت کچھ اور ہوتی۔

عجیب بات ہے کہ ان معاملات میں میرے سوچنے کا انداز اس سے سراسر مختلف ہے، جو ہمارے مذکورہ ساتھی کے خط میں نظر آتا ہے۔ یہ واقعات بلا شبہ ضیاع کے واقعات تھے۔ مگر ان کے ذریعہ مجھے ایک بہت بڑی دریافت ہوئی۔ ان واقعات نے مجھے ایک ایسی حقیقت کو سمجھنے میں مدد دی، جو اس سے پہلے شعوری طور پر مجھ پر واضح نہ تھی۔

ان واقعات پر غور کرنے کے بعد میں نے جانا کہ اگر مجھے اصل واقعہ سے کچھ پہلے معلوم ہو گیا ہوتا کہ میرے مخالفین اس معاملہ میں کیا سوچ رہے ہیں تو میں بروقت اقدام کر کے یقینی طور پر اس کا دفعیہ کر سکتا تھا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آبائی زمین یا مرکز کی ایک عمارت کے بارے میں کوئی شخص قبضہ کا منصوبہ بنا رہا ہے تو میں اس کو پہلے ہی فروخت کر دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تجربہ کے بعد ہی میری سمجھ میں وہ آیت آئی جس کے الفاظ یہ ہیں:

وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ (7:188)۔ یعنی، اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں فائدہ حاصل کرنے کا خاص مدار اس پر ہے کہ آدمی غیب کو جانتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو غیر معمولی فتوحات حاصل ہوئیں، اس کا خاص الخاص راز یہی تھا۔ سیرت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بار بار اپنے پیغمبر کو مخالفین کی خفیہ تدبیروں سے باخبر کرتا رہا۔ اس طرح آپ ان کے اقدام سے پہلے ان کے منصوبے سے آگاہ ہو گئے اور پیشگی کارروائی کر کے ان کے خفیہ منصوبوں کو نا کام بنا دیا۔

مذکورہ ساتھی ایک مخلص آدمی ہیں۔ میں ان کی قدر کرتا ہوں۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ادراک ابھی اس درجہ کو نہیں پہنچا ہے کہ وہ ہمارے مشن کی آزادانہ رہنمائی کر سکیں۔ اس کی ایک مثال ان کا مذکورہ بالا خط ہے۔

یہ سطریں لکھتے ہوئے مذکورہ ساتھی کو شاید سورہ آل عمران کی وہ آیتیں یاد نہ تھیں جو غزوہ احد سے

قصہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ قریش مکہ آپ سے لڑنے کے لئے آ رہے ہیں تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ صحابہ کی جماعت کی رائے یہ ہوئی کہ مدینہ سے باہر نکل کر ان کا مقابلہ کیا جائے۔ مگر عبد اللہ بن ابی کی رائے شدت سے یہ تھی کہ ہم لوگ مدینہ میں جب قریش کا لشکر یہاں تک پہنچ جائے تو ہم اپنے گھروں کی آڑ لے کر ان کا مقابلہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی کی رائے کے خلاف دوسرے صحابہ کی رائے پر عمل کیا اور آگے بڑھ کر احد کے مقام پر دشمن کی فوج کا مقابلہ کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔

جنگ کے بعد عبد اللہ بن ابی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پیغمبر نے ہماری رائے نہیں مانی اس لیے شکست ہوئی۔ اگر پیغمبر ہماری بات مان لیتے تو ہم اپنی بستی میں رہ کر مقابلہ کرتے اور ایسا نہ ہوتا کہ باہر احد کی وادی میں ہمارے نوجوان قتل کر دیے جائیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا کہ جو کچھ ہوتا ہے سب خدا کے حکم سے ہوتا ہے۔ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے اور تم پر موت لکھی ہوئی ہوتی تو جہاں تم تھے وہیں مارے جاتے :

قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ۖ يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِِمْ مَا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا ۗ قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ (3:154) ۔ یعنی، کہو، سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو وہ تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس معاملہ میں کچھ ہمارا بھی دخل ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔ کہو، اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا لکھ دیا گیا تھا، وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل پڑتے۔ میں مذکورہ ساتھی کی عزت کرتا ہوں اور دل سے ان کے اخلاص کا قائل ہوں۔ مگر میری سوچ میں اور ان کی سوچ میں بہت زیادہ فرق ہے۔

مرکز کی ایک عمارت کے واقعہ پر ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کو اس معاملہ میں شریک مشورہ کیا جاتا تو وہاں کی بلڈنگ کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ جب کہ میری سوچ یہ ہے کہ اس معاملہ میں مجھے اس لیے نقصان اٹھانا پڑا کہ مجھے علم غیب حاصل نہیں۔

ایک ہی اقعہ ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اس میں ایک شخص نے خدا کو پایا اور دوسرے شخص نے اپنے آپ کو۔

Printed page