Al-Risala · July 2025

ڈائری 1986

Al-Risala, July 2025, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

جناب سکندر بخت صاحب (پیدائش 1918ء) تشریف لائے۔ مسلمانوں میں وہ عام طور پر مگر گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ان کے اندر مسلم ملت کا درد ہے اور وہ مسلمانوں کی خدمت کرنا (2004 میں ان کا انتقال ہو گیا)

سکندر بخت صاحب نوجوانی کی عمر سے سیاست میں رہے ہیں۔ انہوں نے مسٹر محمد علی جناح (1876-1948) کا ایک واقعہ بتایا جن کو مسلمانوں نے قائد اعظم بنایا تھا۔ کسی مقام پر مسلم لیگ کا مسٹر جناح وہاں تقریر کرنے کے لیے گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ مسلم عوام کافی تعداد میں جمع ہیں، مگر اخبار کے نمائندے نظر نہیں آئے۔ مسٹر جناح نے اجتماع کے منتظمین سے کہا: Where are the pressmen? Do you think I came here to اخباری نمائندے کہاں ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں ان بے وقوفوں کو خطاب کرنے کے لیے یہاں آیا ہوں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مسٹر جناح مسلمانوں کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود مسٹر جناح کو مسلمانوں میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی ۔ اور وہ یہ کہ انہوں نے مسلمانوں کو وہ سیاسی خوراک دی جو اس ملک کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ مرغوب ہے، یعنی قومی فخر اور اینٹی نان مسلم جذبات کو فیڈ کرنا۔

Printed page