آئیڈیالوجی کی طاقت
Al-Risala, January 2025, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے کہا کہ ایک کلمہ یعنی لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لو ساری دنیا تمہاری ہو جائے گی۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: کَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُونِيهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ. قَالَ: فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: نَعَمْ وَأَبِيكَ، وَعَشْرَ كَلِمَاتٍ، قَالَ: تَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَتَخْلَعُونَ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 417)۔ یعنی ایک کلمہ جو تم قبول کرو گے، اس کے ذریعے تم عرب پر غلبہ حاصل کر لو گے، اور عجم تمہارے آگے جھک جائیں گے۔ ابو جہل نے کہا: ضرور، تیرے باپ کی قسم، اور دس کلمے۔ نے کہا: تم کہو: لا الہ الا اللہ، اور اللہ کے سوا جس کی عبادت کرتے ہو، اس کو چھوڑ دو۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا وَتَمْلِكُوا بِهَا الْعَرَبَ وَتَذِلُّ لَكُمْ الْعَجَمُ وَإِذَا آمَنْتُمْ كُنْتُمْ مُلُوكًا فِي الْجَنَّةِ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 1، یعنی اے لوگو، لا الہ الا اللہ کہو، تم کامیاب ہو جاؤ گے، اس کے ذریعے تم عرب پر غلبہ حاصل کر لو گے، اور عجم تمہارے آگے جھک جائیں گے، اور جب تم ایمان لاؤ گے تو تم جنت میں بادشاہ ہو گے۔ اسی طرح ایک حدیث میں مستقبل کی پیشین گوئی کے طور پر آیا ہے کہ اہل ایمان لا الہ الا اللہ کہیں گے، اور قلعہ کا دروازہ ٹوٹ جائے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2920)۔
اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ نظریاتی غلبہ ہے۔ اس کی مثال اسلام کی بعد کی تاریخ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی کوششوں سے عرب میں ایک فکری انقلاب جاری ہوا۔ موجودہ زمانے میں جس چیز کو ماڈرن سوئیلائزیشن کہا جاتا ہے، وہ اسی انقلابی عمل کی تکمیل ہے۔ اسی فکری انقلاب کا نتیجہ ہے کہ اب اکیسویں صدی میں "کفر" اپنی نظریاتی طاقت کھو چکا ہے۔ اور مسلمانوں کے سیاسی ایمپائر کے خاتمہ کے باوجود آج اسلام پوری دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب بنا ہوا ہے، اور اس کی اطاعت کرنے والے دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔