Al-Risala · July 2025

شادی شدہ زندگی

Al-Risala, July 2025, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

نکاح نام ہے، غیر آئیڈیل زوج (spouse) کو رضامندی کے ساتھ قبول کرنے کا۔ بالفرض اگر آپ کو اپنی پسند کا زوج مل جائے، تب بھی وہ آپ کے لیے کسی اعلیٰ دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس نہیں بنے گا۔ آپ دونوں مل کر ہوہا (hu ha) کریں گے، یعنی ہنسی مذاق۔ نہ آپ کچھ سیکھیں گے، اور نہ آپ کا زوج کچھ سیکھے گا۔ نہ آپ کے دل سے کوئی بڑی دعا نکلے گی، اور نہ آپ کے زوج کے دل سے کوئی بڑی دعا نکلے گی۔

اس کے برعکس، جب آپ یہ جانیں کہ دنیا میں اللہ نے کسی کے لیے پسندیدہ زوج پیدا ہی نہیں یہ دنیا محدودیت (limitation) کے اصول پر مبنی ہے۔ مثلاً یہاں ہر دو انسان کے درمیان اختلافات (differences) ہیں، اور رہیں گے۔ اس لیے شادی شدہ زندگی نام ہے اختلاف کے باوجود کسی کو اپنا ساتھی بنانے کا، غیر آئیڈیل ہونے کے باوجود کسی کو پسند کرنا۔ اکثر لوگ فطرت کے اس راز کو نہیں جانتے۔ اس لیے وہ پسندیدہ زوج کی تلاش میں رہتے ہیں، اور فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں کسی کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند کا زوج حاصل کرلے، ہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی کمی یقیناً رہے گی۔

فطرت کے نظام کے مطابق، جب آپ ناپسندیدہ زوج سے نکاح کریں، تو وہ آپ کی دعا کے لیے ایک اعلیٰ درجے کا پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گا۔ آپ کہیں گے کہ خدایا دنیا کی زندگی سماجی تعلقات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دنیا میں میں نے فطرت کے نظام کے مطابق، ایک زوج کو اپنے لیے قبول کر لیا۔ اب میری دعا ہے کہ تو آخرت میں میرے ساتھ پیغمبر کی دعا کے مطابق وہ معاملہ کر جو قرآن میں ان الفاظ میں مذکور ہے: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرُ (28:24)۔ میرے رب، تو جو چیز میری طرف خیر میں سے اتارے، میں اس کا محتاج ہوں۔

جس انسان کے لیے اس کی شادی اس قسم کی دعا کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے، اسی کی شادی ،شادی ہے۔ اس کے علاوہ شادی کی جو قسمیں ہیں، ایسی شادی اپنی نوعیت کے اعتبار سے حیوانی تعلقات کا معاملہ ہے، یعنی حیوان کی طرح زندگی گزارنا، اور اس دنیا سے اپنا مقصد حیات جانے بغیر چلے جانا۔

دنیا کی شادی آخرت کی حسن رفاقت کے لیے تربیت کا اہم ذریعہ ہے۔ شادی کا معاملہ ابدی رفاقت کا معاملہ ہے۔ اس کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنت کی دائمی رفاقت کے لیے تربیت یافتہ مردو عورت تیار کیے جائیں۔ گویا دنیا کی زندگی آخرت کی شادی شدہ زندگی کے لیے تربیت گاہ ہے۔ شادی شدہ زندگی کا اصل معیار یہ ہے کہ آپ ایسے انسان بن جائیں جو آخرت کے تقاضوں پر پورا جو شادی آخرت کی زندگی کے لیے تربیتی حیثیت اختیار کر لے، وہی درحقیقت کامیاب شادی اور جس شادی میں یہ مقصد حاصل نہ ہو، وہ شادی کامیاب نہیں کہی جاسکتی ہے۔ دنیا کی شادی محض لذت یا عیش کے لیے نہیں، بلکہ وہ تربیت کے لیے ہے۔

Printed page