حوصلہ نہ ہارو
Al-Risala, January 2025, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک تعلیم یہ ہے کہ آدمی ایمان پر قائم رہنے کی کوشش میں بے حوصلہ نہ ہو، وہ سخت حالات میں ہمت نہ ہارے (وَلَا تَهِنُوا ) 3:139 ۔ یعنی ہمت نہ ہارو (do not lose heart)، ثابت قدمی دکھاؤ۔ قرآن کی یہ آیت مخصوص طور پر جہاد کے ذیل کی آیت نہیں ہے۔ بلکہ وہ با ایمان زندگی کی جدوجہد کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کی جدوجہد میں مومن پر جب وہ وقت آتا ہے، جب کہ ناموافق حالات کی بنا پر اس کے اندر بے حوصلگی آنے لگتی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اس کو فطرت کا جزء سمجھے، اور اپنے آپ کو مایوسی سے بچائے۔ ایسے موقع پر اپنے آپ کو پست ہمتی سے بچانا کیسے ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مومن پر جو حالات گزریں، وہ ہر حال میں اپنے آپ کو اس یقین پر قائم رکھے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اللہ کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ وہ یقین رکھے کہ اللہ حالات کو دیکھ رہا ہے۔ اور یہ کہ اللہ نے یہ سخت حالات دیے ہیں، وہی ان حالات سے مقابلے کی طاقت بھی دے گا، اور حالات کو بتدریج موافق کرے گا۔ بے حوصلگی کا معاملہ حالات کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ حالات ہر زمانے اور ہر جگہ پیش اس سے کسی کو استثنا (exception) نہیں۔ حتیٰ کہ پیغمبر کے لیے بھی نہیں۔ کے اندر اگر فطری ضعف ہے تو ایسے موقع پر اس کے لیے اللہ کی خصوصی مدد آئے گی۔ اس سلسلے کی ایک رہنما حدیثِ رسول یہ ہے: اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ اَلْمُؤْمِنِ الضَّعِيْفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ اِحْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجِزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کے مقابلے میں بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اور ہر ایک کے لیے خیر ہے۔ اُس چیز کی حرص کرو جو تمہیں نفع دے، اور اللہ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو۔ اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو، ”اگر میں ایسا کرنا تو ایسا ہوتا“۔ بلکہ یوں کہو، ”یہ اللہ کی تقدیر ہے اور جو اُس نے چاہا یقیناً ”اگر اور مگر“ شیطان کو کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔