ایک سوال
Al-Risala, May 2025, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
أُكُفَّارُكُمْ خَيْرٌمِنْ أُوْلَئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ (54:43) - یعنی ، کیا تمہارے منکران لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لیے آسمانی کتابوں میں معافی لکھ دی گئی ہے۔ اس میں کس چیز کی براءۃ کی طرف اشارہ ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو)
قرآن کی اس آیت میں وقتی ریفرنس کے اعتبار سے قدیم مکہ کے قریش کو خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی گئی ہے۔ مگر ابدی اصول کے اعتبار سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی گروہ مستثنی گروہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہر ایک کا معاملہ یکساں ہے۔ یعنی ہر ایک کو ایک ہی معیار پر جانچا ہر ایک سے ایک ہی اصول کی روشنی میں معاملہ کیا جائے گا۔ نہ پیدائشی اعتبار سے کسی کا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے، اور نہ ایسا ہے کہ قرآن کے سوا جو دوسری آسمانی کتابیں اللہ نے اتاری ہیں، ان میں کسی گروہ کے بارے میں یہ اعلان ہے کہ ان کا کیس ایک مستثنیٰ کیس ہے۔ خدا کے مواخذہ کے قانون کے تحت ہیں، جس طرح دوسرے تمام لوگ ہیں۔