Al-Risala · July 2025

شکر کا ایک آئٹم

Al-Risala, July 2025, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً 13.8 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang) کے ذریعہ موجودہ دنیا کی تاریخ کا آغاز ہوا۔ یہ ستاروں اور کہکشاؤں سے بھری ہوئی ایک وسیع کائنات اس کائنات میں ملکی وے (Milky Way) کے اندر وہ دنیا تھی، جس کو ہم شمسی نظام (solar system) کے نام سے جانتے ہیں۔ اسی شمسی نظام کے ایک سیارہ پلانیٹ ارتھ پر انسان یہ ایک پوری طرح کسٹم میڈ ورلڈ ہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ انسان اس زمین پر بہ سہولت آباد ہو، اور یہاں آزادی کے ساتھ اپنی ایک تہذیب (civilization) بنائے۔ اس قسم کی معلومات انسان کو سائنسی دور سے پہلے نہیں تھی ۔ دوربین، خوردبین اور دوسری ایجادات نے انسان کو وہاں تک پہنچادیا، جہاں انسان اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا۔ پہلے تو انسان اللہ رب العالمین کو مانتا تھا، لیکن اس کا یہ علم مبنی بر حقائق نہیں تھا، بلکہ مبنی بر عقیدہ تھا۔ یہ اللہ کا انسان کے اوپر بہت بڑا احسان ہے کہ اس کو اللہ نے ریاضیاتی حساب کتاب (mathematical calculation) کی صلاحیت دی۔ اللہ نے آج کے انسان کو یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ موجودات کو وہاں تک دیکھے، جہاں تک اس سے پہلے انسان نے کبھی دیکھا نہیں تھا۔ اس کی پہنچ عالم کبیر (macro world) سے لے کر عالم صغیر (micro world) تک ہو گئی۔ طرح یہ ممکن ہو گیا کہ انسان اللہ کی ذات پر مزید گہرائی کے ساتھ یقین کر سکے۔ انسان بہت زیادہ شکر کی

قرآن میں پیغمبر موسیٰ کی ایک دعا بیان کی گئی ہے۔ اس دعا کا ایک جزء یہ ہے: کَیۡ نُسَبِّحۡکَ کَثِیۡرًا ٭ۙ وَّ نَذۡکُرُکَ کَثِیۡرًا تاکہ ہم دونوں کثرت سے تیری پاکی بیان کریں ۔ کثرت سے تیرا چرچا کریں ۔ موجودہ دور میں سائنسی انکشافات کے ذریعہ ظاہر ہونے والی خدائی نشانیاں اس دعا کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ممکن بنا رہی ہیں۔ یہ بلاشبہ انسان کے اوپر اللہ کا بہت بڑا انعام ہے۔

فخر کی خوراک بیسویں صدی کے ایک مشہور مسلم شاعر کا شعر ہے:

اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے اس شعر کے پہلے مصرعے میں جو بات کہی گئی ہے، اس کا تقاضہ تھا کہ شاعر یہ کہتا کہ اب دنیا کے حالات بدل گئے ہیں۔ اب تم ان تبدیلیوں سے باخبر ہو جاؤ، اور اپنے عمل کی منصوبہ بندی نئے دور کے مطابق کرو۔ ورنہ تم آج کی دنیا میں بے جگہ (misfit) ہو جاؤ گے۔ مگر شاعر نے اس کے برعکس ایک ایسی بات کہہ دی جس سے مسلمانوں کو صرف فرضی فخر (false pride) کی خوراک ملے گی۔ کسی قوم کے لیے فرضی فخر سے زیادہ تباہ کن کوئی دوسری چیز نہیں۔

بیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس آیا اور آزادی کا ماحول قائم ہوا۔ ان حالات میں مسلمانوں کے اندر اسلام کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ ان تمام تحریکوں کا مشترک پہلو یہ تھا کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی اعتبار سے مسلمانوں کو فخر کی غذا دی۔ ہمارا دین سب سے افضل، ہمارا نبی سب سے افضل، ہمارا قرآن سب سے افضل، ہماری امت سب سے افضل، ہماری تاریخ سب سے افضل، ہمارا کلچر سب سے افضل، وغیرہ۔ یہی بیسویں صدی کی تمام مسلم تحریکوں کا مشترک خلاصہ تھا۔ رہنما اور سیکولر رہنما دونوں یکساں طور پر اس میں شریک تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری مسلم امت، عرب سے عجم تک، فخر پسندی کے ذہن میں مبتلا ہوگئی۔

فخر کوئی سادہ بات نہیں۔ فخر سے برتری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اور برتری سے کبر (arrogance) کا مزاج، اور کبر تمام اعلیٰ انسانی اوصاف کا قاتل ہے۔ کبر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر دوسروں کے لیے خیر خواهی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کبر سے تعلم (learning) کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ کبر سے ایڈجسٹمنٹ کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ کبر سے حقیقت پسندی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے، وغیرہ۔ کبر ہر قسم کی مثبت صفات کا قاتل ہے۔ اور جس فرد یا قوم کے اندر مثبت صفات نہ ہوں وہ دنیا کے اعتبار سے بھی ناکام ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی ناکام۔

Printed page