Al-Risala · May 2025

2 جولائی 1986

Al-Risala, May 2025, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی تفسیر و حدیث سے کرنا بہت اچھی بات ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب ایک مفسر کسی آیت کے ذیل میں ایک حدیث نقل کر دے تو اس کا مطلب لازماً یہ ہو جائے گا کہ حدیث کے مطابق اس آیت کی تفسیر یہی ہے۔ کیونکہ ایسی حدیثیں بہت کم ہیں جو براہ راست طور پر کسی آیت کی

تفسیر میں آئی ہوں۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ مفسر اپنے خیال کے مطابق آیت کا ایک مفہوم سمجھتا ہے اور اس کے مطابق حدیثیں اس کے ذیل میں نقل کر دیتا ہے۔

مثلاً سورہ مزمل کی ایک آیت ہے: (اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا 73:5)- یعنی، ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ اس آیت میں قول ثقیل کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر نے وہ حدیثیں نقل کر دی ہیں جن کا تعلق نزول وحی کی کیفیت سے ہے۔ مثلاً صحیح البخاری کی دوسری حدیث کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن نازل ہوتا تو وہ آپ پر سخت بوجھ پڑتا۔ حتیٰ کہ سردی کے زمانہ میں بھی آپ کی پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگتا (وَلَقَدْ رَأَیْتُهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا) تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 406۔ نزول وحی کی یہ کیفیت بذات خود صحیح ہے اور وہ روایات سے ثابت ہے۔ مگر سورہ مزمل کی مذکورہ آیت کا تعلق اس سے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں قول ثقیل سے مراد وہ شہادت علی الناس کی ذمہ داری ہے جو اگلی سورہ (المدثر) میں ان الفاظ میں مذکور ہے: (قُمْ فَأَنْذِرْ 74:2)- یعنی، اٹھو اور لوگوں کو آگاہ کر۔ خدائی پیغام سے لوگوں کو آگاہ کرنا بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کو قول ثقیل سے تعبیر کیا گیا ہے۔

Printed page