احساسِ گناہ
Al-Risala, January 2025, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہا نے گناہ کو گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ میں تقسیم کیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ گناہ کی نوعیت احساسِ گناہ کی نسبت سے مقرر ہوتی ہے۔ جتنی بے حسی اتنا ہی بڑا گناہ۔ اس حقیقت کو تین اصحابِ رسول انس بن مالک، ابوسعید الخدری، اور عبادہ بن القرط نے روایت کیا ہے: اِنَّكُمْ تَعْمَلُونَ اَعْمَالًا هِيَ اَدَقُّ فِيْ اَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، اِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوْبِقَاتِ (مسند احمد، احادیث نمبر، 12604، 10995، 20751)۔ یعنی بے شک تم کچھ برے کام کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، حالانکہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کو ہلاکت میں ڈال دینے والے گناہوں میں شمار کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ احساس کی نوعیت اصل چیز ہے، جو گناہ کو کبیرہ یا صغیرہ بناتی ہے۔ احساسِ خطا کی کمی یا زیادتی ایک گناہ کو گناہ صغیرہ یا گناہ کبیرہ بنا دیتی ہے۔ احساس کی شدت سے شعور کی گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے اس کا تعلق معرفت سے ہے۔ جس درجے کی معرفت، اسی درجے کا احساسِ خطا۔ اس روایت میں دراصل ایسے آدمی کی حالت بیان کی گئی ہے جس سے بشری تقاضے کے تحت کوئی غلطی سرزد ہو جائے، مگر اس کے بعد وہ غفلت یا سرکشی کا طریقہ اختیار نہ کرے، بلکہ وہ شدید قسم کی توبہ وانابت کا ثبوت دے۔ وہ صبح و شام اللہ کی پکڑ سے ڈرتا رہے ۔ انسان ہے جس کو قیامت میں اللہ کی خصوصی رحمت و مغفرت حاصل ہوگی۔
اس کے برعکس، کچھ لوگ وہ ہیں، جن کا ذکر صحابی رسول ابو ایوب انصاری نے ان الفاظ میں کیا ہے: اِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْحَسَنَةَ، يَتَّكِلُ عَلَيْهَا، وَيَعْمَلُ الْمُحَقَّرَاتِ حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهَ وَقَدْ اَخْطَرَتْهُ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ السَّيِّئَةَ فَيَفْرَقُ مِنْهَا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهَ آمِنًا (شعب الایمان للبیہقی، اثر یعنی بیشک ایک آدمی نیک کام کرتا ہے، اور اس پر وہ پر اعتماد ہوتا ہے، مگر وہ چھوٹے چھوٹے گناہ کرتا رہتا ہے، چنانچہ وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ گناہ اس کے لیے سنگین مسئلہ بن کر موجود ہوں گے۔ (اس کے برعکس) ایک اور آدمی ہے، جو گناہ تو کرتا ہے، مگر برابر وہ اس سے خائف
رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ سے مامون ہو کر ملے گا۔
بھوپال کے ایک بزرگ تھے شاہ یعقوب مجددی (وفات 1970)۔ ان کی مجلس میں ایک صاحب آیا کرتے تھے، جو داڑھی نہیں رکھتے تھے۔ شاہ صاحب ان کو بار بار تاکید کرتے رہتے تھے۔ اس شخص نے کہا کہ حضرت اگر میں داڑھی نہیں رکھتا تو کیا ہوا، داڑھی اسلام میں فرض تو نہیں، صرف سنت ہی تو ہے۔ یہ سن کر شاہ یعقوب صاحب نے کہا کہ داڑھی بلاشبہ سنت ہے، لیکن تمہار الہجہ کفر ہے۔ ان کی بات کا مطلپ یہ ہے کہ بے عملی گناہ ہے۔ مگر سرکشی اس سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔ بے عملی کے ساتھ اگر شرمندگی ہو تو شاید اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو معاف کر دے۔ مگر جو شخص بے عملی کے ساتھ سرکشی دکھا رہا ہو وہ قابل معافی نہیں ۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں اصل اہمیت شدت احساس کی ہے، نہ کہ ظاہری عمل کی۔