ذنوب کی معافی
Al-Risala, January 2025, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفُرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
قرآن کی یہ آیت ایک انوکھی آیت ہے۔ اس آیت میں جميع ذنوب (تمام گناہوں) کی معافی کا لیکن قرآن کے عام اسلوب کے برعکس، اس آیت میں یہ بات نہیں ہے کہ اگر تم نے اپنے گناہوں کی توبہ کی، اللہ سے مغفرت کے طالب بنے تو تمھارے لیے معافی ہے۔ یہ شرط جو عام طور پر قرآن کی آیتوں میں ہوتا ہے، وہ یہاں مذکور نہیں ہے۔ اس کے برعکس، یہاں بتایا گیا ہے کہ اگر تمھارے اندر اللہ کی رحمت پر کامل درجے میں یقین پایا جائے تو یہ چیز اپنے آپ تمھارے تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جائے گی۔ گو یا اس آیت میں بندے کو اس بات کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت پر کامل یقین رکھے، وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اگر بندے کی طرف سے ایسا ہواتو اس آیت میں بندے کے لیے یہ بشارت ہے کہ اس کے جميع ذنوب اللہ کی رحمت سے معاف کر دیے جائیں گے، اور اس کو جنت میں داخلہ مل جائے گا۔
آیت کا اسلوب بتاتا ہے کہ معرفت اگر اعلیٰ درجے کی ہو اور اللہ کی رحمت پر جب کامل یقین پایا جائے تو یہ بات بذات خود انسان کے لیے مغفرت کی سفارش بن جائے گی۔ انسان جب اپنے عجز اور اپنی عبدیت کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے تو اس سے وہ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں خوف اور امید کہا گیا ہے (21:90)۔ ایمان کی یہ دونوں صفات دراصل معرفت کے نتیجے میں پیدا معرفت جتنی اعلیٰ درجے کی ہوگی، اتنی ہی اعلیٰ درجے کی صفات آدمی کے اندر پیدا ہوں گی، وہ داخلی شعور کا ایک خارجی اظہار ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن کی اس آیت میں تمام گناہوں سے بلاشرط معافی کا اعلان ہے۔