7 جولائی 1986
Al-Risala, July 2025, pp. 40–43
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہ کی مشہور کتاب ہے جس کا نام شامی (یا فتاویٰ شامیہ) ہے۔ یہ علامہ ابن عابدین شامی کی طرف منسوب ہے۔ شامی کا اصل نام "رد المحتار علی الدر المختار" ہے۔ رد المحتار حاشیہ ہے در مختار کا اور درمختار شرح ہے تنویر الابصار کی۔
یعنی تنویر الابصار متن، در مختار شرح اور رد المحتار حاشیہ در مختار کا۔
تنویر الابصار کے مصنف کا نام محمد بن عبداللہ تمَر تاشی (1004-939ھ) ہے۔ در مختار کے مصنف کا نام محمد بن علی حصکفی (1088-1025ھ) ہے اور ردالمختار کے مصنف محمد امین بن سید شریف عمر (علامہ ابن عابدین شامی، 1252-1198ھ) ہیں۔
بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں ایک عجیب علمی رواج پیدا ہوا، جس کو شرح کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی کتاب کی شرح اور پھر اس شرح کی شرح۔ اس طریق تصنیف کا دو واضح نقصان ہے۔ ایک یہ کہ بعض کتابوں کا متن، اگر عقیدہ نہیں تو عملاً مقدس قرار دیا گیا۔ ان متون کے متعلق شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیا گیا کہ ان میں جو کچھ درج ہے، وہ بہر حال مستند ہے۔ اب ہمیں جو کچھ کرنا ہے وہ صرف یہ کہ اس کو پڑھ کر اس کی شرح کریں۔
اس کا دوسرا نقصان ذہنی جمود کی شکل میں امت کو ملا۔ تخلیقی فکر (original thinking) ختم صرف تقلیدی فکر علمی دنیا میں باقی رہ گئی۔
عین اس زمانہ میں جب کہ مغربی دنیا اپنی تحقیقی فکر کے ذریعہ سے عالمی سیادت حاصل کر رہی تھی، مسلمان اپنی تقلیدی فکر کے نتیجہ میں پستی میں پڑے رہے۔ اور صدیوں کے لیے انسانی قافلہ سے پیچھے ہو گئے۔ 8 جولائی 1986 ایک مسلمان صنعت کار ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ میں ان کو پچھلے چالیس سال سے جانتا انہوں نے 1945 میں اتر پردیش میں ایک معمولی کام سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ کا کام تھا، جس کے تنہا مزدور وہ خود تھے۔ ان کی اس دستکاری کے 99 فیصد خریدار ہندو تھے۔ اس دوران ان کی ترقی ہوتی رہی۔ وہ پہلے پیدل چلتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اس کے بعد انہوں نے شہر میں ایک ذاتی مکان بنایا، جس کے سامنے ایک جیپ کھڑی ہوئی نظر آنے لگی۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب کہ وہ کاروں کے ایک دستہ کے مالک ہو اب وہ ایک لمیٹڈ کمپنی کے چیئر مین ہیں۔ وہ ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ مجھ سے ملنے کے لیے وہ نئی مرسڈیز کار میں تشریف لائے تھے۔
ان کی یہ ترقیاں بلاشبہ میرے لیے خوشی کا باعث ہیں۔ مگر میں یہاں ان کے ایک تضاد کا ذکر کرنا
چاہتا ہوں ۔ ان کا کاروبار زیادہ تر حکومت کے محکموں سے ہے ۔ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ان کے سرکاری ٹھیکے چل رہے ہیں ۔ اس طرح ان کا کاروباری تعلق جن لوگوں سے ہے ان میں 99 فیصد ہندو ہوتے ہیں ۔ ان ہندوؤں سے وہ بہترین تعلقات بنائے ہوئے ہیں ۔ ان سے میٹھی گفتگو کرنا ، ان کو تحفے دینا ، ان کی ضرورتوں میں کام آنا ، ان کو خوش کرنے کا ہر طرح سے جتن کرنا ، وغیرہ ۔ طرف ان کا یہ حال ہے کہ جب بھی مجھ سے ملتے ہیں تو کسی نہ کسی بہانے ہندو قوم اور ہندو حکومت کی برائی کرتے ہیں ۔ اپنے معاملہ دار ہندوؤں کے لیے وہ تالیف قلب کے اصول پر عامل ہیں ۔ دوسرے ہندوؤں کے لیے وہ پوری طرح مسلم قوم پرست بنے ہوئے ہیں ۔ یہی ہندوستان کے تقریباً تمام مسلمانوں کا طریقہ ہے ۔ اس ملک کا ہر مسلمان ، خواہ وہ اصاغر میں سے ہو یا اکابر میں سے ، ڈبل اسٹینڈرڈ کا کیس بنا ہوا ہے ۔ وہ اپنے صاحب معاملہ ہندو کے لیے کچھ اور ہے اور دوسرے ہندوؤں کے لیے کچھ اور ۔
کیسے عجیب ہیں وہ مسلمان جن کو خود اپنی زندگی کے تجربے سے سبق نہیں ملتا ۔ 9 جولائی 1986 7 جولائی 1986 کے تمام اخبارات کی شاہ سرخی صرف ایک تھی: ”جگ جیون رام کا انتقال ہوگیا“ جگ جیون رام (1986-1908) ڈاکٹر امبیڈکر کے بعد دوسرے سب سے بڑے ہریجن ان کو جدید ہندوستان میں عظیم ترین سیاست دانوں کی فہرست میں جگہ ملی۔ مگر جنتا حکومت کے بعد جب ان کا زوال ہوا تو پھر وہ دوبارہ اٹھ نہ سکے۔ دہلی کے ایک انگریزی اخبار نے ان کی موت پر اپنے اداریہ میں لکھا:
In the death of Jagjiwan Ram the country lost one of the last leading representatives of the pre-independnce era. Babuji had a messianic sense of mission wich he shared with our greats like Nehru and Mrs. Gandhi. But the great reaper precluded his return to glory. (The Hindustan Times, July 8, 1986)
جگ جیون رام کی موت نے ملک کو قبل از آزادی دور کے بڑے نمائندوں میں سے ایک سے محروم کر دیا۔ بابو جی (جگ جیون رام مقصد کا ایک مسیحائی شعور رکھتے تھے۔ وہ نہرو اور مسز گاندھی جیسی بڑی شخصیتوں کے رفیق رہے۔ مگر موت ان کے لیے مانع بن گئی کہ وہ دوبارہ اپنی عظمت کی طرف واپس ہو سکیں ۔
اخبار کے ایڈیٹر کی نظر میں بظاہر صرف "جگ جیون رام" جیسے لوگ ہیں، جن کے لیے موت ان کی آخری عظمت تک پہنچنے میں رکاوٹ بن گئی۔ لیکن ایڈیٹر اگر موت کے اس پار تک دیکھ سکتا تو اس کو نظر آتا کہ بہت سے وہ دوسرے لوگ بھی اپنی آخری عظمت سے یکسر محروم ہیں، جن کا نام اخبار کے ایڈیٹر نے عظمت کی چوٹی تک پہنچنے والے انسانوں کی فہرست میں نمایاں طور پر لکھ رکھا ہے۔ ایک عرب ڈپلومیٹ ہندوستان سے واپس جانے لگے تو روانگی سے ایک دن پہلے وہ ہمارے دفتر میں آئے۔ ان کے ساتھ ان کی بڑی گاڑی میں بہت سی کتابیں بھی لدی ہوئی تھیں۔ کہا کہ یہ میری ذاتی لائبریری کی کتابیں ہیں ۔ دہلی کے زمانہ قیام میں، میں نے ان کو اپنی رہائش گاہ پر جمع کیا تھا۔ اب ہندوستان چھوڑتے ہوئے میں ان کتابوں کو اسلامی مرکز کے کتب خانے کے حوالے کر رہا ہوں۔
یہ کتابیں سب کی سب دو زبانوں میں تھیں، عربی اور انگریزی۔ ایک کتاب گاندھی جی کی مشہور سوانح عمری تھی: