He was the only man in history who was supremely
Al-Risala, July 2025, pp. 28–29
By Maulana Wahiduddin Khan
successful on both the religious and secular levels. یعنی وہ تاریخ میں واحد انسان ہیں، جو دنیوی اور مذہبی دونوں اعتبار سے بہت زیادہ کامیاب ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے یہ تو لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام انسانی تاریخ کے سب سے کامیاب انسان تھے، مگر انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس عظیم کامیابی کا راز کیا تھا۔ برٹش رائٹر ای ای کلیٹ (E E Kellett) جس کی پیدائش 1864 میں ہوئی اور وفات 1950 اس نے پیغمبر اسلام کی عظیم کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے مصائب کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑا: He faced adversity with the determination to ring succes out of failure. مگر ان الفاظ سے متعین طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ پیغمبر اسلام کی کامیابی کا راز کیا تھا۔ الحروف نے اس اعتبار سے سیرت کا مطالعہ کیا ہے۔ میری دریافت کے مطابق، اس کا راز یہ تھا کہ آپ پر ہر قسم کی مشکلات پیش آئیں۔ لیکن آپ نے کبھی رد عمل کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ کا طریقہ صرف ایک تھا۔ رد عمل کے بجائے نتیجہ رخی پلاننگ۔
پیغمبر اسلام کو اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں بار بار فریق ثانی کی طرف سے ظلم اور مخالفت کا سامنا پیش آیا۔ لیکن آپ نے کبھی رد عمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے ہر موقع پر، ظلم اور مخالفت کے باوجود، منفی رد عمل کے بجائے حکمت پر مبنی منصوبہ بندی کی۔ آپ نے کبھی بھی ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ ہر حال میں مثبت انداز اپنایا۔
مثلاً قدیم مکہ کے لوگوں نے آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا۔ آپ نے اس کو ٹکراؤ کا ایشو نہیں بلکہ ٹکراؤ سے ہٹ کر از سر نو اپنے عمل کی مثبت منصوبہ بندی کی۔ اسی طرح فریق ثانی نے احد کی جنگ چھیڑی ۔ اس میں آپ کے ساتھی تقریباً ستر کی تعداد میں قتل کر دیے گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے جوابی طور پر کوئی جنگی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ حالات کو پر امن طور پر پنج کرتے ہوئے فریق ثانی سے حدیبیہ کے مقام پر امن کا دس سالہ معاہدہ کر لیا، وغیرہ۔ یہی پالیسی آپ کی پوری زندگی
پیغمبر اسلام کا مشن ایک پر امن مشن تھا۔ وہ انسان کی خیر خواہی پر مبنی تھا۔ یعنی لوگوں کو اللہ کی رحمت اور جنت کے راستے سے باخبر کرنا۔ اس پر امن مشن میں لوگوں سے نفرت اور تشدد کرنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ چنانچہ آپ نے ایک با اصول انسان کی حیثیت سے یہ کیا کہ ہر صورت حال کا مثبت جواب (positive response) دیا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا ۔ ظلم کے بدلے میں معافی ،تشدد کے جواب میں امن، دشمنی کے جواب میں معتدل تعلقات۔ یہی طریقہ آپ کے مشن کے شایان شان تھا، اور اسی طریقے نے آپ کو تاریخ کی عظیم کامیابی عطا کی۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم امت مسلمہ کے لیے نمونہ ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کو بھی اپنے معاملے میں اسی نمونے کو اختیار کرنا چاہیے۔ یہی کامیابی کا کوئی اور طریقہ کامیابی کا طریقہ نہیں۔ اس طریقے میں کامیابی کا راز اس لیے ہے کہ یہی طریقہ فطرت کے مطابق ہے، اور جو طریقہ فطرت کے مطابق ہو، اس دنیا میں کامیابی اسی طریقے کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے۔ اس دنیا میں کوئی دوسرا طریقہ کامیابی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔