صحابہ کی احتیاط
Al-Risala, July 2025, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ: إِنِّي لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُحَدِّثُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 107)۔ یعنی، عبداللہ بن زبیر نے اپنے باپ زبیر سے کہا، میں آپ کو نہیں سنتا کہ آپ رسول اللہ سے اس طرح بیان کرتے جیسا کہ فلاں اور فلاں بیان کرتے انھوں نے کہا: میں کبھی رسول اللہ سے جدا نہیں ہوا۔ لیکن میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا کہ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
اس حدیث میں جس چیز کی وعید آئی ہے وہ رسول اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ہے۔ آدمی اپنے علم کے مطابق سچی بات کورسول اللہ کی طرف منسوب کرے، اس کی اللہ کے ہاں کوئی پکڑ پکڑ اس انسان کے لیے ہے، جو بالقصْد خلاف واقعہ بات کورسول اللہ کی طرف منسوب کرے ۔ بالفرض اگر نقل روایت میں کوئی غلطی ہو جائے تو اس کی کوئی پکڑ اللہ کے پاس نہیں ہے۔ کیوں کہ پکڑ نیت پر ہے۔ اگر آدمی کی نیت درست ہے تو ضرور اس کو حق بات پھیلانا چاہیے۔
جن اصحاب نے ایسا کیا، بظاہر انھوں نے احتیاط کی بنا پر کیا۔ لیکن میرے نزدیک یہ اجتہادی خطا کا معاملہ ہے۔ اس لیے کہ ایک صحابی کے پاس رسول اللہ کی ایک بات ہے، اور اس نے اس کو قولِ رسول کی حیثیت سے نہیں بتایا، اور اسی حالت میں وہ دنیا سے چلے گئے۔ تو ان کا کیس اجتہادی خطا کا کیس کہلائے گا۔ کیوں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر تمام صحابہ کو واضح الفاظ میں یہ تلقین کی تھی: فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلِّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِع (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1741)۔ یعنی، تم میں سے جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچادے۔ ہو سکتا ہے کہ جن کو پہنچایا جا رہا ہو، وہ سننے والے سے زیادہ سمجھنے والا ہو۔