خیر کا راستہ
Al-Risala, July 2025, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيْمَانَ كُلَّهُ، حَتَّى يَتْرُكَ ... المِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا (مسند احمد، حدیث نمبر 8766)۔ ایک انسان مکمل ایمان کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، یہاں تک کہ وہ بیجا تکرار کو ترک کر دے اگرچہ وہ سچائی پر ہو۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَنَا زَعِيْمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4800)۔ یعنی، میں اس آدمی کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت لیتا ہوں جو بیجا بحث کو ترک کر دے اگرچہ وہ حق پر ہو۔
غور سے دیکھا جائے تو یہی وہ طرز عمل ہے جو انسانی سماج کو ایک پُرامن سماج بناتا ہے۔ "جنت کے اطراف میں ایک گھر "سے مراد ممکنہ طور پر اسی قسم کا گھر ہو سکتا ہے، جس کا تصور آج کے دور میں فارم ہاؤس وغیرہ کی شکل میں کیا جاتا ہے۔
یعنی ایک انسان اگر حق پر رہتے ہوئے بھی اپنے ایگو (ego) کو کنٹرول کر کے جھگڑے کے موقع پر خاموشی کا طریقہ اختیار کرلے تو اس کو جنتی گھر ملنے کے علاوہ ایک اور گھر بھی ملے گا، یہ گھر صرف اس جنتی کے اعزاز و اکرام میں اضافہ کے لیے ہوگا ، نہ کہ دنیا کی مانند ریگولر گھر میں بورڈم (boredom) کا شکار ہونے کے بعد ریلیکس (relax) ہونے کے لیے۔
ان دونوں حدیثوں میں بحث و تکرار کو ڈسکرج (discourage) کرنے سے مراد وہ بحث اور تکرار ہے جو منفی یا بے نتیجہ بحث ہو۔ موجودہ دور میں ایسے علما اور مقررین کی کثرت ہو گئی ہے جو اپنی تحریر اور تقریر سے سماج میں نفرت پیدا کرتے ہیں۔ ان کی باتوں سے عام لوگ اسلام کے بارے میں کنفیوزن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آپس میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے مثلاً مناظرہ بازی، یا کفر و ضلالت کا حکم لگانا، یا حق کے نام پر دو یا زیادہ عالموں کا بذریعہ دلائل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش سوشل میڈیا سے پہلے اس کا نمونہ عام طور پر مناظرہ کے اسٹیجوں پر دیکھنے کو ملتا تھا، یا آج کل اس کا نمونہ عام طور پر جلسوں میں دیکھنے کو ملتا ہے یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر۔ یہ تمام کام بظاہر دین کے نام پر کیے جاتے ہیں، مگر وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے عام لوگوں کے لیے دین سے دوری کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بھی رسول کو اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ انسانوں کو خدا کے دین کے تعلق سے کنفیوزن میں مبتلا کرے، یا ان کا کوئی عمل خدا کے دین کی بدنامی کا ذریعہ بن جائے۔ اس لیے موجودہ دور میں جاری اس قسم کی کج بحثیاں ابلیس کو خوش کرنے کا ذریعہ تو بن سکتی ہیں، مگر وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل نہیں ہو سکتیں۔ انبیا کا وارث ہونے کی حیثیت سے ایک عالم دین کو کیسا ہونا چاہیے، وہ قرآن کی ایک آیت اور اس کی تفسیر سے سمجھا جاسکتا ہے۔ قرآن میں ہے: ﴿وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ﴾ (31: یعنی، حضرت عیسیٰ نے کہا کہ میں جہاں کہیں بھی رہوں اللہ تعالیٰ نے مجھ کو برکت والا بنایا ہے ۔ مجاہد تابعی نے بابرکت کی تشریح خیر کا معلم (مُعَلِّمًا لِلْخَيْرِ) سے کی ہے (العلم لابی خیثمہ زُہیر بن انطباقی معنی (applied meaning) کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی عالم دین وہ ہے جو سماج میں خیر اور بھائی چارہ اور امید اور یقین کا داعی بن کر رہے، نہ کہ شر اور نفرت اور شک اور کنفیوزن کا تاجر بن کر۔ (مولانا فرہاد احمد)