صبر کیا ہے
Al-Risala, July 2025, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر ابتدائی طور پر اس بات کا نام ہے کہ کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو آدمی آہ و پکار کرنے کے بجائے وہ تحمّل کا طریقہ اختیار کرے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ری ایکشن (reaction) سے بچائے۔ اور ناخوشگوار صورت حال کو اندر ہی اندر سہہ لے۔ صبر اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے پیس فل پلاننگ کا نام ہے۔ بے صبری یہ ہے کہ آدمی ری ایکشن کا طریقہ اختیار کرے، اور صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک ری ایکشن سے بچائے۔ خاموش انداز سے پرامن تدبیر کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔
صبر کا معاملہ اجتماعی زندگی میں جب بھی پیش آئے ، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ کیا جائے ، اور وقتی طور پر کوئی تکلیف پیش آئے تو اس کو برداشت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے آدمی معاملے پر غور وفکر کرے۔ پھر غیر جذباتی انداز میں خاموش پلاننگ کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اس طریقہ کار کی عملی مثال ہے۔ آپ کا زمانہ قبائلی دور (tribal age) تھا۔ اس زمانے میں لوگوں کو مسائل کا ایک ہی حل معلوم تھا۔ وہ تھا بذریعہ ”تلوار“ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنا۔ اس کے برعکس، پیغمبر اسلام نے ہمیشہ اختلافی معاملات میں تحمّل کا طریقہ اختیار کیا، اور پیس فل پلاننگ (خاموش منصوبہ بندی) کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش آپ کی پوری زندگی، خواہ مکی دور ہو یا مدنی دور، اسی دانش مندانہ طریقہ کار کی کامیاب مثال ہے۔ مثلاً صلح حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ نے آپ کو مشتعل (provoke) کرنے کا ہر ممکن طریقہ اختیار کیا تھا۔ مگر رسول اللہ نے مکمل طور پر اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے (48:26)۔ اس ناخوشگوار موقع پر آپ نے یک طرفہ طور پر صبر کا طریقہ اختیار کیا۔ چنانچہ اس کا نتیجہ فتح مبین کی شکل میں برآمد ہوا (الفتح، 48:1)۔
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمَّا بِغَمٍّ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ یعنی، جب تم لوگ بھاگے جا رہے تھے اور مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے، اور رسول تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہا تھا۔ پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تا کہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے چوک گئی اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔ اور اللہ باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
یہ آیت غزوہ احد (3ھ) سے تعلق رکھتی ہے۔ اہل ایمان کو اس جنگ میں غم کا شدید تجربہ ہوا۔ اس وقت یہ تعلیم دی گئی کہ جب تمہارے ساتھ غم کا واقعہ پیش آئے اور تم کو کسی چیز کے کھونے کا تجربہ ہو تو تم اس پر رنج اور افسوس نہ کرو۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ صبر کی تعلیم ہے۔ اس وقت پیغمبر موجود تھا، اور قرآن اتر رہا تھا، تو لفظی تعلیم کافی تھی، پھر غم کا واقعہ کیوں پیش آیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کھوئے جانے پر غم نہ کرنا، یہ کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ کھوئے جانے پر غم نہ کرنا، اس وقت ہوتا ہے، جب کہ آدمی پر ایسے سخت تجربات گزریں، جو اس کی کنڈیشننگ کو توڑ کر اس کے اندر ڈی کنڈیشنڈ ذہن (deconditioned mind) پیدا کردیں۔ کنڈیشننگ سے خالی آدمی ہی یہ کر سکتا ہے کہ اس کو مادی قسم کا صدمہ پیش آئے، لیکن وہ غیر متاثر سوچ پر قائم رہے۔ یہ صفت ایک تربیت یافتہ ذہن کا ظاہرہ ہے، اور تربیت یافتہ ذہن صرف تجربات کے کورس سے گزرنے کے بعد تیار ہوتا ہے۔ غم کے واقعہ پر حزن اور مایوسی کا پیدا نہ ہونا ایک تربیت یافتہ انسان کی خصوصیت ہے۔ اگر اس بات کی صرف لفظی تعلیم دی جائے تو تربیت کا فائدہ حاصل نہیں ہوگا، اس لیے انسان کو صدمہ (shock) کے کورس سے گزارا جاتا ہے، تا کہ اس کی ڈی کنڈیشننگ ہو، اور نفسیاتی اعتبار سے وہ اعلی صفت کا حامل بن سکے۔