Al-Risala · January 2025

دعا کی حقیقت

Al-Risala, January 2025, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دعا زبان سے کچھ متعین الفاظ کی تکرار کا نام ہے۔ یعنی کچھ پر اسرار نوعیت کے مقرر الفاظ ہیں، ان کو اگر صحیح تلفظ کے ساتھ انسان دہرالے تو ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ دعا اسپرٹ کا نام ہے، جو دل کی گہرائیوں کے ساتھ بندے کی زبان سے نکلتی ہے۔ دعا کی حقیقت یہ ہے کہ یہ رب العالمین کے سامنے اپنے عجز کو رجسٹر کرنا ہے، نہ کہ رب کے سامنے چندرٹے ہوئے الفاظ لب سروس کے طور پر دہرا کر اپنی حاجت کو مانگنا۔ جب ایک بندہ اپنی حالت احتياج کو دريافت کرتا ہے، تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ دعا یہ ہے کہ انسان کا داخلی احساس لفظوں میں ڈھل جائے۔ خدا کے مقابلے میں بے بسی کی دریافت انسان کے لیے اس کے پورے وجود کی زبان دراصل یہی اسپرٹ ہے، جو کسی دعا کو مقبول دعا بناتی ہے۔ دعا کے الفاظ دعا کرنے والے انسان کی قلبی کیفیت کو بتاتے ہیں، وہ محض زبان سے کچھ کلمات کی ادائیگی کا مظاہرہ نہیں ہیں۔

Printed page