Al-Risala · July 2025

ایک انٹرویو

Al-Risala, July 2025, pp. 47–49

By Maulana Wahiduddin Khan

(زیر نظر انٹر ویو مسٹر یوگندر سکند (پیدائش (1967) نے 10 اگست 2007 کولیا تھا۔ اس کی ریکارڈنگ بھی ہوئی تھی، جو سی پی ایس سینٹر میں موجود ہے۔ اس انٹرویو کا خلاصہ افادیت کے پیش نظر دوبارہ شائع کیا جارہا ہے)

س: آپ مدارس کے نظام کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس وقت مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی ضرورت کی بات ہورہی ہے؟

ج: بعض دوسرے لوگوں کی طرح میں مدارس کا مخالف یا اس کا ناقد نہیں۔ مذہبی اور سیکولر دونوں نظام ہائے تعلیم کی ضرورت ہے۔ مسلم بچوں کو دونوں طرح کے مضامین کی واقفیت ہونی چاہیے۔ لیکن تمام مسلم طلبہ کے لیے یہ مطلقا ضروری نہیں کہ وہ کل وقتی طور پر مدرسہ جا کر عالم بننے کی تربیت حاصل کریں۔ البتہ اتنا ضروری ہے کہ سماج کا ایک طبقہ علم دین حاصل کرے تا کہ مذہبی تعلیم کے حصول کی روایت باقی رہے۔ ہمیں مدارس کے تربیت یافتہ ایسے علما کی ضرورت ہے جو قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کے واقف کار ہوں۔ جہاں تک مدارس میں اصلاح کی ضرورت کا سوال ہے حقیقت یہ ہے کہ میں مدارس کی جدید کاری میں یقین نہیں رکھتا۔ آپ قرآن وحدیث کی جدید کاری نہیں کر سکتے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس سیاق میں جدید کاری یا جدت پسندی کی بات بالکل بے محل اور غیر ضروری ہے۔ جدید کاری کے تعلق سے میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے جدید اسکول اور یونیورسٹیوں میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس نکتے کو وہ لوگ جو مدارس میں اصلاح کے زبردست طور پر حامی ہیں، فراموش کر دیتے ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کا کوئی بھی نصاب ہر طرح سے مکمل نہیں کہا جا سکتا۔ نصاب سے زیادہ اہمیت اس کو پڑھانے والے کی اس لیے کہ کتابیں نہیں پڑھاتیں اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مدارس میں فلسفے اور منطق کی صدیوں پرانی یونانی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ

یونیورسٹیز کے انگریزی شعبے میں بھی صدیوں سال پہلے لکھی ہوئی کلاسیکل کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ میری نظر میں نصاب کا مسئلہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اصل مسئلہ باصلاحیت اور ذمہ دار اساتذہ کا ہے، ہمیں اصلَّا ان کی ضرورت ہے۔

س: تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ کو جدید مضامین سے روشناس کرانے کی ضرورت نہیں ہے؟

ج: میری تجویز یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے علیحدہ ایسے تعلیمی اداے قائم کیے جانے چاہئیں جہاں مدارس کے طلبہ فراغت کے بعد جدید مضامین کی تعلیم حاصل کر سکیں۔ خاص طور پر مختلف زبانیں جیسے انگریزی، ہندی، وغیرہ۔ خود میں نے ایک روایتی مدرسے میں تعلیم مکمل کی اور پھر اپنے طور پر انگریزی سیکھی اور دوسرے جدید مضامین پڑھے۔ میرا خیال ہے کہ مدارس کے نصاب کے ساتھ ساتھ اگر مدارس کے طلبہ کو جدید مضامین پڑھنے پر مجبور کیا جائے تو بلاشبہ یہ ان پر بوجھ بن جائے گا جسے وہ نہیں اٹھا پائیں گے۔ اس سے مدرسے کا تعلیمی نظام بکھر جائے گا۔ س: حالیہ دنوں میں مدارس کے فارغ طلبہ کے لیے اس طرح کے ادارے جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے، قائم کیے گئے ہیں، آپ اس ظاہر رے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ ج: میری نظر میں یہ نہایت خوش آئند قدم ہے۔ اگر چہ اسے مزید منظم انداز میں کیا جانا اس طرح کے اداروں میں بہر حال ایسے اساتذہ کی کمی ہے جو پوری اسپرٹ کے ساتھ تدریسی ذمہ داری نبھانے پر کمر بستہ ہوں۔ ہمارے دور میں مدرسۃ الاصلاح میں ایسے اساتذہ تھے۔ نے ہمارے اندر تلاش و تجسس کی روح پیدا کی۔ تلاش و تجسس کی یہی روح اصل میں علم و معرفت کی بنیاد ہے، اس کے بغیر کوئی شخص تعلیم کی راہ پر ترقی نہیں کر سکتا۔ اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی اس وقت ہمارے پاس مدارس کے اساتذہ کی ٹریننگ کے لیے کوئی ادارہ نہیں ضرورت ہے کہ اساتذہ مدارس کو چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت اور اس سے متعلقہ امور کی ٹریننگ دی جائے۔ میرے خیال میں یہ ایک اہم ایشو ہے جس پر مسلم تنظیموں کو توجہ دینی چاہیے۔

س: مدرسہ کے فارغ علما اور یونیورسٹی کے تربیت یافتہ دانش وروں کے درمیان جو شدید دوری اور ثنویت پیدا ہوگئی ہے، آپ کی رائے میں اسے کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟

ج: میرے بچپن میں یہ دوئی اتنی واضح نہیں تھی۔ اس وقت سیکولر تعلیم گاہیں اخلاقی اقدار سے اس قدر دور نہیں تھیں لیکن اب صورتحال بہت زیادہ افسوسناک ہے۔ دونوں طبقوں کے درمیان اس دوئی اور کھائی کو دور کرنے اور پاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں نظام تعلیم کے طلبہ واساتذہ کے درمیان خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، زیادہ سے زیادہ اختلاط اور میل جول ہو۔ ماضی میں ایسا ہوتا تھا۔ بہت سے ہند ومدرسوں میں پڑھتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ چونکہ اب ان دونوں طبقوں کے درمیان اس نوع کا میل ملاپ اور باہمی قربت باقی نہیں رہی، اس لیے ان دونوں کے اندر مفاہمت کی کمی پائی جاتی ہے۔ س: بعض علما آپ کی اس رائے پر چیں بہ جبیں ہوں گے اور کہیں گے کہ اس طرح کے میل جول سے مدرسہ کے طلبہ کی مذہبی نفسیات پر برا اثر مرتب ہوگا۔ اس تعلق سے کیا کہنا چاہیں گے؟ ج: مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ہر کسی سے سیکھتے تھے اور ان کا یہ سیکھنا مختلف قسم کے لوگوں سے میل جول کے ذریعہ ہوتا تھا۔ دوسروں کے ساتھ میل جول کے ذریعہ آپ اپنی اخلاقیات کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیز اس کے ذریعہ آپ دوسرے لوگوں کی صحیح شناخت اور ان کا احترام بھی کر سکتے ہیں۔ مدارس اور ان کے طلبہ کو دوسروں کے ساتھ میل ملاپ پر مائل کرنے اور ان کو مدرسہ کی چہار دیواری سے باہر نکالنے کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے ان کے اندر مشنری اسپرٹ بھر دی جائے۔ اس مقصد کے لیے مدارس کی طرف سے کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں جن میں مدارس اور یونیورسٹیز کے لوگوں کو، جن میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں شامل ہوں ، بلایا جائے۔ دونوں طرف معلومات کے دروازے کو کھولنے اور باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا زبردست ذریعہ ہوگا۔ خود میری مثال لیجیے! میں روزانہ مختلف مذاہب اور سماجی پس منظر کے لوگوں سے ملتا ہوں۔ اللہ کی نعمت سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اس عمل کے ذریعہ میں مختلف طرح کی معلومات ، دوسروں کے تعلق سے انسانی جذبہ یگانگت، نئے تجربات اور اخلاقی اقدار سیکھتا اور حاصل کرتا ہوں۔

Printed page