12 جولائی 1986
Al-Risala, July 2025, pp. 45–46
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکن رائٹر امبروز بیرس (1914-1842 ,Ambrose Gwinnett Bierce) کا ایک قول ہے :
Philosophy is a route of the many roads leading from nowhere to nothing. فلسفہ بہت سے راستوں کا ایک سفر ہے جو کہیں سے نہ شروع ہوتا اور نہ کہیں ختم ہوتا ہے۔ فلسفہ کو قدیم زمانے میں علوم کی ملکہ (Queen of Arts) کہا جاتا تھا۔ پچھلے 5000 سال کے اندر اعلیٰ ترین دماغوں نے فلسفہ کے میدان میں اپنی محنتیں صرف کی ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسفہ کی تحقیق پر جتنا کام ہوا ہے ، اتنا کسی بھی دوسرے شعبہ علم میں نہیں ہوا۔ اس کے باوجود فلسفہ ہی واحد علمی شعبہ ہے جس کا کوئی مثبت حاصل نہیں۔ فلسفہ نے ذہنی الجھاؤ اور پر پیچ بحثوں کے سوا انسان کو کچھ اور نہیں۔ حتیٰ کہ آج تک یہ بات بھی واضح نہ ہوسکی کہ فلسفہ کا آغاز کیا ہے اور اس کا انتہا کیا۔ فلسفہ کی اس ناکامی کی وجہ صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ فلسفہ ایک ایسے میدان میں کام کر رہا ہے جہاں کوئی حقیقی کامیابی حاصل کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں۔
فلسفہ کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے : آخری حقیقت (ulltimate reality) کو عقل کے
ذریعہ دریافت کرنا۔ چونکہ انسان کی عقل محدود ہے، وہ کلی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ محدودیتوں (limitations) کی وجہ سے تنہا حقیقتِ اعلیٰ کو دریافت نہیں کر سکتا۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر فلسفہ اپنی کوششوں میں ناکام رہا۔
اس محدودیت کی بنا پر انسان کے لیے اس دنیا میں صرف دو options ہیں۔ یا تو وہ جزئی علم پر قناعت کرے جیسا کہ سائنس نے موجودہ زمانہ میں کیا ہے یا وہ الہام سے مدد لے کر کلی حقیقت تک ان دو کے سوا تیسری کوئی صورت اگر ہے تو وہ صرف تشلیک ہے اور تشلیک عملی طور پر ممکن نہیں۔ حکمت کیا ہے قرآن میں اللہ کے رسول کے بارے میں آیا ہے کہ وہ کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں (البقرہ، لیکن حکمت ایسی چیز نہیں جو محض الفاظ کے ذریعے مکمل طور پر منتقل کی جا سکے، جیسے کہ قرآن کو الفاظ میں نازل کیا گیا۔ حکمت کو الفاظ میں قید نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس کا تعلق زندگی کے مختلف حالات سے ہوتا حکمت ایسی چیز ہے جسے عملی تجربات اور حالات کے تحت اخذ کرنا پڑتا ہے، اور جیسا کہ معلوم ہے وقت اور حالات کبھی یکساں نہیں رہتے، اس لیے ہر دور میں گہری بصیرت کے ذریعے حکمت کو دریافت کرنا ہوتا ہے۔ بدلتے ہوئے اور ناموافق حالات میں کسی اقدام کو کامیابی سے ہمکنار کرنا___ یہی دراصل حکمت ہے۔ کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا گہرا مطالعہ کیا جائے، اور اس میں بصیرت کے ساتھ پیغمبرانہ حکمت کو دریافت کیا جائے_ مثلاً: آپ کی بعثت کے وقت خانہ کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے، لیکن اس معاملے میں آپ نے کوئی لفظی ہدایت نہیں دی۔ اس کے بجائے، آپ نے اپنے عمل سے رہنمائی کی۔ لہٰذا ہمیں بھی غورو فکر کے ذریعے آپ کے طرزِ عمل سے حکمتیں اخذ کرنی ہوں گی۔
فقہا نے فقہ کو صرف مسائل احکام تک محدود کر دیا، مزید یہ کہ فرضی مسائل کا ایک انبار کھڑا کر دیا، مگر یہ ایک ایسی روش تھی، جس کو ان سے پہلے صحابہ کرام اور تابعین نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا تھا۔ فقہ ان حقیقی حالات میں پوشیدہ ہے جن کا سامنا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا۔ اگر ان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو حکمت کے بہت سے نئے گوشے کھل کر سامنے آتے ہیں، جن پر غور وفکر کر کے ہم انہیں موجودہ حالات کے مطابق اختیار کر سکتے ہیں۔ (مولانا وحید الدین خان صاحب سے گفتگو پر مبنی)