3 جولائی 1986
Al-Risala, May 2025, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے اپنے ایک رشتہ دار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت بہادر ہیں۔ نے بتایا کہ ایک بار وہ پرانی دہلی کی کسی سڑک پر کھڑے تھے کہ ان کے پاس سے ایک سائیکل سوار اس کی سائیکل سے کیچڑ اڑ کر مذکورہ صاحب کے کپڑے پر آگیا۔ انھوں نے سائیکل والے کو روکا، ابھی وہ اس سے بات ہی کر رہے تھے کہ مذکورہ رشتہ دار نے "اس کو ایک ہاتھ لگا دیا"۔ مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ مذکورہ رشتہ دار صاحب اولاد نہیں ہوئے تھے۔ ان کی شادی ہوئی، اور بچے ہوئے، تو مذکورہ صاحب کے الفاظ میں، "اب ان کے بچوں نے ان کو بز دل بنا دیا۔ " بچوں کے بعد کا واقعہ ہے، محلہ کے ایک شخص نے مذکورہ رشتہ دار سے بدتمیزی کی۔
مگر وہ کچھ نہ بولے، بالکل خاموشی کے ساتھ اپنے گھر چلے گئے۔ ان کا یہ رویہ ان کے سابقہ رویہ کے سراسر خلاف تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس بدتمیزی کو تم نے کیسے برداشت کیا۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی خاطر۔ میرے بچوں نے مجھ کو برداشت کرنے پر مجبور کر میرے بچے گھر کے باہر سڑک پر نکلتے ہیں۔ میں ہر وقت ان کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ شخص محلہ ہی کا اس کا غصہ اگر بڑھ گیا تو وہ میرے بچوں کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ رشتہ دار بہت بہادر آدمی تھا۔ وہ کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔ وہ بات بات میں لڑ جاتا تھا۔ اس کی شادی ہوئی اور اس کے یہاں بچے پیدا ہو گئے تو بچوں کی محبت نے اس کا مزاج بدل دیا۔ مذکورہ رشتہ دار کے اندر یہ خوبی ممکنہ طور پر اس کے بچوں کو پہنچنے والے نقصان کے اندیشہ نے پیدا کی۔ یہ وہ خوبی ہے جو درد کی درس گاہ میں سکھائی جاتی ہے۔ اگر آپ کے اندر درد نہ ہو تو آپ اس معاملہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ ہمارے ملی قائدین صبر اور اعراض کی باتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر قوم کا درد نہیں ہے۔ اپنے بچوں کی خاطر ہر آدمی بزدل بنا ہوا ہے۔ کے بچوں کی خاطر کوئی شخص بزدل بننے کے لیے تیار نہیں۔