Al-Risala · July 2025

صحت فکر

Al-Risala, July 2025, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کنفیو زن کا ذکر کیا۔ کہا کہ یہ ایک بے حد اہم مسئلہ ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ 99 فیصد سے زیادہ لوگ کنفیوزڈ تھنکنگ (confused thinking) میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اس نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں جس کو رائٹ تھنکنگ (right thinking) کہا جاتا ہے۔

لوگوں کے اندر سب سے زیادہ کمی یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ صحیح طرزِ فکر کیا ہے اور غلط طرزِ فکر اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ عام طور پر لوگ شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ وہ اپنی غلط سوچ اور اپنے غلط عمل کی قیمت ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی سازش اور ظلم کی بنا پر ایسا ہو رہا اِسی بنا پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ جہاں چپ رہنا چاہیے، وہاں وہ بولتے ہیں۔ جہاں اقدام نہ کرنا چاہیے، وہاں وہ چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ جہاں ایڈجسٹ کرنا چاہیے، وہاں وہ لڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں سے دوستانہ تعلق قائم کرنا چاہیے، اُن کو وہ اپنا دشمن سمجھ کر اُن سے دور ہو جاتے وہ خود ساختہ طور پر دوسروں کو اپنا ’’غیر‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ اس دنیا میں ہر شخص اپنا ہے، کوئی بھی کسی کے لیے غیر نہیں۔ اِسی بنا پر لوگ صبر وتحمل کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، حالاں کہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے زیادہ کارگر فارمولا وہی ہے جس کو صبر وتحمل کہا جاتا ہے۔

رائٹ تھنکنگ دراصل سدا فکر (sound thinking) کا دوسرا نام ہے۔ انسان کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ آرٹ آف تھنکنگ میں مہارت حاصل کرے۔ اس کے بغیر اس کی پوری زندگی بے معنی ہوکر رہ جائے گی، فکری اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ انسانی سماج میں ہر قسم کے بگاڑ کا تعلق سوچ اصلاح کا راز یہ ہے کہ انسانی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔ انسانی سوچ کو بدلے بغیر کوئی بھی اصلاح ممکن نہیں۔ اس حقیقت کو آئنلکچول ایمپاورمینٹ (intellectual empowerment) کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یعنی لوگوں کو فکری طاقت دینا، اُن کے اندر معاملہ فہمی کی صلاحیت پیدا کرنا، ان کو

اس قابل بنانا کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو سمجھیں، وہ درست منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا

انسان کے اندر فکری اصلاح کا عمل (process) مسلسل اور درست انداز میں کیوں جاری اس کا سبب یہ ہے کہ انسان معلومات کے جنگل کے درمیان زندگی گزارتا ہیں۔ ہے کہ اس کے اندر وہ فکری استعداد موجود ہو جس کے ذریعے وہ متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے فرق کو جانے۔ وہ غیر متعلق باتوں کو چھوڑتے ہوئے متعلق باتوں پر اپنی نظر یہی وہ واحد آرٹ ہے جو انسان کے لیے صحت فکر کا ضامن ہے۔

Printed page